آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کلثوم نواز کی عیادت کیلئے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی پانچ درخواستیں مسترد ہوئیں

اسلام آباد (وسیم عباسی) احتساب عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف نے متعدد بار حاضری سے استثنی کی درخواست کی تاکہ لندن میں اپنی بیمار اہلیہ کی عیادت کرسکیں لیکن احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کم از کم پانچ مواقع پر انکی درخواست مسترد کردی۔ پاکستان کی سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کا منگل کے روز جیل میں قید شوہر نواز شریف اور بیٹی مریم نواز کی غیر موجودگی میں انتقال ہوگیا۔ جولائی میں احتساب عدالت کی طرف سے 10سال اور 7سال کی سزا سنائے جانے سے قبل بھی دونوں رہنما احتساب عدالت کی جانب سے حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد ہونے کے باعث بیگم کلثوم نواز کی عیادت کرنے سے قاصر تھے۔ تاہم ایک موقع پر نوازشریف اور مریم نواز کو نیب عدالت کی طرف سے استثنیٰ دیا گیا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دو سابق وزرائے اعظم راجا پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی جو نیب عدالتوں میں ایسے ہی ریفرنسز کا سامنے کر رہے تھے، انہیں احتساب عدالت کی انہی جج کی جانب سے سیکورٹی اور ان کے رتبے کے باعث حاضری سے مستقل استثنیٰ دیا گیا۔آخر کار 6جولائی کو نواز شریف اور انکی بیٹی کو ایک متنازع فیصلے کے ذریعے جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس فیصلے کو سابق ریٹائرڈ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری نے انصاف کے تقاضوں کے منافی قراردیا۔

افتخار چوہدری کا موقف تھا کہ عدالت کرپشن الزامات سے بری کرنے کے بعد سابق وزیر اعظم کو سزا نہیں دے سکتی تھی۔ نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے حاضری سے استثنی کی پہلی درخواست 26ستمبر 2017کو دی گئی جس میں بیگم کلثوم نواز کی شدید علالت کا حوالہ دیا گیا۔ تاہم احتساب عدالت نمبر ایک نے درخواست مسترد کردی۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے حاضری سے مستقل استثنی کی درخواست میں استدعا کی تھی کہ انکی اہلیہ کی تین نازک سرجری ہو چکی ہیں اور اب ان کی بائیوپسی ہونا ہے جس کی وجہ سے نواز شریف ایسے نازک موقع پر انکے پاس اپنی موجودگی چاہتے ہیں۔ ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جن میں اسی عدالت نے ملزمان کو ذاتی طور پر حاضر ہونے سے استثنیٰ دیا تھا۔ خواجہ حارث نے استدعا کی تھی کہ انکی درخواست کے ساتھ بھی دیگر درخواستوں والا معاملہ کیا جائے۔ لیکن ابتدائی طور پر فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد عدالت نے حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی۔ فروری 2018میں نواز شریف اور مریم نے دوبارہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی تاکہ دو ہفتوں کیلئے بیگم کلثوم نواز کی عیادت کی خاطر لندن جایا جاسکے۔ ان کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو مطلع کیا کہ نواز شریف کی اہلیہ کی حالت نازک ہے اور انہیں اپنے شوہر اور خاندان کے دیگر افراد کی موجودگی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے عدالت کو نواز شریف کی واپسی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ انکے موکل پہلے بھی لندن سے واپس آچکے ہیں۔ تاہم نیب استغاثہ نے درخواست کی شدید مخالفت کی جس کے بعد ایک بار پھر نیب عدالت کی جانب سے مسترد کردی گئی۔ 22مارچ 2018 کو احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی بیگم کلثوم نواز کی عیادت کیلئے ایک ہفتے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترکردی۔بیگم کلثوم نواز لندن کے اسپتال میں ایک نازک سرجری سے گذر رہی تھیں۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اس بنیاد پر درخواست مسترد کردی کہ ایون فیلڈ ریفرنس کیس آخری مراحل میں ہے ۔ 20اپریل 2018 کو عدالت نے نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی بیگم کلثوم نواز کی عیادت کیلئے حاضری سے استثنیٰ کی ایک اور درخواست مسترد کردی۔ دونوں نے 20اپریل سے ایک ہفتے حاضری کیلئے استثنی مانگا تھا۔ احتساب عدالت نے سات دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی تھی تاہم جمعے کے روز کیلئے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظورکرلی تھی اور کہا تھا کہ اگر ملزمان حاضر نہ ہوسکیں تو اگلی سماعت کے موقع پر درخواست دے سکتے ہیں۔ 7جون 2018کواحتساب عدالت نے نواز شریف ، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی بیگم کلثوم نواز کی عیادت کیلئے 11جون سے 15جون تک چار دن حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مستردکردی۔ درخواست گذار شدید علیل بیگم کلثوم نواز کو دیکھنے لندن جانا چاہتے تھے جہاں ڈاکٹرز کے مطابق انکا آپریشن ہونا تھا۔ تینوں درخواست گذاروں نے اپنی استدعا کے ساتھ میڈیکل رپورٹ بھی لگائی تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں