آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی(سید محمد عسکری اسٹاف رپورٹر) سکریٹری بورڈز و جامعات/ سکریٹری ہائر ایجوکیشن کمیشن کی بار بار تبدیلی کی وجہ سے سندھ میں اعلیٰ تعلیم کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے جامعات اور تعلیمی بوڑدز کی اہم باڈیز جن میں سینڈیکٹ، سینٹ اور بورڈزآف گورنرز میں نشستیں گزشتہ کئی برس سے خالی پڑی ہیں جب کہ اہم اسامیوں پر بھی تعیناتیاں نہیں کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے صرف جامعہ کراچی میں گزشتہ تین سال سے سینٹ کا اجلاس ہی نہیں بلایا گیا ہے جب کہ گزشتہ کئی ماہ سے ایک ریٹائرڈ ڈین آف لا تعینات ہے جو سپریم کورٹ کے ٖ فیصلے کی کھلی خلاف ورزی ہے اسی طرح ایکٹ کے برخلاف جامعہ کراچی کے سینٹرز اور انسٹیٹیوٹس کے سربراہان 10 سال سے زائد عرصے سے موجود ہیں اور کسی اور کو موقع دینے کو تیار نہیں جب کہ ایکٹ میں چیرمین/ ڈائریکٹر کی مدت تین سال متعین ہے اسی طرح گزشتہ ساڑھے چار سال سے سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن غیر فعال ہے صرف وہاں کام کرنے والے چند افسران کے مزے ہیں جن کو مراعات کی صورت میں الاونس اور گاڑیاں بھی مل رہی ہیں۔ سکریٹری بورڈز و جامعات کے پاس سکریٹری ہائر ایجوکیشن کمیشن کے عہدے کا اضافی چارج بھی ہوتا ہے اس کا عملی آغاز سابق سکریٹری بورڈز و جامعات نوید شیخ کے وقت سے ہوا تھا۔ سکریٹری کو ایک لاکھ 75 ہزار روپے ماہانہ

الاونس کی صورت میں ملتے ہیں جب کہ موجودہ ڈائریکٹر نور محمد شاہ ڈیڑھ لاکھ اروپے الاونس کی صورت مین لے رہے ہیں اور صورتحال یہ ہے کہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن فعال نہ ہونے کی وجہ سے مختلف پروجیکٹس کے لیئے رکھی گئی کروڑوں روپے کی رقم استعمال نہ ہونے کے باعث ضائع ہوگئی ہے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے ساڑھے چار سال پورے ہوچکے ہیں اور اب تک کمیشن کے محض تین اجلاس ہوئے ہیں جب کہ کمیشن کے کئی اراکین کی مدت بھی مکمل ہوچکی ہے سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے واحد ڈائریکٹر نور شاہ کو ایڈیشنل سکریٹری کا بھی چارج ہے۔ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو فعال کرنے کرنے کیلئے 8؍ پروجیکٹس تیار کئے گئے تھے ہر پروجیکٹ کے لئے ڈھائی سے 3؍ کروڑ روپے مختص رکھے تاہم سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ان پروجیکٹس کو چلانے کے لئے عملہ ہی فراہم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ان 8؍ پروجیکٹس پر کام نہیں ہوسکا اور رقم ضائع ہوگئی۔ 8؍ پروجیکٹس میں سندھ ریسرچ پروگرام، اسکالر شپ پروگرام، ٹریننگ پروگرام، ہائر ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم پروگرام، یونیورسٹی مینجمنٹ پروگرام، غیر ملکی ٹریننگ پروگرام، پی ایچ ڈی پروگرام اور لیبارٹریز ٹریننگ پروگرام کے لئے 21؍ گریڈ کاایک مشیر، 20؍ گریڈ کے 3؍ ڈائریکٹر جنرلز اور 8؍ ڈائریکٹرز کے علاوہ دیگر ضروری عملہ تقرر کرنے کی سفارش کی گی تھی تاہم سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو یہ عملہ مل نہیں پایا اور کروڑوں روپے کی رقم ضائع ہوگئی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں