آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دبئی میں گزشتہ ہفتے ہونے والے ’ورلڈ اکنامک فورم‘ کے سالانہ اجلاس میں دہشت گردی اب عالمی کمیونٹی کے مباحث میں مزید شامل نہیں تھی۔ اس کے بجائے دیگر معاملات سرفہرست تھے جیسے عالمی معاشی عدم استحکام، طاقت کی منتقلی اور چین کا عروج، وسائل کی قلت، عالمی گورننس کے اداروں کا ناکافی پن، موسم کی تبدیلی اور شدت، نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری، سائبر سیکورٹی اور نئی ٹیکنالوجیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیکورٹی رسک (وغیرہ)۔ نہایت اعلیٰ غور و فکر کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے ایونٹ ’دبئی سمٹ‘ کا یہ پانچواں سال تھا جس میں دنیا کے80ممالک سے ایک ہزار کے قریب فیصلہ ساز اشخاص، ماہرین اور فکری رہنما اکٹھے ہوئے۔ اہم ترین معاملات پر ان کے مباحثوں کا مقصد عالمی، علاقائی اور صنعتی ایجنڈوں کی تشکیل تھا جو جنوری2013ء میں ڈیوس میں ہونے والی ’ڈبلیو ای ایف‘ کی قائدانہ تقریب کے لئے انٹے لیک چوئل ان پٹ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ دبئی سمٹ میں زیر بحث لائے گئے مختلف مسائل کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے والی تھیم یہ تھی کہ دنیا عظیم مگر غیر یقینی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے جہاں بے شمار موقعوں کے ساتھ اتنے ہی خطرات اور چیلنجز بھی موجود ہیں۔ سمٹ سے قبل کئے گئے ’گلوبل ایجنڈا سروے‘ میں وہی بات سامنے آئی تھی جسے ’ڈبلیو ای ایف‘ کے

اراکین نے سب سے اہم ترین رجحانات قرار دیا جو امکانی طور پر آئندہ18ماہ کے دوران دنیا پر اثر انداز ہوں گے۔ پندرہ سرفہرست تبدیلیوں/رجحانات میں یورو زون کا ممکنہ زوال، غیر مستحکم عالمی معیشت، ڈیجیٹل کمیونی کیشن کا انقلاب، عالمی قیادت کی کمی، سماجی بے چینی اور عالمی سطح پر باہمی انحصار کی کیفیات شامل ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے ایک ہزار اراکین پر کئے گئے رائے عامہ کے ایک دیگر تجزیئے سے ظاہر ہوا کہ اس پول میں شامل رائے دہندگان کی تقریباً نصف سے تھوڑی زائد تعداد عالمی معیشت پر اعتماد کی کمی سے دوچار تھی اور ایشیاء کی نسبت شمالی امریکہ کے اراکین ایک معاشی دھچکے کی بابت زیادہ متفکر تھے۔ ہم عصر چیلنجوں سے نمٹنے میں گورننس کے عالمی اداروں کی کمزوری دبئی سمٹ میں ایک اہم موضوع کے طور پر سامنے آئی۔ ورلڈ اکنامک فورم کے بانی اور ایگزیکٹو چیئرمین کلاس شواب(Klaus Schwab) نے میٹنگ میں ایک پُرجوش مباحثے کا آغاز کیا۔ انہوں نے موجودہ کثیر پہلو نظام کی متعدد ناکامیوں، اس کے ریاست پر بنیاد کرنے والے ’نان ملٹی اسٹاک ہولڈر‘ اس کے منتشر، تنگ دامن اور بحرانات پر بیدار ہونے والے طرز عمل اور فوائد میں کمی کی وجہ سے اس کی زوال پذیر حیثیت کا حوالہ دیا۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن نے اس بات سے اتفاق کیا اور جاری اقتصادی بحران اور عالمی اقتصادی ڈھانچے کے قواعد اور معیارات میں عالمی ربط و تعاون کی کمی پر روشنی ڈالی مگر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے سر براہ پاسکل لامے نے اس بحث میں ایک اور جہت کا اضافہ کیا۔ اس بات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہ کثیر جہتی نظام کارگر نہیں ہے انہوں نے دلیل دی کہ جس چیز نے کام کیا وہ درحقیقت نظام ہی تھا جس نے ’اشیاء‘ فراہم کیں جیسے غذا، ادویات، ڈیویلپمنٹ فنانس وغیرہ۔ انہوں نے اس ضمن میں عالمی بنک اور ’یو این ڈی پی‘ کو بطور مثال پیش کیا۔ جو نظام ناکام ہوا اس کا تعلق تجارت، موسم کی تبدیلی اور اقتصادی معاملات کے ’قواعد‘ سے تھا۔ یہ خراب حالت میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے نہیں کہ مشینری اور انجن موجود نہیں ہیں بلکہ عدم موجودگی انجن کو چلانے کے لئے عالمی ایندھن کی ہے۔ لیمے کے مطابق یہ ایندھن حکومتوں کی سیاسی توانائی فراہم کرتی ہے مگر چونکہ معاشی بحران اور سماجی دباؤ کا شکار ممالک توانائی سے محروم ہو چکے ہیں اس لئے دنیا ایک ’کم عالمی توانائی‘ کے دور سے گزر رہی ہے اور اس توانائی کو متبادلانہ طور پر غیر ریاستی حلقوں، بزنس، صنعت اور سول سوسائٹی میں تلاش کیا جانا ہے۔ اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل جان الیاسون نے بین الاقوامیت پسندی کے زوال پر افسوس کا اظہار کیا اور ایسے عالمی فارمولوں اور جوابات کی خواہش ظاہر کی جنہیں ممالک اپنے قومی مفاد میں باور کر سکیں۔ مشترکہ مقصد کے لئے عالمی گورننس کی تشکیل کا واحد راستہ یہی ہے کہ اس مقصد کو اس صورت میں تشکیل دیا جائے کہ وہ ’قومی مفاد‘ میں کارگر ہو۔ میٹنگ میں اکثر شرکاء نے محسوس کیا کہ مقررین نظاموں پر ضرورت سے زیادہ زور دے رہے تھے اور ان کے مباحث عالمی قیادت کے تذکرے سے خالی تھے۔ ایک صاحب فکر نے رائے دی کہ ’سیاسی توانائی‘ کی کمی کی وجہ قیادت کی عدم موجودگی ہے۔ مگر پینل کی اپنی تشکیل میں بھی ایک نمایاں کمی تھی۔ عالمی طاقت کی مغرب سے مشرق میں منتقلی کے تناظر میں ایک معاملے پر بحث کرنے والا صرف مردوں، گوروں اور یورپی مقررین پر مشتمل پینل بمشکل ہی زیر بحث بدلی ہوئی دنیا کی نمائندگی کر رہا تھا۔ اس لطیف طنز کی کیفیت اس وقت بھی جاری رہی جب بعد کے دور میں آسٹریلیا کے ایک سابق وزیر اعظم نے واضح کیا کہ یورپ ایشیاء سے غیر متعلق ہوتا جا رہا ہے کہ یورپ کی تمام تر توجہ اپنی معاشی مشکلات تک محدود ہو گئی ہے جنہوں نے اس کی روح سے ’بین الاقوامی توانائی اور بیرونی اعتماد‘ کا رس نچوڑ لیا ہے۔ سب سے زیادہ جاندار بحث ’جغرافیائی، سیاسی تناظر‘ کے دور میں ہوئی۔ اس بحث میں چین کے معروف دانشور وو زنبو(Wu Xinbo)، ’جی، زیرو ورلڈ‘ کی اصطلاح تشکیل دینے والے امریکی مصنف آئیان بریمیر، آسٹریلیا کے رکن پارلیمان کیون رڈ اور عرب مغرب یونین کے سیکریٹری جنرل حبیب یحییٰ شامل تھے۔ امریکہ کی ایشیاء کے لئے ’محوری‘ حیثیت اور چین کا عروج اس بحث کے غالب موضوعات تھے۔ زنبو نے کہا کہ امریکہ کی ایشیاء کو ’نیا توازن دینے کی کوشش‘ چین کے عروج کا مقابلہ کرنے یا اسے محدود کرنے کے ارادے سے مہمیز یافتہ ہے۔ یہ عدم استحکام کی آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے جو خطے کے کچھ ممالک کی ان کے ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کے لئے حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ بریمر نے چین کے عروج پر توجہ کے بہت زیادہ ارتکاز کو ایشیاء کے لئے بڑا رسک قرار دیا تاہم رڈ نے کہا کہ یہ ایک چیلنج ہے نہ کہ رسک۔ زنبو نے مباحثے کو آگے بڑھاتے ہوئے دلیل دی کہ استحکام کے لئے نام نہاد ’رسک‘ کا تعین اس بات سے ہو گا کہ دیگر ممالک چین کے عروج پر کس ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ چین کے عروج کے گلوبل آرڈر پر اثرات کے مباحثے میں زورشور سے دلائل کا تبادلہ ہوا۔ بریمر نے واضح کیا کہ چار بڑے ممالک کے گروپ نے نہیں بلکہ صرف چین کے عروج نے ’عالمی توازن کی گاڑی کو متاثر‘ کیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ چونکہ جنگ عظیم دوم کے بعد امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے بین الاقوامی آرڈر تشکیل دیا تھا اس لئے چین ان قواعد کی پابندی کرنا اپنا فرض نہیں سمجھتا جو اس نے تشکیل نہیں دیئے ہیں۔ اس دلیل پر زنبو نے ایک سبق آموز جواب دیا۔ انہوں نے کہا یہ بات درست ہے کہ چین کا موجودہ عالمی آرڈر کے قیام میں کوئی کردار نہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس نے اس کی مخالفت کی تھی اور خاص بات یہ ہے کہ چین نے اس آرڈر سے فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ’چین اس آرڈر کو اٹھا کر پھینکنا نہیں چاہتا مگر وہ اس میں اصلاحات کا خواہاں ہے‘۔ بریمر کے اس مطالبے کا کہ چین کو ایک ’ذمہ دار اسٹاک ہولڈر‘ بن جانا چاہئے زنبو نے ایک چبھتا ہوا جواب دیا۔ ’اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس نظام میں ’چین ایک اسٹاک ہولڈر بن جائے تو اسے مزید اسٹاکس دیئے جانے ہوں گے‘۔ حبیب یحییٰ نے ایک بہت دلچسپ مداخلت کی۔ انہوں نے کہا کہ شمالی افریقہ میں چین کے50ہزار ماہرین ہیں جو مقامی معاشرے میں ’مکمل طور پر گھل مل چکے ہیں‘ اور وہاں کے لوگ بڑے انفرااسٹرکچر منصوبوں کی تعمیر میں ان کے کردار پر انہیں سراہتے ہیں۔ سیشن میں دیگر خطرات پر بھی روشنی ڈالی گئی جیسے گھٹتے ہوئے قومی وسائل اور وسائل سے وابستہ قوم پرستی کا ظہور، غیر یقینی موسم، نوجوانوں میں بے روزگاری، قوم پرستی اور گلوبل ازم کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ اور نئی ٹیکنالوجیز جو نئی نسل کو طاقت فراہم کر رہی ہیں مگر ساتھ ہی اسے قانون مخالف بنا کر دنیا کے انتشار میں مزید اضافہ بھی کر رہی ہیں۔ تمام مقررین نے اتفاق کیا کہ ارضی، سیاسی خطرات بین الاقوامی کمیونٹی کی ان سے نبردآزما ہونے کی استعداد سے کہیں آگے نکل رہے ہیں۔ ’گلوبل شفٹس اینڈ ریجنل فلیش پوائنٹس‘ کے موضوع پر سیشن بھی مستقبل کے چیلنجوں کی شناخت میں بصیرت افروز تھا۔ ہمارے خطے کے لئے شدید نتائج کی تنبیہ کے طور پر عالمی تنظیم کی سیکریٹری جنرل ولیری اموس نے افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے ساتھ ہی وہاں ایک انسانی بحران کے بھڑک اٹھنے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے گزشتہ سال قدرتی اور انسانی ہاتھوں رونما ہونے والی آفات کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا جو ایک بھیانک تصویر پیش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ2012ء میں332قدرتی آفات پیش آئیں جن میں30ہزار زندگیاں لقمہ اجل بن گئیں اور366بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔ ان آفات کا سب سے بڑا نشانہ ایشیاء تھا اور اس کے بعد امریکی عوام۔ دنیا میں تنازعات میں20فی صد اضافہ ہوا جن میں سے زیادہ تر اندرونی تھے نہ کے ریاستوں کے مابین۔ ان تنازعات کے باعث تمام دنیا میں42.5ملین افراد کو مجبوراً دوسری جگہوں پر منتقل ہونا پڑا۔ جن عرب ممالک میں تحریکیں بیدار ہوئیں ان کے بارے میں کیا بات کی گئی؟ دبئی ایجنڈے میں ان پر بھی بحث کی گئی اور متفقہ رائے نے انہیں ’تبدیلیوں کا بے رحم مگر ناگزیر قانون‘ قرار دیا…کہ معاملات الجھ جاتے ہیں اس سے پہلے کہ انہیں سلجھایا جا سکے۔ اکثر مقررین نے کہا کہ متعدد ممالک میں سیاسی عدم استحکام جاری رہے گا۔ کوئی واضح سیاسی راہ عمل موجود نہیں اور معاشی استحکام کی امیدیں بہت دھندلی ہیں اور خاص طور پر نوجوانوں میں بے روزگاری بدستور ایک دھماکہ خیز مسئلے کے طور پر برقرار رہے گی۔ متحدہ عرب امارات کی میزبانی میں اس تین روزہ کانفرنس نے بلاشبہ اپنی اس شہرت پر مہر تصدیق ثبت کی کہ یہ دنیا بھر میں مفکرین، اکیڈمکس، بزنس اور حکومتی قائدین کا سب سے بڑا اجتماع ہے جہاں دنیا کی باہم پیوستہ مشکلات پر بحث کے ساتھ ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دیگر معاشرے کی شمولیت کے بغیر جس کی فورم ملٹی، اسٹاک ہولڈر رسائی کے طور پر حمایت کرتا ہے انفرادی ریاستیں یا حکومتیں تنہا ان مسائل کا تادیر حل تلاش نہیں کر سکتیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں