آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی(جنگ نیوز)مسلسل غیر حاضری پر اسحاق ڈار کو احتساب عدالت نے 11دستمبر 2017کو اشتہاری اور ملزم قراردیاتھااس حوالے سے جیو کے مارننگ شو’’ جیوپاکستان ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون راجا عامر عباس نے کہا کہ مفرور ملزم کی ساکھ عدالت کی نظر میں بھی خراب ہوتی ہے کسی اشتہاری کی عدم حاضری ججزکے ذہن میں ملزم کامنفی تاثر پیدا کرتی ہے مفروری کا اسحاق ڈار کو نقصان پہنچا۔ماہر قانون عارف چودھری کاکہنا تھا کہ مقدمات کا التواہوناعدالتوں کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے ججز صاحبان ترجیحی بنیاد پر اس مسئلہ کو حل کریں چیف جسٹس جیسے مختلف محکموں کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہیں ایسے ہی عدالتوں کے اندونی معاملات بھی ان کو دیکھنا ہوں گے۔عظمیٰ الکریم نے خصوصی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی خواتین سیاسی طور پر فعال ہیں اور یہ صورتحال امریکا ،ترکی اورسنگاپورجیسے ممالک سے بھی بہتر ہے،مزدور رہنما ناصرمنصور نے اظہارافسوس کرتے ہوئے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت سانحہ بلدیہ فیکٹری کے لواحقین کو انصاف دلانے کیلئے ورکرز کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی ۔پی کے 23شانگلہ کے ضمنی انتخاب پر گفتگو کرتے ہوئے جیونیوزکے نمائندے محبوب علی کا کہنا تھا کہ اے این پی ،جے یو آئی اور پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کے خلاف اتحاد کیا تھا مگر ان جماعتوں کی مقامی قیادت

نے شوکت یوسف زئی کی حمایت کی اسی پر وہ بھاری اکثریت سے جیتے۔جیو ڈاٹ ٹی وی کی ایڈیٹرفیچرزبے نظیرشاہ، جیونیوزکے نمائندہ لندن مرتضیٰ علی شاہ اور کوکنگ ایکسپرٹ ڈاکٹر صالحہ محمود نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔بائے قوم قائداعظم محمدعلی جناح کے یوم وفات پرانہیں خراج عقید ت پیش کیا گیا،11ستمبر 2001نیویارک شہر میں دوٹاورزپر مسافر بردارجہازٹکرادیئے گئے تھے جس کے نتیجے میں 2996افرادہلاک ہوئے۔ ماہر قانون راجاعامر عباس نے مزید کہا کہ ملزم کی غیر موجودگی میں کیس چلنے سے اسے ہمیشہ نقصان ہوتا ہےاسحاق ڈار کے مقدمات ان کی غیر موجودگی میں چلتے رہے ہیں جس سے انہیں نقصان ہوا۔کسی بھی ملزم کی غیر موجودگی میں جب اس کیخلاف کوئی مخالف عدالت کو ثبوت فراہم کرتا ہے تو ملزم کا وکیل کوئی اعتراض نہیں اٹھاسکتا کیوں کہ ملزم کیخلاف گواہی دینے والوں سے سوال و جواب کے نتیجے میں گواہوں کے بیانات میں تضادات سامنے آتے ہیں ماہرقانون کا مزید کہنے تھا کہ اسحاق ڈار کوواپس لانے کی ذمے داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے ماضی میں نگراں حکومت اورلیگی حکومت نے سابق وزیر خزانہ کو پاکستان لانے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کیں ۔برطانیہ اور پاکستان کے درمیان معاہدے کی اشدضرورت ہے کیوں کہ منی لانڈرنگ یا ملک کی دولت لوٹنے والوں کوسرمایہ کاری کیلئے برطانیہ قدرے محفوظ مقام لگتا ہے۔ پروگرام میں پی کے 23شانگلہ میں تحریک انصاف کی کامیابی پر بھی گفتگو کی گئی جہاں پی ٹی آئی امیدوار شوکت یوسفزئی 42ہزار 116ووٹ لیکر دوبارہ کامیاب ہوئے جبکہ لیگی امیدوارمحمد ارشادخان 22ہزار 315ووٹ حاصل کر سکے ۔یاد رہے اسی حلقے میں عام انتخابات 2018میں بھی پی ٹی آئی نے میدان مارا تھا لیکن خواتین کے 10فیصدسے کم ووٹ کاسٹ ہونے کے باعث الیکشن کالعدم قراردیئے گئے تھے۔اس حوالے جیو نیوزکے نمائندے محبوب علی کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے خلاف متعدد جماعتوں نے مرکزی اور صوبائی سطح پراتحاد کیا تھا ۔جن میں اے این پی ،جے یو آئی اور پیپلزپارٹی شامل ہیں لیکن اِن جماعتوں کی مقامی قیادت نے شوکت یوسف زئی کی حمایت کا اعلا ن کردیایہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی امیدوار کو 42ہزارسے زائد ووٹ ملے ہیں ۔خواتین کے ووٹ ڈالنے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے نمائندہ جیو نیوز نے بتا یا کہ اس بار خواتین کو ووٹ ڈلوانے کیلئے علمااکرام نے موثرکرداراداکیا اور اسے شرعی حق قراردیاتحریک انصاف کی حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس پر عمل نہ ہوسکا ۔پروگرام جیو پاکستان کے لئے عظمیٰ الکریم نے خصوصی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ورلڈاکنامک فورم کی جنڈرگیپ رپورٹ میں پاکستان 143نمبر پر ہے جبکہ ان ممالک میں جہاں خواتین سیاسی طور پر فعال ہیں ،پاکستان 95نمبر پر ہے ۔یعنی امریکا ،ترکی اورسنگاپورجیسے ممالک سے بھی بہتر ۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد اس رینکنگ میں مزید بہتری کی امید تھی کیوں کہ پی ٹی آئی خواتین کی پسندیدہ جماعت تصور کی جاتی ہے جلسوں کی بات ہویا ووٹ بینک کی ،خواتین نے حکمران جماعت کو مایوس نہیں کیا ۔لیکن تحریک انصاف کی وفاقی اور صوبائی کابینہ میں خواتین کی تعدادنہ ہونے کے برابر ہے ۔ پنجاب کی 23رکنی کابینہ میں صرف ایک جبکہ کے پی کے میں پہلے کی طرح کوئی خاتون شامل نہیں ۔کابینہ میں خواتین کی مجموعی تعداد صرف 7فیصد ہے جس سے بین الاقوامی طور پر ایک منفی تاثر ابھر یگا تاہم پی ٹی آئی کو اس جانب سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔جبکہ جیو ڈاٹ ٹی وی کی ایڈیٹرفیچرزبے نظیرشاہ کا کہنا تھا کہ اگر کابینہ میں خواتین کی تعداد کم ہوگی تو ا ن کی نمائندگی کون کریگا اوران کے لئے قانون سازی کس طرح ممکن ہوگی ۔ نئے عدالتی سال کا آغاز ہوگیا ہے اور معززعدلیہ کو مقدمات کے پہاڑ اور ادارہ جاتی اصلاحات جیسے مشکل چیلنجز کا سامنا ہے ۔سپریم کورٹ میں 40ہزار 540کیسز تاحال فیصلوں کے منتظر ہیں ۔ اسلام آباد سمیت چاروں رجسٹریوں میں دیوانی نوعیت کے 9ہزار 368مقدمات زیر سماعت ہیں ۔اس حوالے سے ماہر قانون عارف چودھری کاکہنا تھا کہ نئے مقدمات کا زیرالتواہوناعدالتوں کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے ۔مقدمات نمٹانے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے جبکہ عدالتوں کے ججز صاحبان کو بھی ترجیحی بنیاد پر اس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا ۔کچھ افراد تعلقات کی بنیاد پر جج بنے ہیں چیف جسٹس جیسے مختلف محکموں کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہیں ایسے ہی عدالتوں کے اندونی معاملات بھی دیکھنا ہوں گے ۔ بلدیہ ٹاوٴن فیکٹری سانحہ کوآج 6سال بیت گئے ۔واقعے میں 260مزدورزندہ جل گئے تھے ۔برسوں گزرگئے ، ورثا کو انصاف ملا اور نہ وعدوں کے مطابق رقوم ۔ ملزم رحمان عرف بھولا کو 2016میں بینکاک سے گرفتار کیا گیا جس پر دنیا کی خطرناک ترین آگ لگانے کا الزام ہے، تحقیقاتی کمیٹیاں بنیں اور جوڈیشل کمیشن بھی قائم کیا گیا مگر انصاف کادور دور تک پتا نہیں ۔مزدور رہنما ناصرمنصور نے اظہارافسوس کرتے ہوئے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت سانحہ بلدیہ کے لواحقین کو انصاف دلانے کیلئے ورکرز کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی ۔مزدور تنظیموں نے مل کرجدوجہد کی جس کے نتیجے میں ای اوبی آئی سے پنشن ملنے کا آغاز ہوا لیکن سانحہ کے مجرمان کو تاحال سزانہیں ہوسکی ،آج تک معلوم نہ ہوسکا کہ فیکٹری میں آگ خود لگی یا لگائی گئی تھی۔ اسے ایک سیاسی مقدمہ بنادیا گیا ۔تین جے آئی ٹی بنائی گئیں ہرجے آئی ٹی ایک دوسرے سے مختلف تھی جبکہ ایک بات ہر جے آئی ٹی میں سامنے آئی کے زیادہ ترمزدوروں کی اموات راستے بند ہونے،الارم نہ ہونے اورورکرزکی ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی ۔ناصرمنصور کا مزید کہنا تھا کہ صنعت کار ملازمین کو اپنا نوکر سمجھتے ہیں جبکہ وہ کمپنی کا ملازم ہوتا ہے کسی شخص کانہیں ۔قانون صرف کا غذ پر لکھا ہے جبکہ عمل درآمد کہیں نظر نہیں آتا ۔بدقسمتی سے اتنے بڑے سانحے کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا۔کراچی جیسے شہر میں فائر ٹینڈرنہیں ہیں ۔ماضی کی حکومتوں نے مزدوروں کیلئے کچھ نہیں کیا حالاں کہ وہ معیشت کیلئے ریڑ ھ کی ہڈی ہیں ۔یہاں تک کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں جو پاکستان میں آکر کاروبارکررہی ہیں وہ بھی مزدوروں پرجبرکررہی ہیں جبکہ جھوٹا سوشل آڈیٹنگ سرٹیفیکیٹ لے لیتے ہیں ۔ پروگرام میں ورلڈٹریڈسینٹر میں جاں بحق ہونے والوں کو بھی یاد کیا گیا ۔11ستمبر 2001نیویارک شہر میں دوٹاورزپر مسافر بردارجہازٹکرادیئے گئے تھے جس کے نتیجے میں 2996افرادہلاک ہوئے ۔حادثے کاذمے دار القائدہ کو ٹھہرایاگیا جس کے بعد پوری دنیا میں دہشتگردی کیخلاف جنگ کا آغاز ہوا۔افغانستان اس کا پہلا حدف بنا جہاں طالبان کی حکومت قائم تھی کیوں کہ طالبان حکومت نے القائدہ کی قیادت کو پناہ دے رکھی تھی ،دہشتگردی کیخلاف اس جنگ میں پاکستان بھی پیش پیش رہا جس کے نتیجے میں 60ہزارسے زائد پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ برطانیہ میں کوکنگ کا سب سے بڑا مقابلہ ماسٹرشیف جیتنے والی ڈاکٹرصالحہ خواتین کیلئے رول ماڈل بن گئی ہیں۔اگرچے صالحہ ایک سرجن ہیں لیکن انہیں کوکنگ سے شگف نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا ہے ۔جیونیوزکے نمائندہ لندن مرتضیٰ علی شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے مشہور کوکنگ ایکسپرٹ ڈاکٹر صالحہ محمود کا کہنا تھا کہ کا کہناتھا کہ ماسٹرشیف جیتنے کے بعد ان کی زندگی بدل گئی لوگ ان سے بیماری سے متعلق کم، کوکنگ کے بارے میں زیادہ سوالات کرتے ہیں دنیا میں پاکستانی کھانوں کو متعارف کرانا چاہتی ہوں تاکہ پاکستانی کھانوں کے ذائقے پہچانے جائیں۔صالحہ کے خاوند ڈاکٹر عثمان احمد کا کہنا تھا کہ ماسٹر شیف میں شرکت سے قبل صالحہ نے تمام تجربے مجھے کھانا کھلا کرکئے ۔ صالحہ کے کھانے بہت ذائقے داراورمنفردہوتے ہیں ۔ڈاکٹر صالحہ نیشنل ہیلتھ سروس کیلئے بطور ڈاکٹر کام کرتی ہیں جبکہ کوکنگ کے حوالے سے متعدد پروجیکٹ پربھی کام کررہی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں