آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پشاور، کابل (رائٹرز، جنگ نیوز) افغان طالبان افغانستان میں جاری تنازع کے خاتمے کے لئے امریکی حکام کے ساتھ مزید مذاکرات کے لئے اپنا وفد بھیجنے کی تیاری کررہے ہیں، برطانوی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ بات منگل کے روز اس امن عمل میں شامل دو طالبان عہدیداروں نے بتائی، انہوں نے بتایا کہ ان مذاکرات میں ممکنہ طور پر قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوسکتا ہے۔دوسری جانب افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں مقامی پولیس کمانڈر کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہونے والے شہریوں کے ایک اجتماع کے درمیان خود کش دھماکے سمیت دیگر حملوں میں32سے زائد افراد جاں بحق اور130زخمی ہوگئے۔فرانسیسی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ننگرہار پولیس ہیڈکوارٹرز کے کیپٹن قیس سیفی کا کہنا تھا کہ400 کے قریب شہری جمع تھے کہ ان کے درمیان ہی خودکش بمبار نے خود کو اڑا دیا۔تفصیلات کے مطابق طالبان کے دو عہدیداروں نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ طالبان رہنما تین سے چار رکنی وفد کی تیاری کے لئے ملاقات کررہے ہیں اور جس میں مختلف امور پر بات چیت کی

جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان مذاکرات میں قیدیوں کے تبادلے کا معاملہ اٹھائیں گے اور اگر امریکا نے قیدیوں کو رہا کرکے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو وہ ایک اور ملاقات پر بھی آمادہ ہوں گے۔ ان عہدیداروں میں سے ایک نے بتایا کہ مذکورہ ملاقات سے مستقبل کے مذاکرات کا تعین ہوگا اور ہم دیکھیں گے کہ آیا امریکا مذاکرات میں سنجیدہ اور مخلص ہے یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم افغانستان کی جیلوں میں موجود اپنے قیدیوں کی فہرست ان کے حوالے کریں گے۔ اگر انہوں نے ہمارے قیدیوں کو رہا کیا تو پھر ہم ایک اور عظیم مقصد کے لئے دوبارہ مذاکرات کریں گے۔ اگر ان مذاکرات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ ملاقات جولائی کے مہینے میں دوحا میں ہونے والے مذاکرات کا تسلسل ہوگا جہاں طالبان عہدیداروں نے امریکی محکمہ خارجہ میں جنوبی ایشیا کے لئے پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری ایلس ویلز سے ملاقات کی تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں