آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہفتہ کے روزلاہور گلبرگ کے علاقہ ایم ایم عالم روڈ پر واقع ایک پلازہ کی بیسمنٹ میں موجود جنریٹر سے لائن تبدیل کرنے کے دوران آگ لگ گئی۔ جس سے ایک شخص جاں بحق اور 7شدید زخمی ہوگئے جبکہ 150سے زائد افراد کو بحفاظت پلازہ سے نکال لیا گیا۔آگ لگنے کی وجہ سے کروڑوں روپے کے سامان کیساتھ ساتھ پلازہ میں مبینہ طور پر موجود ایک سرکاری دفتر کا اہم ریکارڈ بھی جل کر راکھ ہو گیا ۔ریسکیو زرائع کے مطابق فائر بریگیڈ کی 7سے زائد گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف رہیں ، جنہیں پلازہ میں دھواں بھر جانے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا رہا۔یہ اپنی نوعیت کا پہلاواقعہ نہیں بلکہ آئے روز لاہور، کراچی ، روالپنڈی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کے کمرشل مراکز میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال میں اب تک آتشزدگی کے 430واقعات رونما ہو چکے ہیں ، جن میں 27قیمتی جانوں اور اربوں روپے کا ضیاع ہو چکا ہے۔ایسے نا خوشگوار واقعات کی بڑی وجہ کمرشل عمارتوں میں آگ لگنے کی صورت میں بنیادی حفاظتی انتظامات اور آگ بجھانے کے نظام کی عدم موجودگی ہے۔بلڈنگ مالکان ماہانہ لاکھوں روپیہ کرایہ کی مد میں کماتے ہیں ، مگر عمارت کی تعمیر کے وقت بنیادی حفاظتی اقدامات کے پیش نظر نہ تو متبادل ہنگامی راستہ بناتے ہیں نہ ہی آگ بجھانے کا نظام نصب

کرتے ہیں۔اکثر عمارتوں میں آگ بجھانے کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں، جہاں ایسا نظام نصب کیاگیا ہے وہاں فعال نہیں ہے۔ سابقہ حکومت نے فروری 2017ءمیں آگ سے بچائوکو یقینی بنانے کیلئے نیا بلڈنگ کوڈ آف پاکستان نافذ کیا تھا، جو پاکستان انجینئرنگ کونسل اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے تیار کروایا گیا تھا، مگر افسوس کہ بڑے شہروں کی مقامی انتظامیہ ابھی تک اُس پر مکمل طور پر عملدرآمد کروانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر کی تمام بڑی کمرشل عمارتوں میں جنگی بنیادوں پر آگ بجھانے کا نظام نصب کروایا جائے تاکہ ایسی ہنگامی صورتحال میں سنگین نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں