آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی فوج ایک لاکھ سے زائد نوکریاں ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

بھارت فوج کا کہنا ہے کہ اس کٹوتی سے فوج کو 5 سے7 ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوگی، جسے اسلحہ خریدنے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اس وقت فوج کے ٹوٹل بجٹ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار کروڑ کا 83 فیصد حصہ آمدنی کے اخراجات، روزمرہ کے اخراجات اور تنخواہوں میں خرچ ہوتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس میں فوج کی سالانہ پینشنز شامل نہیں ہیں جو علیحدہ سے ادا کی جاتی ہیں۔

تاہم بجٹ کا صرف 17فیصد فوج کی تنصیبات، ہتھیاروں کی مینٹینینس اور نئے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وائس چیف آف دی آرمی نے پارلیمنٹری پینل کو بتایا تھا کہ فوج کے دو تہائی ہتھیار منسوخ ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج میں نوکریاں کم کرنے سے5 سے 7ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوگی جس سے نئے ہتھیار خریدے جاسکتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں