آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ممبئی میں 26 نومبر 2008ء کے دہشت گرد حملوں کے مجرم اجمل عامر قصاب کو بروڈا سنٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ 26/11 کے دہشت گرد حملوں میں صرف اجمل قصاب ہی ایک ایسا دہشت گرد تھا جسے زندہ گرفتار کیا گیا تھا۔ قصاب نے بھارتی سپریم کورٹ کے ذریعہ پھانسی کی سزا دیئے جانے کے بعد صدر پرنب مکھرجی سے رحم کی درخواست کی تھی لیکن وزارت داخلہ نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ صدر وزارت داخلہ کے مشورے ہی سے اقدام اٹھاتے ہیں۔ مرکزی وزی داخلہ سشیل کمار شنڈے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ قصاب ایک ہائی پروفائل دہشت گرد تھا جس پر پاکستان سمیت پوری دنیا کی نظریں تھیں ایسے میں حکومت چاہتی تھی کہ قصاب کی پھانسی کے معاملے کو زیادہ اہمیت نہ ملے اس لئے بھارتی حکومت نے قصاب کو چپ چاپ تختہ دار پر لٹکانے کا فیصلہ کیا۔
میں قانون کے پہلے سال کا طالب علم رہا ہوں اس لئے صرف اتنا جانتا ہوں کہ اجمل قصاب کے لئے دفاع ممکن نہیں تھا کہ عوام پر گولیاں چلاتے اسے رنگوں ہاتھوں پکڑا گیا تھا لیکن بھارتی کرمنل پروسیجر کوڈ کے بموجب ہر ملزم کا ایک وکیل ہونا چاہئے۔ 26 نومبر 2008ء کو ممبئی پر دہشت گردانہ حملے کے دوران زندہ گرفتار کئے جانے والے دہشت گرد اجمل قصاب کے مقدمے کے بارے میں ایک رائے واضح تھی جس کا بار بار دنیا اظہار بھی کرتی رہی کہ اس

مقدمے سے بہت کچھ ظاہر ہو جائے گا بالخصوص دہشت گردوں کے سرغنوں اور آقاؤں کے بارے میں۔ یہ دہشت گردی کا مقدمہ جو کچھ کہہ رہا تھا وہ تو کہہ ہی رہا تھا مگر جو نہیں کہہ رہا تھا وہ بھی کہہ رہا تھا۔ دنیا بھر نے اجمل قصاب کو ٹیلی ویژن کی سکرین پر گولیاں چلاتے دیکھا ہے جس سے لگ بھگ دو سو معصوم جانوں کی ہلاکت ہوگئی۔ قصاب نے اپنے اس بھیانک فعل پر کسی قسم کی ندامت یا شرمندگی کا اظہار تک نہ کیا بلکہ الٹا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اور باقاعدہ طور پر عدالت میں حاضر کئے جانے کے دوران اجمل قصاب کو زیادہ تر اوقات میں مسکراتے ہوئے یا ہنستے ہوئے دیکھا جاتا رہا۔ میں جب سکرین پر ایسے مناظر دیکھتا تو سوچتا تھا کہ شاید وہ سمجھ نہیں پا رہا کہ اس کے خلاف کتنے سنگین الزامات ہیں اس کی سزا موت یا عمر قید بھی ہو سکتی ہے، پھر سوچتا وہ ملک جہاں آدھی صدی سے قانون اور دستور کا لحاظ نہیں کیا جاتا وہاں اجمل قصاب جیسے لوگ ہی پیدا ہوں گے۔
ممبئی پر دہشت گرد حملوں کے چار سال مکمل ہونے والے ہیں (چار روز کے بعد) بھارتی صدر کے پاس رحم کی اپیلوں کی ایک طویل فہرست ہے جن کی تعداد 29 بتائی جاتی ہے ان عرضیوں میں لگ بھگ 50 لوگوں کی زندگی و موت کا فیصلہ لٹکا ہوا ہے ایسی صورت میں قصاب کا نمبر 51 واں بنتا تھا لیکن اسے جس تیزی اور سرعت سے پھانسی گھاٹ پر پہنچایا گیا اس سے لگتا ہے کہ بھارتی حکومت نہیں چاہتی تھی کہ ملکی یا بین الاقوامی میڈیا میں اس خبر سے شور شرابہ ہو۔ قصاب کی پھانسی کی پوری کارروائی کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا۔ اس کارروائی کو ”آپریشن ایکس“ کا نام دیا گیا۔ تختہ دار پر لٹکانے کی پوری کارروائی کو انجام دینے کے لئے 17 میں سے 15 افسران کے سیل فون بند کر دیئے گئے تھے ان میں سے صرف انسداد دہشت گردی سیل کے چیف راکیش ماریا اور جوائنٹ پولیس کمشنر دیوین بھارتی کے موبائل آن تھے، ”آپریش ایکس“ کو اس قدر خفیہ رکھا گیا تھا کہ وزیر اعظم سونیا گاندھی و راہول گاندھی کو بھی اس کی اطلاع نہ تھی حتیٰ کہ جلاد کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کسے پھانسی دینے جا رہا ہے۔
مہاراشٹر میں (جہاں قصاب کو پھانسی دی گئی) صرف وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کو پھانسی کے وقت کے بارے میں معلوم تھا۔ میرے حساب سے بھارتی حکومت نے جس خاموشی سے اجمل قصاب کو پھانسی دی ہے اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ پاکستان نے اس بار ”پھر اپنے لوگوں“ کی لاش لینے سے انکار کیا ہے اس سے قبل وہ کارگل میں بھی ”مجاہدین“ کی میتیں لینے سے یکسر انکار کر چکا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کے مطابق اجمل قصاب کی ماں کے علاوہ حکومت پاکستان کو بھی اطلاع دے دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا بھارتی سفارت خانے کے ذریعے پاکستانی وزارت خارجہ کو اطلاع بھیجی گئی تھی جسے انہوں نے قبول نہیں کیا تو فیکس کے ذریعے تمام معلومات دی گئیں مگر انہوں نے اجمل قصاب کی لاش لینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ بھارتی قانون کے مطابق کیا گیا ہے اور آج پھر ثابت ہوگیا ہے کہ اس ملک پر قانون کی حکمرانی ہے۔
یورپین اخبارات نے بھی پاکستانی دہشت گرد کہہ کر اجمل قصاب کے بارے میں کئی تفصیلی مضامین اور اداریئے لکھے ہیں۔ ان کے مطابق ممبئی حملوں کے مجرم پاکستانی دہشت گرد قصاب کو بھارتی قانون کے مطابق پھانسی دی گئی ہے۔ بھارت نے بغیر کسی تفریق کے قصاب کو خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے تمام مواقع مہیا کئے تھے جس پر بھارتی حکومت کے لگ بھگ 40 کروڑ روپے اخراجات ادا کئے گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت نے نومبر 2008ء سے اکتوبر 2012ء تک 26 کروڑ اجمل قصاب پر خرچ کئے جبکہ مہاراشٹر حکومت نے 13 کروڑ روپے ایک دہشت گرد کو زندہ رکھنے کے لئے عوام کے ٹیکس سے ادا کئے۔ وزیر داخلہ نے یہ نوید دے دی ہے کہ قصاب کی حفاظت اور طعام و قیام پر جو اخراجات اٹھے ہیں وہ ریاستی حکومت برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ممبئی حملے مہاراشٹر پر حملہ نہیں ہے بلکہ پورے بھارت پر ہے اس لئے تمام اخراجات مرکزی حکومت کو اٹھانے چاہئے۔ پاٹل نے یہ بھی بتایا کہ قصاب کو پھانسی پر لٹکانے والے جلاد کو 5 ہزار معاوضہ دیا گیا ہے جبکہ پہلے جلاد کو محض دس روپے معاوضہ دیا جاتا تھا لیکن اب 5 ہزار دیئے جاتے ہیں، یہاں ایک دلچسپ اور سبق آموز بات بتانی یہ بھی ضروری ہے کہ دہشت گرد قصاب سے لوگوں کی نفرت کا یہ عالم ہے کہ قصاب کو مفت میں پھانسی کی سزا دینے کے لئے 13 جلادوں نے اپنی خدمات پیش کیں لیکن بھارتی حکومت نے سب پیشکش ٹھکرا دیں اور سرکاری جلاد کو ہی اس کام کے لئے منتخب کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں