آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ بلدیہ کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کراچی میں ان کے ناموں سے منسوب دیوار بنادی گئی۔

’دیوارِ گریہ‘ کے نام سے بنائی گئی اس دیوار کا ہر بلاک ایک ہنستے بستے گھر کے اُجڑ جانے کی داستان سنا رہا ہے۔ اس سانحے میں 250 سے زائد افراد کو زندہ جلا کر مار دیا گیا تھا۔ اُن چیخوں، آہوں اور سسکیوں کو آج تک کوئی نہیں بھول سکا ہے۔

کراچی کی بلدیہ فیکٹری میں مبینہ طور پر بھتہ نہ دینے کے نتیجے میں آگ لگا دی گئی تھی، یہ سانحہ جانی نقصان کے لحاظ سے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا صنعتی سانحہ قرار پایا جس میں250 سے زائد فیکٹری ملازمین زندہ جلےیا جلادیئے گئے۔

فیکٹری میں جلنے والوں میں کسی کی ماں تھی تو کسی کا باپ، کہیں بھائی بہن تو کہیں گھروں کی کفالت کرنے والے شوہرتھے۔ وہ قیامت کی آگ تھی جس میں سیکڑوں کا مستقبل جل کر راکھ ہوگیا۔ 11 ستمبر 2012 میں ہوئے اس سانحے کو کراچی کا’’ نائن الیون‘‘ بھی کہا گیا۔

جو قیمتی جانیں اس سانحے میں گئیں ہیں اُن کا کوئی ازالہ نہیں ہوسکتا تاہم پیاروں کی یادیں، ان کی باتیں اور ان کی محبت کو یاد رکھنے کے لیے عدیلہ نامی آرٹسٹ نے دیوار شہدا بناڈالی جس پر ہر شہید کا نام چمک رہا ہے۔

دیوار گریہ پرصبا، محمد صدیق، تہمینہ، فیصل سمیت ایسے درجنوں نام ہیں جنہیں بھڑکتے ہوئے شعلے نگل گئے۔ یہ سانحہ ملک میں جرائم پر کنٹرول اور صنعتی اصلاحات کے لیے ایک مثال تھا مگر مزدور رہنماوں کا کہنا ہے کہ فیکٹری ورکرز آج بھی کام کے محفوظ ماحول اور مطلوبہ سہولتوں سے محروم ہیں۔

مزدور رہنماوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فیکٹریوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کا تحفظ یقینی بنائے تاکہ بلدیہ فیکٹری جیسے سانحات سے بچا جاسکے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں