آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


جدید دور میں ٹیکنالوجی کےشعبے میں نئی سے نئی ایجادات کی وجہ سے جہاں انسانی زندگی بہت سہل ہوگئی ہے ، وہیں انسان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مختلف وجوہات کی بناء پر انسان گوناگوں نفسیاتی مسائل کابھی شکار ہوا جس کانتیجہ ہم معاشرے میں خودکشی کےبڑھتے ہوئے رجحان سے دیکھتے ہیں۔

بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف سائیکاٹری اینڈ بیہیوریل سائنسز اور شعبہ نفسیات بولان میڈیکل کالج کوئٹہ کے پروفیسر ڈاکٹرغلام رسول کےمطابق دنیا بھر میں خودکشی کارجحان بڑھ رہاہے۔ ہر 45 سیکنڈز میں ایک شخص خودکشی کرتاہے،خودکشی کرنےوالوں میں ہر عمر اورصنف کےافراد شامل ہوتے ہیں۔یہ اعداد و شمار ایک عالمی رپورٹ میں بتائے گئے ہیں۔

پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں خودکشی کےواقعات کےحوالےسےپروفیسرڈاکٹر غلام رسول کاکہناتھا کہ ملک یاصوبےمیں اس حوالےسےکوئی مستند ڈیٹاتو نہیں ہےکہ کتنے افراد خود کشی کرتے ہیںتاہم شہر کےوسطی علاقے میں قائم سنڈیمن صوبائی ہیڈکوارٹر اسپتال کےذرائع کےمطابق ہرماہ خودکشی کےاوسطاً تین سےچار کیسز آتے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ خود کشی کرنےوالوں میں نوجوان طبقے کی تعداد زیادہ ہے اور اس میں 18سے35سال تک کی عمر کےنوجوان شامل ہیں۔خودکشی کرنےکی بڑی وجہ کےحوالےسےپروفیسر ڈاکٹرغلام رسول کاکہناتھا کہ انسانی زندگی میں مایوسی یاناکامی کاغصہ خودکشی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔اس کےعلاوہ ذہنی اور جسمانی امراض بھی اس کی وجوہات میں شامل ہیں۔

ذہنی امراض میں نشے کی لت میں مبتلا ہوجانایا کسی اور مرض جیسے کینسریابہت پرانی کوئی بیماری جس میں انسان مبتلا رہا ہو یہ بھی خودکشی پر مجبور کردیتی ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول کےمطابق ان لوگوں میں خودکشی کارجحان زیادہ ہوتا ہے جنہیں خاندان یامعاشرے سے سپورٹ نہیں ملتی ۔ان کا کہناتھا کہ جو لوگ خودکشی کی کوشش کرتے ہیں ان کی کونسلنگ تو ممکن ہے مگر زیادہ تر لوگ اس چیز کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کےخاندان میں کسی نےخودکشی کی کوشش کی ۔ وہ اس چیز کو اپنےاور اپنے خاندان کےلئے بدنامی گردانتے ہیں۔

خودکشی کےرجحان کی روک تھام کےحوالےسےپروفیسرڈاکٹر غلام رسول کاکہناتھا کہ اس حوالےسےموادتعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل کیاجاناچاہئے،انہیں مذہبی تعلیمات سے بہرہ مند کرنےکےعلاوہ صبروبرداشت جیسے صحت مند رجحانات کی طرف راغب کیاجاناچاہئے۔بچوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ مایوسی یاناامیدی سے کیسے بچاجائےاور انہیں اعلی اخلاق اور حسن سلوک کی تربیت دی جائے اور ان کی امید بندھائی جائے، وغیرہ وغیرہ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں