آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد (نمائندہ جنگ)سابق سیکر ٹری الیکشن کمیشن و چیئرمین نیشنل ڈیمو کریٹک فائو نڈیشن کنور محمد دلشاد نے کہا ہے کہ بلدیاتی میئر کے براہ راست انتخاب سے صدارتی نظام حکومت کی طرف اہم پیش رفت ہوگی،اب بلدیاتی اداروں میں دو ہی جزو ہونگے ،یونین کونسل اور ضلعی کونسل،درمیان سے تحصیل کونسل کا تصور ختم کیا جا رہا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پرائم انسٹیٹیوٹ اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے باہمی اشترا ک سے اقتصادی وژن اسلام آباد کے حوالے سے منعقدہ فورم سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ ضلعی ناظم،میئر اور چیئرمین کے انتخابات براہ راست ہونگے اور وہ اپنے کونسلوں کے دائرہ اختیار سے نکل جائیں گے اور ضلعی ناظمین کے ما تحت تقریبا 22 سے زائد محکمے ہونگے ۔ پولیس اور اہم ادارے ان کے ماتحت ہونگے اور ان کی اپنی آزادانہ اسمبلی ہوگی اور ترقیاتی فنڈز بھی ان کو وفاق سے وصول ہونگے۔ پنجاب، خیبر پختونخواکے ناظم میئر براہ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہونگے تو وہ وزیر اعلیٰ کے ماتحت نہیں ہونگے اور ضلع کے تمام ارکان قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلی بھی ناظم کے ما تحت ہونگے ۔ تمام ترقیاتی سکیمیں ناظم کے ذریعے مکمل ہونگی اور ارکان پارلیمنٹ لارڈ میئر کے سامنے ہی جواب دہ ہونگے ۔اس پس منظر میں ملک

صدارتی نظام حکومت کی طرف مائل ہوگاا ور فیڈریشن مضبوط ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو صوبائی اسمبلی کی طرز پر نمائندگی دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے ۔ اسلام آباد کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے راولپنڈی،چکوال،جہلم اور اٹک کے اضلاع کو اسلام آباد کی صوبائی اسمبلی کے دائرہ کار میں لانا ہوگا ،اگر عمران خان لند ن اور سویڈن کی طرز پر بلدیاتی نظام بنانے میں کامیاب رہے تو عام آدمی کو ان اداروں تک رسائی با آسانی حاصل ہوگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں