آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کنزرویٹوپارٹی کے 80 ارکان پارلیمنٹ چیکر معاہدے کے خلاف ووٹ ڈالنے کیلئے تیار ہیں، اسٹویو بیکر کا دعویٰ

لندن(آئی این پی)سابق برطانوی وزیر اسٹویو بیکر نےوزیراعظم تھریسا مے کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیکرز معاہدے پر وزیر اعظم کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، کنزرویٹو پارٹی کے 80رکن پارلیمنٹ چیکر معاہدے کے خلاف ووٹ ڈالنے پر رضا مند ہیں۔تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے سابق وزیر برائے بریگزٹ امور اسٹویو بیکر نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کے 80 رکن پارلیمنٹ تھریسا مے کے چیکر معاہدے کے خلاف حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسٹویو بیکر نے چیکر معاہدے کے معاملے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ تھریسا مے کو رواں ماہ ہونے والی پارٹی کانفرنس میں بڑے پیمانے پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔سابق بریگزٹ وزیر نے برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم تھریسا مے کی چیکر ڈیل کے نتیجے میں پارٹی کو تباہ کن نتائج کا سامنا ہوگا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے خبر رساں ادارے کے مطابق ایک ماہ قبل برطانوی کابینہ نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں بریگزٹ منصوبہ بندی کی حمایت کی تھی۔مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ مذکورہ معاہدے کے معاملے پر بریگزٹ امور کے سیکریٹری ڈیوڈ ڈیوس اور سابق وزیر خارجہ بورس جانسن نےبھی استعفیٰ دیا تھا خیال رہے کہ

بریگزٹ ڈیل کے تحت برطانیہ مارچ 2019 میں یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائے گا۔خیال رہے کہ تھریسا مے اور ان کی کابینہ چاہتی ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین بریگزٹ کے بعد بھی آزاد تجارتی معاہدوں پر عمل پیرا رہیں۔ لیکن وزیر اعظم کی متنازع تجویز پر ڈیوڈ ڈیوس نے مہر ثبت کردی۔سابق برطانوی وزیر ڈیوڈ ڈیوس نے استعفیٰ دیتے ہوئے برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے کو 8جولائی کو خط ارسال کیا تھا، جس میں تحریر تھا کہ میں ملکی وزیر اعظم کے ڈیفنس کیڈٹ کی حیثیت سے امور کی مزید انجام دہی نہیں کرسکتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں