آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم عمران خان نے پانی کی شدید قلت کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے ملک میں ڈیموں کی تعمیر کیلئے مقامی اوردنیا بھر میں موجود پاکستانیوں سے مدد مانگ کر ایک ایسے مسئلے کے حل کے لیے پیش رفت کی ہے جس پر ماضی کی حکومتوں نے خاطر خواہ توجہ دی ہوتی تو ملک آج خشک سالی اور قحط کے سنگین خطرات سے دوچار نہ ہوتا۔ایوب خان کے دور میں منگلا اور تربیلا بند بنائے جانے کے بعد پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کسی عملی اقدام کے مکمل فقدان کو مجرمانہ غفلت اور بدترین عاقبت نااندیشی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔کالا باغ ڈیم کی تمام تر افادیت کے باوجود ہماری سیاسی قیادتیں اس پر اختلافات میں الجھی رہیں اور عام تاثر یہ ہے کہ اتفاق رائے کی کوئی ٹھوس اور سنجیدہ کوشش کی ہی نہیں گئی۔تاہم کالا باغ ڈیم پر اختلافات کا خاتمہ محال تھا تو دوسرے ڈیموں پر توجہ دی جانی چاہیے تھی جن میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم نمایاں ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت سے پہلے اس سمت میں بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کے مطابق دیا مر بھاشا ڈیم کا مشرف اور پیپلز پارٹی کے دور میں دو بار افتتاح ہوا مگر ایک مرلہ زمین بھی حاصل نہیں کی گئی جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ایک ارب ڈالر میںدیا مر بھاشا کے لیے زمین حاصل

کرنے کے علاوہ چین کو سی پیک کے تحت اس کی تعمیر میںشرکت پر رضامند کیا اور 2018کے بجٹ میں 23 ارب روپے بھاشا اور دو ارب روپے مہمند ڈیم کے لیے رکھے گئے ۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اتنے بڑے منصوبوں کے لیے جتنے خطیر مالی وسائل درکار ہوتے ہیں ان کی فراہمی بالعموم عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون ہی سے ممکن ہوتی ہے لیکن بھارت کی ریشہ دوانیوں کے سبب بھاشا ڈیم کے لیے کسی بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی شراکت ممکن نہیں رہی جس کے بعد پاکستانی قوم کے لیے ضروری تھا کہ اس منصوبے کے لیے خود ہی مالی وسائل فراہم کرے چنانچہ شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمیٰ کے دوران چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے ملک کے لیے پہلی آبی پالیسی تشکیل دی گئی۔ تاہم انتخابات میں کامیابی کے بعد اب یہ ذمہ داری ملک کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت پر آپڑی ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ یہ کام جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ یہ امر قابل اطمینان ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کی خاطر مالی وسائل کے لیے انہوں نے جدوجہد شروع کردی ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ اس ضمن میں پہلے ہی عملی کاوش کا آغاز ڈیم فنڈ کے قیام کی شکل میں کرچکے ہیں جبکہ وزیر اعظم نے چیف جسٹس اور اپنے فنڈ کو یکجا کرتے ہوئے یورپ اور امریکا میں مقیم پاکستانیوں سے ایک ہزارڈالرفی کس ڈیم فنڈ میں جمع کرانے کی اپیل کرنے کے علاوہ سعودی عرب، اور پورے مشرق وسطیٰ میں مقیم پاکستانیوں سے کہا ہے کہ، وہ اپنی استطاعت کے مطابق عطیات بھیجیں‘ کیونکہ ڈیم نہ بنائے توسات سال بعد پینے کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہوگا۔انتہائی خوش آئند بات ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے وزیر اعظم کی اپیل کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور ایک معقول رقم جمع ہونے کے امکانات روشن ہیں لیکن تمام تر انحصار اسی ایک ذریعے پر کرنے کے بجائے دیگر ممکنہ ذرائع کااختیار کیا جانا بھی ضروری ہے۔ سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ نے اس ضمن میں اہم امور کی نشان دہی کی ہے۔ان کے مطابق ورلڈ بینک نے نیلم جہلم منصوبے کے لیے رقم فراہم کرنے سے انکار کردیا تو بجلی کے بلوں میں دس پیسے سرچارج لگایا گیا اور سپلائر کریڈٹ سے وسائل حاصل کیے گئے جس کے نتیجے میں منصوبہ چل پڑا۔ انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کے لیے کمپنیاں بنائی جائیں اور مقامی اور بیرون ملک پاکستانیوں سب کو شیئرز کی شکل میں اس میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے تو پوری قوم اس پروجیکٹ کی شراکت دار بن سکتی ہے۔ یہ بظاہر ایک قابل عمل اور مفیدتجویز ہے اوراس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ زراعت میںآب پاشی کے کفایت پر مبنی جدید طریقوں کا متعارف کرایا جانا بھی ناگزیر ہے تاکہ پانی کی زیادہ سے زیادہ بچت ممکن ہو۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں