آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’آپس کی بات‘‘ میں میزبان منیب فاروق نے کلثوم نواز کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کی اہلیہ اور تین مرتبہ خاتون اول کا اعزاز حاصل کرنے والی محترمہ کلثوم نواز آج ہم میں نہیں رہیں 1950 ء میں لاہور کے ایک کشمیری گھرانے میں جنم لینے والی کلثوم نواز کی شخصیت کے کئی ایسے پہلو ہیں جس سے لوگ واقف نہیں نواز شریف کے دونوں ادوارِ حکومت خاتون اول ہونے کے باوجود کلثوم نواز نے کبھی بھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کی۔مشرف کی آمریت کے خلاف آواز بلند کری، بیماری کے دوران جہاں انہیں بہت سی ہمدردری اور پیار ملا وہیں بہت سے لوگوں نے چاہے ان کا تعلق سیاستدانوں سے ہو کوئی سیاسی جھکاؤ ہویا میڈیا کے اندر بیٹھے چند بڑے نام ہوں جنہوں نے بہت ہی بے رحم ریمارکس دیئے اور یہاں تک کہا گیا کہ یہ جھوٹ ہے اُن کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے لیکن اُن کو شرم ضرور دلائی جاسکتی ہے۔حکومت پاکستان کی طرف سے اقدامات بہت اچھے ہیں کہا جارہا ہے پیرول پر نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی کو رہا کیا جائے گا۔پروگرام میں مسلم لیگ ن کے میاں جاوید لطیف، تحریک انصاف کے ندیم افضل چن اور پیپلز پارٹی کی شہلا رضا اورسینئر صحافی زاہدہ حنانے بھی اظہار خیال کیا ۔ندیم افضل نے کہا کہ کسی کی بیماری پر

یا کسی کے انتقال پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، شہلارضا نے کہا کہ عمران خان سمیت دیگر سیاسی قیادت کو کلثوم نواز کی آخری رسومات میں شرکت کرنی چاہئے ۔جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ کلثوم نواز ایک بہادر خاتون تھیں شفیق ماں اچھی بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک لیڈر کی رہبری بیوی بھی تھیں۔مشرف دور میں ہم چاغی جارہے تھے لاہور سے ملتان میں ہمارے قافلے کو جب روکا گیا اور لاٹھی چارج ہوا مجھے کافی لاٹھیاں لگیں وہ نکل کر آگئیں مجھے بچانے کے لئے اور راستے میں مجھ سے پوچھتی رہیں کہ مجھے زیادہ چوٹ تو نہیں لگی حالانکہ مجھے بچاتے ہوئے اُن کو بھی لاٹھیاں لگیں تھیں۔ نواز شریف کا فیصلہ اگر کچھ دن بعد سنا دیا جاتا تو اُن کے خاندان میں جو ایک تکلیف ہے وہ اب کبھی دور نہیں ہوسکتی جس طرح بھٹو خاندان کے ساتھ کیا گیا آج تک سندھ کے لوگوں کو اُس کا ملال ہے ۔ندیم افضل کا کہنا تھا کہ کسی کی بیماری پر یا کسی کے انتقال پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اللہ کلثوم نواز کے خاندان کو صبرجمیل عطا کرے پرویز مشرف کے دور میں اُن کی جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہوں چند چیزیں ہماری سیاست میں بہت غلط ہیں جس میں میڈیا بھی شامل ہے۔یہ المیہ ہے اس ملک میں کہ سیاست کو اتنی گالی بنا دیا جاتا ہے اور اس کے مہرے بھی ہم خود ہی بنتے ہیں ہمیں اس پر سوچنا چاہیے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں