آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک میں جمہوری تبدیلی کاعمل حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اس ’فرمان امروز‘کے ساتھ مکمل ہوگیاہے’’ہرخاص وعام کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نے انتخابات کے بعد بحیثیت صدر پاکستان عہدے کا حلف اٹھالیا ہے اور دستور پاکستان کے تحت ڈاکٹر عارف علوی صدر پاکستان کے منصب پر فائز ہوگئے ہیں۔صدارتی فرمان مسلح افواج کے تمام یونٹوںمیںپڑھ کرسنایاجائےگااور اس کی کاپیاں چاروں صوبوں کے گورنرز کو بھی بھیجی جائیں گی‘‘ہرچند کہ گزرے زمانوں میں ’فرمان امروز‘کااجرامطلق العنان شہنشاہوںکی روایت تھی جو جمہوری ادوار میں قصہ پارینہ بن گئی۔وفاقی حکومت نے ذرائع ابلاغ کے اس دور میں جب میڈیا دنیا کے کسی بھی کونے میں رونما ہونے والے ہر واقع کو منٹوں میں عام کردیتا ہے۔اس روایت کو تازہ کردیا ہے۔یہ بھی ایک تبدیلی ہے جو سابق صدر ممنون حسین کی مدت صدارت پوری ہونے اورڈاکٹرعارف علوی کی میعادشروع ہونے کاپتہ دیتی ہے،یہ اعلان وفاق اورصوبوں کی سطح پر اقتدار کی پرامن منتقلی کی خوش آئند علامت ہے۔اتوار کوڈاکٹر عارف علوی کامنصب صدارت کا حلف اٹھانا 25جولائی کو ہونے والے انتخابات کانقطہ عروج ہے جس سے قوم ایک نئے جمہوری دور میں داخل ہوگئی ہے۔اس حوالے سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کامیڈیا سے گفتگو کے دوران یہ کہنا

ملک کے جمہوری مستقبل کے اعتبار سے بہت وزن رکھتا ہے کہ نئے صدر کا انتخاب ایک تاریخی موقع ہے۔ملک میں جمہوریت مضبوط ہورہی ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ جمہوری اقدار مزید مستحکم ہوں گی۔ان کایہ بھی کہناتھا کہ نئے سربراہ مملکت کی حلف برداری جمہوریت کے تسلسل کے لئے بہت اہم ہے۔یہ دن جمہوری عمل کے تسلسل کی جانب اہم پیش رفت ہےجومسلسل جاری رہےگا۔جمہوریت پنپ رہی ہے اور مزید نمو پائے گی۔یہ حقیقت ملک کے جمہوری مستقبل کےلئے نہایت خوش آئند ہے کہ اس وقت منتخب جمہوری حکومت مسلح افواج اورتمام ریاستی ادارے ایک پیج پرہیں۔وزیراعظم عمران خان نے بھی اس کااعتراف اورستائش کی ہے ۔ماضی میں اکثر سیاسی حکومتوں اوراداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سےمسائل پیداہوتے رہے۔تین بار سیاسی حکومتوںکے تختےالٹے گئے اوراقتدار آمروں کے پاس چلاگیا۔اس وقت چونکہ حکومت اورمسلح افواج سمیت تمام ریاستی اداروں میں فکروعمل کی ہم آہنگی ہے توتوقع رکھنی چاہئے کہ ملکی سلامتی اورمعاشی ترقی کی صورت میں عوام کی خواہشات کوعملی شکل ملے گی۔ملک کے نئے صدرمملکت کی تقریب حلف برداری میں عظیم ہمسایہ چین کے وزیرخارجہ اورحرمین شریفین کے محافظ سعودی عرب کے وزیر اطلاعات بھی موجودتھے جوان دونوں دوست ملکوں کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات کی علامت ہےچینی وزیرخارجہ تونئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا پیغام لے کرپاکستان آئے اوروزیراعظم اوروزیرخارجہ سے باہمی شراکت داری مزید بڑھانے پربات چیت کی۔ڈاکٹر عارف علوی نے حلف اٹھانے کے بعد متعلقہ حکام کو ایوان صدر میں غیر ضروری اخراجات ختم کرنے کی ہدایت کی ہے جو تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات کاحصہ ہے۔پی ٹی آئی کو ملک میں حکومت بنانے کا پہلی بار موقع ملا ہے عوام نے اس کے تبدیلی کے نعرے کو غیرمعمولی توقعات کے ساتھ پزیرائی بخشی ہے۔قوم اب ان توقعات کے پورے ہونے کی منتظر ہےحکومت کو اس کےلئے دن رات محنت کرنا ہوگی تاہم معروضی حالات میں یہ کام تنہا برسراقتدار حکومت کانہیں پوری قوم کو اس جدوجہد میں برابر کاحصہ ڈالنا ہوگا۔حکومت کوبھی اس ضمن میں عوام کے تمام طبقات خصوصاً اپوزیشن کوجسے عوام کی ایک بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے ساتھ لے کرچلنا ہوگا۔ملک وقوم کو اس وقت جو داخلی اورخارجی مسائل درپیش ہیں۔توقع کی جانی چاہئے کہ ملک کی سیاسی وعسکری قیادت اجتماعی دانش بروئے کار لاتے ہوئے موثر حکمت عملی سے انہیں حل کرے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں