آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں علی انٹرپرائزز نامی گارمنٹ فیکٹری میں آگ کیوں لگائی گئی۔۔؟ کس نے لگائی۔۔؟ کس کے کہنے پر لگائی؟سانحہ بلدیہ فیکٹری اور پاکستانی نائن الیون کے نام سے مشہور اس واقعے میں 260 ملازمین زندہ جل گئے تھے۔

۔11ستمبر2012 کی وہ ہولناک شام کراچی کے شہریوں پر بہت بھاری گزری ،جب فیکٹری میں کام کرنے والے اور اپنے گھر والوں کے لیے روزی کمانے کے لیے آنے والے مزدوروں کو بھتہ نہ دینے کی پاداش میں زندہ جلادیا گیا ۔

۔11ستمبر 2012 کو حب ریور روڈ پر واقع علی انٹرپرائزز میں خطرناک آگ 260گھرانوں کے چراغ گل کر گئی ، خواتین سمیت فیکٹری میں کام کرنے والے 260مزدوروں کے زندہ جل جانے کا مقدمہ پہلے سائٹ بی تھانے میں فیکٹری مالکان، سائٹ لمیٹڈ اور میونسپل سروسز کے اداروں کے خلاف درج کیا گیا اورتحقیقات کا آغاز بھی کیا گیا ۔

ابتدا میں فیکٹری مالکان اور سرکاری محکموں پر مقدمہ درج کیا گیا لیکن 2015میں عدالت میں پیش کی گئی ایک جے آئی ٹی نے تہلکہ مچا دیا ، پتا چلا، فیکٹری میں آگ 25 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے کی وجہ سے لگائی گئی۔مرکزی ملزم حماد صدیقی سمیت ایم کیو ایم کے کئی کارکن اورعہدیدار گرفتار کئے جاچکے ہیںمگر چھ سال گزرنے کے باوجود یہ معاملہ تاحال منطقی انجام تک نہیں پہنچا۔

تاہم واقعے کے تقریبا ًڈھائی سال بعد 6فروری 2015 کو عدالت میں رینجرز نے ایک رپورٹ جمع کروائی جس میں بتایا گیا کہ ایک گرفتار ملزم رضوان قریشی نے انکشاف کیا کہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی ہے اور اس کی وجہ فیکٹری مالکان سے مانگا گیا بھتہ تھا جس کے بعد ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں ایک نئی جے آئی ٹی بنائی گئی ، تفتیش میں واضح طور پر سامنے آیا کہ فیکٹری کوکیمیکل پھینک کر آگ لگائی گئی تھی۔

تفتیشی حکام کے مطابق آگ رحمٰن اور دیگر ملزمان نے لگائی اور ایسا ایم کیو ایم تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کے حکم پر کیا گیا۔ملزمان کی جانب سے فیکٹری انتظامیہ سے 25کروڑ روپے بھتہ مانگا گیا اور بھتہ نہ ملنے پر آگ لگا دی گئی ۔

حساس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حماد صدیقی کو خلیجی ملک جبکہ رحمٰن بھولا کو تھائی لینڈ کے شہر بنکاک سے گرفتار کر کے وطن واپس لاچکے اور ان سے تحقیقات جاری ہیں۔

اس ہائی پروفائل کیس کی تحقیقات میں کئی بار افسران کے تبادلے کی وجہ سے رُکاوٹ آئی اور سب سے درد ناک پہلو یہ ہے کہ ڈھائی سو سے زائد بے گناہ مقتولوں کے ورثا چھ سال بعد بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں