آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
”ہم نے بدلا ہے پنجاب اب بدلیں گے پاکستان “یہ ہے وہ نعرہ جس کے ساتھ مسلم لیگ ن آئندہ انتخاب میں جارہی ہے۔ لفظ ”بدلا“ خوب اور استعمال خوب تر ۔ وفاق میں جمہوریت سے بد لہ اور میاں صاحبان نے ” بدلے“ کے لئے پنجاب کو منتخب فرمایا۔
طرز حکمرانی ایسا شفاف اور رفاہِ خلائق کہ قائدین‘ مصاحبین‘ حواری ‘ لکھاری وضاحتیں دے دے کر چور ہوچکے۔ادھر قسمت پھوٹی قوم کی بے اعتنائی ایسی خوش بختی کو طفل تسلی طور بھی درخوراعتناء نہیں سمجھا۔
ملکی قیادت میں ذہانت ‘ دیانت‘ ہنراور لگن کا جو حسین امتزاج مطلوب چراغ لے کر ڈھونڈننے سے نہیں ملنے کا۔حکومت ِ پنجاب کارناموں کو اجاگر کرنے کیلئے چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دے رہی ہے۔ زمینی حقائق بدقسمتی کافسانہ سنا رہے ہیں۔
پچھلے دنوں صوبہ بہار کا وزیراعلیٰ نتیش کمار پاکستان آیا تو حکومتی اور سیاسی امور سے دلچسپی لینے والے ملنے کے متمنی۔ تجسس کہ الہ دین کا چراغ کہاں سے ڈھونڈا ؟ 5 سال میں صوبہ بہارکی کایاکیسے پلٹی ۔2005 سے پہلے صوبہ بہار ہمارے صوبہ پنجاب سے کچھ زیادہ ہی بدتر برائیوں اور بیماریوں کا عمیق گڑھ۔غربت ‘ بے روزگاری‘ کرپشن‘ لاقانونیت ‘ ٹیکس چوری ‘ بجٹ خسارہ ایساکہ ضرب المثل ۔
عمران خان نے سامعین کی موجودگی میں نتیش کمار سے پوچھا انقلاب کیسے برپا ہوا۔ جواب مختصر لیکن

جامع” لیڈر شپ اگر دیانت دار ہواور قانون زَبردست کی خبرگیری اور زِیردست کو انصاف میں مستعد ۔تو 90 دن سے کچھ کم ہی چاہیں “غالباََ ایسا ہی سوال میاں نواز شریف نے بھی اپنی میٹنگ میں نتیش کمار سے پوچھا ہوگا اور نتیش کمارکے جواب میں کوئی سبق تھا یا نہیں۔عمران خان اپنا تاثر قومی میڈیا پر رقم کروا چکے۔
چند ہفتے پہلے میرے افراد خانہ دہلی میں تھے ۔ آکرخبر دی کہ دہلی میں ہر زبان خاص زدِ عام پرصوبہ بہار کا نام ۔ لوگ رخت ِ سفر کی حالت میں عازمِ بہار ۔ بہتر مستقبل کی تلاش میں۔ہمارے پنچاب میں آخر کیا تکنیکی یا صنفی کمی رہ گئی کہ ہم مکروفریب ‘ذلت‘ بھوک‘ ننگ‘لاقانونیت کے بھوت پریت کے نرغے میں ہیں۔
صوبہ بہار کے موسمِ بہار پر نظر ڈالیں ۔ کیا سے کیا ہو گیا۔مرکز میں کانگرس کی کٹر مخالف حکومت کی موجودگی۔ تعلیم وعلاج عام ‘ اساتذہ اور ڈاکٹروں کی بھرتیاں لاکھوں میں۔صنعتی اور زرعی اجناس کی پیداوارکے ڈھیر‘ روزگار دہلیز پر‘ ٹیکس وصولی 5 گنا زیادہ ‘ اقتصادی ترقی 3 فیصد سے 17 فیصدتک جا پہنچی ۔ اقرباء پروری ‘ ذاتی کاروبار‘ رشوت ‘ ٹیکس چوری ‘ حکومتی وسائل کے بہیمانہ استعمال پر لعنت ۔
دیگر صوبے کے لوگ نقل مکانی کرتے کشاں کشاں بہار کی آغوش میں اور بہاری عوام شاداں و فرحاں ۔ زرعی شعبے سے صنعتی شعبے تک باغ وبہاربلکہ ہر جگہ بہار ہی بہار۔ جدید علوم و تحقیق کی عظیم درسگاہ قائم ۔ اہل ِ بہار نے بدلہ چکادیا۔ جب انتخابات آئے تو مخالفین کا نام و نشان مٹ گیا۔206 نشستوں پر قابض جبکہ مخالف پارٹی 20 نشست لے سکی ۔ نتیش کمار کا طوطی چار سومترنم۔
نہ الہ ٰ دین کا چراغ نہ ہی کوئی راکٹ سائنس ۔فقط دیانتداری ‘ لگن ‘ قانون کی حکمرانی اور ذاتی کاروبار سے اجتناب ۔
وائے بد نصیبی بہار ہمارا مقدرنہیں تھا۔ اپناپنجاب خزاں رسیدہ۔صوبائی حکومت موجودہ حکمران کے تصرف میں 15 سال سے کچھ زیادہ۔ترجیحات مختلف ذاتی کاروبار‘ جائیداد‘ دولت کے ارتکاز میں انتہائی زیرک اقتدارجب بھی ملاتو مال و اسباب کو چار چاند لگانے کا نیافن روشناس کرایا۔ سیاسی مہم جوئی کے لیے فیملی فوٹو کے ساتھ اشتہاری مہم‘ لیپ ٹاپ رشوت اور یوتھ فسٹیول سرکس جیسے مزاحیہ پروگرام سونے پر سہاگہ ۔بیلنس شیٹ‘ خود ارب پتی عوام ککھ پتی۔کرپشن ‘ لاقانونیت ‘ نالائقی ‘ غیر ترجیحی منصوبے ‘ نیتوں کا فتور‘ ماس ٹرانزٹ ‘ لیپ ٹاپ‘ دانش سکول پچھلے 5 سال کی حکومتی کارکردگی کہ 4 سال سوتے کٹی اور اب آخری سال روتے بھاگتے کٹی ۔اور بیچارے عوام نہ سوتے کٹی نہ روتے کٹی۔اسکول ‘ ہیلتھ یونٹ ‘ سڑکیں ناگفتہ بہہ۔ ملک کی اقتصادی ترقی کی اوسط شرح 3.4 فیصد۔ پنجاب 2.8 فیصد۔ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ۔ پچھلے 5سالوں میں ڈاکے اور چوری میں اضافہ بالترتیب 69 فیصد اور 44فیصد۔
حکومت نام کی شے موجود نہیں ۔ پٹوارخانے اور تھاے کی دہلیز پر عام آدمی کو قدم رکھنے کی جرات نہیں۔ پولیس حکمرانوں کے خاندان اور حواریوں کے تحفظ پر مامور۔ عوام اللہ میاں کی اماں میں۔
ایک کالم کے ہاں نواز شریف کی ایک سیاسی مہم کا ذکر تو مبالغے اور منافقت کے لبادے میں اخبارات کی زینت بن چکا۔جس کھانے میں میاں صاحب نے ISI سے پیسے پکڑنے کا اعتراف جرم کیا ۔لکھاریوں کو چپ ۔ یقینا عمران خان اور جاوید ہاشمی کو ہی حساب دینا چاہیے اور وہ حساب دیں گے بھی اور انشاء اللہ لیں گے بھی۔ حضور ویرانے اپنے‘ بدعائیں عمران خان اور جاوید ہاشمی کے خانہ کو خراب کرنے کی ۔مارو گھٹنا پھوٹے آنکھ۔واقعی ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔ عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کریں۔ Stay Orders پر گزر اوقات کیوں؟منی لانڈرنگ کیس کو رکوانے کے جتن کیوں؟مری محل میں سرکاری خرچ پر گیس سپلائی پر سوموٹو موجود۔سینکڑوں مزید قطار میں۔
عمران خان‘ ایسا نصیب ‘ پوری عالم میں عزیز جاں۔ کمالِ کسب ‘ایمانتداری۔ جب بھی لوگوں میں گیا امین جاناگیا۔ہر مد میں پیسوں کی بارش۔ صد افسوس جاوید ہاشمی کے بغل بچے جو بیچ چوراہوں میں اپنے موجودہ قائدین کے قیمتی ملبوسات اتارنے کی عادت رکھتے تھے ۔ ہاشمی کو اپنا روحانی باپ گردانتے۔ یاوہ گوئی کا ایسا ننگا مظاہرہ۔ قائدین کو گالیوں والا عمل احسن نہ مخدوم صاحب پر کیچڑ اچھالنا قابل تحسین۔دو مثالیں نتیش کمار اور شہباز شریف کا فرق واضح کر دیں گی۔فیروزپور روڈ بس سکیم کا منصوبہ ہی لے لیں۔پنجاب حکومت ایک آزاد کمیشن جوسکہ بند FCA‘ انجینئرز، Risk Management پر مشتمل ہو اور اِس منصوبہ کا Cost Analysis کروا لیں۔ اگرتخمینہ ۱۰۰ بلین سے کم نکلے تو بیچ چوراہے آپ کی تھوک میرا منہ حاضر۔اس 100 بلین روپے کا ایسا بے وقوفانہ استعمال ۔ الامان الحفیظ
جو پراپرٹی استعمال ہوئی مالیت کھربوں روپے اور گجومتہ سے شاہدرہ روڈ ایک کمرشل حب جہاں روزانہ کاروبار کھربوں میں ۔ ہزاروں مزدور روزگارپے۔اگر ایسا منصوبہ ذاتی ترجیح تھی تو زیرِزمین تعمیر سے قیمتی زمین کے ضیاع کو روکا جا سکتا تھا۔
بس سکیم کے بعد دانش سکول 3000 روپے مربع فٹ لاگت جو پایہ تکمیل پر 2.5 سے 3ارب کا بل چھوڑ جائے گا۔میانوالی دانش سکول جس کے بورڈکا جب میں ممبر بنا انہی دنوں عمران خان کے تعلیمی منصوبہ نمل کالج کی تعمیرکے پہلے مرحلے میں خام تصور سے آخری مرحلے تک مکمل کروا کر فارغ ہوا تھا۔ نمل کالج میانوالی کا منصوبہ مشکل ترین پہاڑ کے دامن کو کاٹ کر ضلع میانوالی میں ایک شاہکار تخلیق تھی ۔57 ہزار مربع فٹ پر محیط عمارات 3 کروڑ 49 لاکھ کی لاگت سے تیا ر ہوئی لاگت فی مربعہ فٹ 612 روپے آئی۔ 35 لاکھ میں پانی ‘ بجلی ‘ روڈ مکمل ہوئے۔ نمل کالج کے تجربہ کی بنا پر مجھے دانش سکول کی تعمیراتی کمیٹی کا انچارج بنا دیا گیا۔پہلی میٹنگ کمشنر سرگودھا آفس میں منعقد ہوئی تو انجینرزاور کنسلٹنٹ پر خدشہ ظاہر کیا کہ دانش سکول کی تعمیری لاگت 3000 روپے سے تجاوز کر جائے گی جبکہ نمل کالج میانوالی پر صرف 612 روپے فی مربع فٹ لاگت سے بنا۔دوستوں نے اسے ایک بڑ سمجھا۔ سمجھایا‘ پہلے تین سال اگر رقم کی ترسیل آڑے نہ آتی اور اگر منصوبہ 2005 میں مکمل ہوجاتاتو لاگت شائد 500 روپے سے بھی کم آتی ۔ پیسہ کی آمد اور اخراجات کا ریکارڈ درج اور پراجیکٹ میانوالی ہی کے ایک ٹھیکیدار نے Turn Keyپر کیا۔
دانش سکول پر 3 بنیادی اعتراضات
1 ۔ لوکل کیمونٹی بورڈ کے زیر نگرانی تعمیرات ایک تہائی قیمت پر ہو سکتی تھی ۔
2۔جب آپ کا تعلیمی نظام مکمل تباہ ہو چکا ہو تو دانش سکول جیسی ترجیحی ناقابل ِفہم۔
3۔ نرگسیت اور اناکی تسکین چاہیے تھی تو پھر ایسے سکولوں کو(Gifted and Talented) بچوں کے لیے مختص کرنا ہی بہتر۔
بفرض محال ایسے سکول آپ کی ضد ٹھہرے تو بسم اللہ اتفاق گروپ کی زکوٰة (ٹیکس تو دینا نہیں) پر۔اور اگر امریکی ایجنڈا ہے تو USAID پر ہمارے پیسوں پرکیوں؟
جناب ِوالاجب مطمع نظر عمران خان سے لاہور واگزار کرواناہی ٹھہرا۔ کہاں کی تدبیر اور کیسی منصوبہ بندی۔ ایسی منصوبہ سازی پر کوئی حیرت نہیں۔بس تدبیروں کو الٹا ہونے سے بچائیں۔
نتیش کمار کیا بتا کر گیا ہے بہار چاہیے تو عادتیں بدلنا ہوں گی۔ پنجاب بھی بدل جائے گااور پاکستان کا مستقبل بھی شاداں وفرحاں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں