آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن ( نیوز ڈیسک ) ٹی یو سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر بزنسز کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی افرادی قوت کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی سے استفادہ کریں تو اس صدی میں ہفتہ میں چار دن کام کا سسٹم لاگو کرناممکن ہو سکتا ہے۔یونینز اس دعویٰ کو حکومت سے اس مطالبے کیلئے استعمال کر رہی ہیں کہ فوری طور پر ایسے اقدامات کئے جائیں کہ لوگوں کو کام کم کرنے اور وہی ادائیگی کرنے میں مدد کی جا سکے۔آرٹیفیشل انٹیلی جنس ،روبوٹکس اور آٹو میشن اگلے عشرہ میں برطانوی معیثت میں 220ارب پونڈز کا اضافہ کر سکتی ہیں۔ ویلز میں ایک فرم کے سٹاف کو پہلے ہی چار دن فی ہفتہ کام کر کے پوری تنخواہ مل رہی ہے۔کارڈیف میں قائم انڈی کیوب کے بانی مارک ہوپر کا کہنا ہے کہ گزشتہ 18 ماہ میں کام کے نئے انتظامات کی تبدیلی ہمیشہ کی طرح آسان نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے محسوس کیا کہ ہمارے پاس ایک موقع ہے کہ یہ ثابت کر سکیں کہ ہم پانچ دن فی ہفتہ کی طرح صرف چار دن کام کر کے بھی وہی پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اب کمپنی زیادہ پیداوار دے رہی ہے اور بزنس کو ویلز سے باہر بھی توسیع دی جا رہی ہے۔ٹی یوسی کے مطابق برطانیہ میں 1.4ملین افراد اب بھی ہفتہ میں پورے سات دن کام کرتے ہیں سروے میں شامل 51فیصد افراد نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ نئی ٹیکنالوجی کے فوائد سے کمپنی انتظامیہ اور

شیئر ہولڈرز مستفید ہوںگے۔ انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں