آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (اسٹاف رپورٹر/ محمد منصف) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اقبال کلہوڑواورجسٹس محمدکریم خان آغا پر مشتمل دورکنی بینچ نے سانحہ 12 کے تحقیقات کیلئے ٹربیونل جبکہ سانحہ 12 مئی سے متعلق درج65 اندھے مقدمات میں ملوث ملزمان کاسراغ لگانے کیلئے جے آئی ٹی تشکیل بھی دی جائے، ٹریبونل کا سربراہ حاضرسروس یا ریٹائرڈ جسٹس ہوں جسکی تعیناتی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کرینگے، ٹریبونل کو 3 ماہ انکوائری مکمل کرنےاورمتاثرین سانحہ کی مکمل تفصیلات 2ہفتوں میں رجسٹرارسندھ ہائی کورٹ کے آفس میں جمع کرائی جائیں، حکومت سندھ 2ہفتوں کے اندرانسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی سیکشن 19 کے تحت جے آئی ٹی قائم کردے،سانحہ سے متعلق مقدمات میں پیش رفت سے متعلق ٹرائل کورٹ ہرماہ باقاعدگی سے پروگریس رپورٹ ہائی کورٹ میں جمع کرائے، ٹرائل کورٹ 11 سال سے التواء سانحہ 12 مئی کے مقدمات میں میں تاخیرکےاسباب سے بھی ہائی کورٹ کوآگاہ کرے۔ تفصیلات کے مطابق منگل کوسندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمداقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے سانحہ 12 مئی سے

متعلق ازخود نوٹس کیس میں فیصلہ سنادیاہے،سماعت کے موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین، پراسکیوٹر جنرل سندھ علی حیدر،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ حاکم علی شیخ،عدالتی معاونین بیرسٹر فیصل صدیقی اور شہاب الدین سرکی ایڈووکیٹ پیش ہوئےانکی موجودگی میں فاضل بینچ نے فیصلہ پڑھ کرسنایا جس میں کہاگیاکہ حکومت سندھ ایک رکنی انکوائری ٹریبونل بنائے اور ٹریبونل کے سربراہ کی تعیناتی کیلئے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط ارسال کریں کہ ہائی کورٹ کے موجودہ جج یا سابق جج یا پھر سپریم کورٹ کے موجودہ یا سابق جج کی سربراہی میں ٹریبونل کے سربراہ تعینات کریں، ٹریبونل 3ماہ کے اندر انکوائری مکمل کرے گا تاہم ضرورت محسوس کیے جانے پر ٹریبونل کی مدت میں توسیع بھی ممکن ہوگی،ٹریبونل کے تمام تراخراجات سندھ حکومت برادشت کریگی اور ٹریبونل کیلئے سندھ ہائی کورٹ کے نزدیک ترجگہ فراہم کی جائے، انکوائری رپورٹ مکمل ہونے کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی جائے اسکے ساتھ ٹریبونل اس رپورٹ کو آرٹیکل 19۔اے کے تحت عوام کے جاننے کا حق سمجھتے ہوئے اسکو منظرعام پر لائے، رپورٹ کو اگر چھپایاگیاتو انکوائری کا مقصد مکمل طورپر ختم ہو جائےگا۔ دورکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں تحریرکیاہےکہ ٹریبونل انکوائری کرے کہ سانحہ 12 مئی کو عوام کو جوانصاف ملنا تھا اسکی فراہمی سے کیا اس کی فراہمی سے انکار کیا گیا؟ اس بات کا تعین کیاجائے کہ مسلح گروہ نے کس طرح سٹی کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کااتنی جلدی محاصرہ کیا؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں