آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس موضوع پر کالم لکھنے سے پہلے میں ذہنی طور پر کافی کشمکش کا شکار رہا‘ کبھی سوچتا تھا کہ اس ایشو پر سندھ کے عوام کے جذبات سے پاکستان کے نئے حکمران، جنہوں نے ’’نئے پاکستان‘‘ کا خواب دکھایا ہے کو آگاہ کیا جائے مگر کبھی سوچتا تھا کہ ایک تو ’’نئے پاکستان‘‘ کی اب گاڑی چل پڑی ہے‘ وہ سندھ کے عوام جیسے بھولے بسرے لوگوں کے لئے اس گاڑی کوروکنا تو کیا اس کی رفتار دھیمی کرنا بھی کیوں مناسب سمجھیں گے جبکہ خود سندھ کی اکثر سیاسی جماعتیں جو درحقیقت سندھ کے حکمران طبقوں کی نمائندہ ہیں اور موقع ملنے پر خود سندھ کے عوام کو لوٹتی رہی ہیں تو ایسے لوگوں کی شکایتوں کا کیوں نوٹس لیا جائے جن کے اپنے بھی اپنے ثابت نہیں ہوئے اور اس وقت بھی یہ طبقے موقع کی تلاش میں ہیں کہ ایک بار پھر سندھ اور اس کے محکوم عوام کو لوٹ کر اپنا پیٹ بھرلیں مگر کم سے کم ایک بات ضرورقابل اطمینان ہے کہ نچلے طبقے کی دو سیاسی تنظیمیں جو پہلے کتنی ہی کمزور تصور کی جاتی تھیں انہوں نے اس عذاب کا نوٹس لیا ہے جو بقول ان کے نہ فقط ’’نئے پاکستان‘‘ کی شکل میں ایک آفت ان پر نازل ہورہی ہے مگر خود ان کے سرداروں‘ نوابوں اور زرداروں کی جماعتیں بھی بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس بار بھی کسی طرح اس لوٹ مار میں حصہ دار بننا چاہتی ہیں‘ ان میں سے ایک تنظیم ’’عوامی تحریک‘‘ ہے جس کے سربراہ مرحوم رسول بخش پلیجو تھے جو حال ہی میں انتقال کرگئے ہیں‘ گزشتہ کئی دنوں سے عوامی تحریک کے مرد و خواتین کارکن صوبے کے مختلف شہروں اور علاقوں میں جلوس نکال کر نہ فقط سندھ کو نظر انداز کیے جانے والے ’’نئے پاکستان‘‘ کے خواب کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں بلکہ متعدد مشکلات جن میں سندھ کافی عرصے سے گھرا ہوا ہے ، کے خلاف بھی احتجاج کررہے ہیں ۔ مثال کے طور پر ان ایشوز میں دریائے سندھ کو سندھ سے محروم کرنے اور سندھ بھر میں پیدا ہونے والی پانی کی شدید کمی‘ روز بروز سندھ کے سیاسی کارکنوں کو خفیہ طور پر اغوا کرکے گم کرنے کی کارروائیاں‘ سندھ کو تقسیم کرنے کی باتیں دوبارہ شروع کئے جانے کے امکانات ‘ کراچی سمیت سندھ کے دیگر علاقوں میں کئی لاکھ غیر قانونی غیر ملکیوں کو ہر قسم کی سرگرمی کرنے کی آزادی حالانکہ 2010ء اور 2011 ء میں اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران اس بات کی طرف مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت کی توجہ مبذول کرانے کے بعد سخت ہدایات جاری کرچکے ہیں کہ ان کو فوری طور پر کیمپوں میں منتقل کرنے کے بعد انہیں اپنے اپنے ملکوں کو واپس بھیجا جائے‘ این ایف سی ایوارڈ پر گزشتہ آٹھ سال تو عمل نہیں کیا گیا مگر ’’نئے پاکستان‘‘ کا خواب دکھانے والے حکمران اطلاعات کے مطابق اس ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والی رقوم سے 8 فیصد کٹوتی کرنے پر بضد ہیں‘ وغیرہ وغیرہ‘ اس تنظیم کی طرف سے ختم ہونے والے یہ جلوس اور یہ مطالبات دیکھ اور سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یا تو پلیجو صاحب انتقال نہیں کرگئے بلکہ زندہ ہیں اور کسی مقام سے اپنی اس جماعت کی رہنمائی کررہے ہیں یا پلیجو صاحب کی روح سندھ کے عوام اور اپنی جماعت کی رہنما ئی کررہی ہے جس دوسری جماعت کا میں نے ذکر کیا وہ سندھ ترقی پسند پارٹی ہے اور اس کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی ہیں جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں نواب شاہ کی قومی اسمبلی کی نشست پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری کا مقابلہ کیا اور ہارگئے۔ اس مرحلے پر میں سندھ کے جن بھی شناسا اور سمجھدار لوگوں سے ڈاکٹر قادر مگسی کا ذکر کرتا تھا تو ان کی اکثریت ان کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھی مگر تقریباً ایک ہفتہ قبل انہوں نے ترقی پسند ہائوس میں سندھ کے کچھ ممتاز شہریوں کے اعزاز میں ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا تھا‘ اس تقریب کے وہ واحد مقرر تھے اور انہوں نے ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں اس وقت سندھ کو درپیش مشکلات کا تفصیل سے اظہار کیا۔ ان کی تقریر کا اہم حصہ یہ تھا کہ انہوں نے سندھ کے حکمران طبقوں کی ساری جماعتوں میں سے کسی کو نہیں بخشا اور ان پر خوب تنقید کی‘ سب سے پہلے انہوں نے پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کے سارے ’’عزائم‘‘ کو سندھ کے مفادات کے منافی قرار دیا‘ اس کے بعد انہوں نے خاص طور پر پیروں اور جاگیرداروں کی طرف سے ’’جی ڈی اے‘‘ کے نام سے بنائے گئے اتحاد کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ اتحاد سندھ کے لئے پیپلز پارٹی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوگا۔ اس مرحلے پر میں اس بات کا بھی ذکر کرتا چلوں کہ عام انتخابات کے بعد میں اکثر کالموں میں پی ٹی آئی کی پالیسیوں اور اقدامات کا ذکر کرتا رہا ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ اس بار میں اپنے کالم کو پی پی اور اس کی سندھ حکومت کے بارے میں استعمال کرنا چاہتا تھا مگر خوش قسمتی سے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کا ایک بیان بدھ 5 ستمبر کو پڑھ کر سندھ کے عوام کو کسی حد تک تسکین ملی کہ چلیں دیر سے ہی صحیح سندھ کے وزیر اعلیٰ نے سندھ کے مسائل کا ذکر تو کیا۔ اس بیان میں سید مراد علی شاہ نے جو باتیں کہ ہیں وہ مختصر یہ ہیں : وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں 8 فیصد کی کمی کررہی ہے‘ ’’نئے وزیر اعظم نے مایوس کیا ہے‘‘ وزیر اعظم نے اپنے 100 روزہ ایجنڈے میں نیا مالیاتی ایوارڈ دینے کا اعلان نہیں کیا‘ وفاقی حکومت سندھ کو مالیاتی ایوارڈ کا مکمل حصہ نہیں دے رہی ہے‘ گزشتہ وفاقی حکومت نے سندھ کو پانی کا حصہ نہیںدیا ِ،سندھ مالی بحران کا شکار ہے‘ وفاقی حکومت پرویز مشرف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صوبوں کو بااختیار دیکھنا نہیں چاہتی اور یہ کہ ’’پی پی صوبائی خود مختاری کا دفاع کرے گی‘‘۔ جہاں تک صوبوں کے بلدیاتی اداروں کو ’’زیادہ‘‘ اختیارات دینے کی بات ہے تو اس منصوبے کا سندھ کے عوام پر بڑا شدید ردعمل ہورہا ہے۔ باخبر ذرائع نے یاد دلایا ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے دور میں ملک بھر میں جو بلدیاتی نظام رائج کیا تھا اس کے نتیجے میں صوبوں کو اختیارات سے محروم کرکے سارے بلدیاتی اداروں کو متعلقہ صوبوں کی بجائے مرکزی حکومت کے تابع بنایا گیا‘ یہ آئین اور صوبائی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی تھی‘ لہذا سندھ صوبے میں اس نظام کے خلاف تحریک چلی اور سندھ کی حکومت کو یہ نظام واپس لینا پڑا‘ سندھ کے کئی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ نظام اس وجہ سے لایا جارہا ہے کہ خاص طور پر سندھ میں ایک بار پھر نسلی فسادات شروع ہوں۔ پچھلے ایک دو کالموں میں‘ میں عمران خان کی طرف سے پیش کیے گئے ’’تبدیلی‘‘ کے پروگرام اور خاص طور پر ان کے چار نکاتی ایجنڈے کا ذکر کرچکا ہوں کہ سندھ کے عوام میں ان کے خلاف شدید اشتعال پھیلا ہوا ہے‘ سندھ کے لوگوں نے اس بات کا بھی نوٹس لیا ہے کہ سندھ کے گورنر‘ سندھ میں بنائے جانے والے مشیروں‘ وزراء کے بارے میں آنے والی اطلاعات کی روشنی میں اس نتیجے میں پہلے ہی پہنچ چکے ہیں کہ عمران خان کے نزدیک شایدسندھ میں کوئی بھی لائق آدمی نہیں جسے اپنا مشیر‘ وزیر یا اعلیٰ عہدے پر مقرر کیا جائے مگر اب جو حکومت کی طرف سے حال ہی میں 18 ممبران پر مشتمل اقتصادی ایڈوائزری کونسل بنائی گئی ہے اس میں بھی سندھ لاپتہ ہے حالانکہ ملک میں سندھ سے تعلق رکھنے والے ممتاز اقتصادی ماہرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے مگر ان میں سے کوئی بھی ’’کپتان‘‘ اور ان کے مشیروں کو نظر نہیں آئے یا پسند نہیں آئے ۔ سندھ میں ان اقدامات کی وجہ سے یہ سوالات ابھر رہے ہیں کہ ’’کیانئے پاکستان میں سندھ کا کوئی حصہ نہیں ؟‘‘۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں