آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صحرائے تھر میں قحط سے حالات سنگین، ہزاروں خاندان فاقہ کشی پرمجبور، مویشی بھوک سے مرنےلگے، سیکڑوں دیہات سےنقل مکانی تیز

اسلام کوٹ(رپورٹ عبدالغنی بجیر)صحرائے تھر میں قحط کے باعث حالات سنگین،ہزاروں خاندان فاقہ کشی پر مجبور،مویشی بھوک سے مرنے لگے۔سیکڑوں دیہات سے نقل مکانی تیز ہو گئی۔سندھ حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے۔تفصیلات کے مطابق صحرائے تھر کی سات تحصیلوں کے کل 23سئو دیہا ت میں قحط کے باعث حالات انتہائی سنگین ہو گئے ہیں۔16لاکھ انسانی آبادی 90لاکھ مویشی اور چرند پرند بھوک اور بدحالی کا سامنا کر رہے ہیں۔دیہاتوں میں خوراک اور پانی کی تکالیف نے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔تھر کے د یہا ت سے ہونے والی تیز تر نقل مکانی کے سبب ہر راستے پر جانے والے خاندانوں اور مویشیوں کے ریوڑ ہی ریوڑ نظر آ رہے ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں ہونے والی نقل مکانی کو روکنے کے لیئے تاحال سندھ حکومت و ضلعی انتظامیہ نے کوئی اقدامات نہیں کئے ۔نگرپاکر چھاچھرو اور ڈاہلی کے سرحدی دیہا ت میں موجود زیر زمین پانی کے کنویں خشک ہو چکے ہیں اور لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔اسی طرح سے مویشیوں

کا چارہ نہ ہونے اور خشک سالی کے باعث مویشی بیچ راستے میں مرتے دکھائی دے رہے ہیں۔جنگلی حیات مور اور دیگر پرندے بھی روزانہ بڑی تعداد میں ہلاک ہو رہے ہیں۔تاہم سندھ حکومت کی جانب سے تھر کو قحط زدہ قرار دینے کے باوجود کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔علاقہ مکینوں کو کہنا ہے کہ تھر میں اس سے پہلے جتنے بھی قحط پڑے ان میں سے یہ قحط انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس سے قبل بارشیں تاخیر سے ہوتی تھیں اور علاقہ کو قحط زدہ تسلیم کیا جاتا تھا۔اور مویشیوں کے لیئے کچھ نا کچھ گھا س ہو جاتا تھا تاہم اس سال بارشیں بلکل ہی نہیں پڑی ہیں اور حالات بہت ہی مختلف ہیں۔علاقہ مکینوں اور متاثرہ خاندان نے حکومت سندھ سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر امدادی کاروائیاں شروع کر کے لوگوں انسانوں و جانوروں کو متاثر ہونے سے بچایا جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں