آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی(جنگ نیوز)تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے کلثوم نواز کی بیماری پر سوال اٹھائے معافی مانگنا ان کے ظرف پر منحصر ہے، آج ان تمام لوگوں کیلئے شرمندگی کا مقام ہے جنہوں نے کلثوم نواز کی بیماری سے متعلق اچھی باتیں نہیں کیں، نواز شریف اور مریم نواز کو کلثوم نواز کے جنازے میں شرکت کی اجازت دیدی جائے گی، حسن نواز اور حسین نواز گرفتار بھی ہوجائیں لیکن انہیں اپنی والدہ کی تدفین میں شرکت کیلئے وطن واپس آنا چاہئے،مگر آئیں گے نہیں،حسن اور حسین نواز کو اپنے والد اور بہن کی طرح وطن واپس آکر اپنے کیسوں کا سامنا کرنا چاہئے۔ان خیالات کا اظہار امتیاز عالم، مظہر عباس، سلیم صافی، حسن نثار، حفیظ اللہ نیازی اور شہزاد چوہدری نے جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان عائشہ بخش سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میزبان کے پہلے سوال نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی طویل علالت کے بعد وفات، کلثوم نواز کی بیماری پر سوال اٹھانے والوں کو کیا ان کی وفات کے بعد خاندان سے معافی مانگنی چاہئے؟ کا جواب دیتے ہوئے

حسن نثار نے کہا کہ کلثوم نواز کی بیماری پر سوال اٹھانے والوں کو ان کے خاندان سے معافی مانگنی نہیں چاہئے کیونکہ یہ خاندان خود بھی ایسا ہی ہے، چند ماہ پہلے میری والدہ کی وفات ہوئی تو پاکستان میں سب نے تعزیت کی لیکن شریف خاندان میں حمزہ شہباز شریف کے علاوہ کسی نے تعزیت نہیں کی۔سلیم صافی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ جو کیا وہ سامنے ہے، ذوالفقار علی بھٹو او ر اکبر بگٹی کے جنازے میں تو اس کی فیملی کے لوگ بھی شریک نہیں ہوسکے، میاں شریف کی وفات پر نواز شریف کو وطن آنے نہیں دیا، اور اب ممکنہ طور پر ان کے بیٹے جنازے میں شریک نہیں ہوسکیں گے۔مظہر عباس نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تو نواز شریف سب سے پہلے اسپتال پہنچنے والوں میں شامل تھے، بیگم بھٹو اور کلثوم نواز بہت ہی غیرسیاسی خاتون تھیں لیکن دونوں خواتین نے سیاستدانوں سے بہت بہتر سیاست کی، کلثوم نواز نے اپنے بدترین سیاسی مخالفین کے بارے میں بھی غلط الفاظ استعمال نہیں کیے، کلثوم نواز کی بیماری پر سوال اٹھانے والے شاید معافی نہ مانگیں لیکن آئندہ کیلئے ایسے کسی کام سے احتراز کریں۔امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ کلثوم نواز غیرسیاسی خاتون تھیں لیکن آمریت کیخلاف باہر نکلیں، کلثوم نواز نے کینسر کے خلاف بہت طویل لڑائی لڑی، آج اعتزاز احسن سمیت ان تمام لوگوں کیلئے شرمندگی کا مقام ہے جنہوں نے کلثوم نواز کی بیماری سے متعلق اچھی باتیں نہیں کیں، کلثوم نواز، نواز شریف کی ابتدائی تقاریر بھی لکھتی رہیں، نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو پیرول پر رہا کرنا اچھی روایت ہوگی۔شہزاد چوہدری نے کہا کہ کلثوم نواز اقدار اور رواداری رکھنے والی خاتون تھیں، آج ظرف کا امتحان ہے جو کلثوم نواز کی بیماری سے متعلق غلط بات کرنے والے معافی مانگتے ہیں یا نہیں مانگتے، شریف خاندان کو کلثوم نواز کی تدفین اور بعد کے مراحل میں شرکت کا پورا موقع دینے کی ضرورت ہے۔حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے کلثوم نواز کی بیماری پر سوال اٹھائے معافی مانگنا ان کے ظرف پر منحصر ہے، ایسے لوگوں کا معافی مانگنا یا نہ مانگنا اتنا اہم نہیں ہے۔دوسرے سوال کلثوم نواز کی وفات، کیا نواز شریف اور مریم نواز کو جنازے میں شرکت کی اجازت دی جائے گی؟ کا جواب دیتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو کلثوم نواز کے جنازے میں شرکت کی اجازت دیدی جائے گی، کسی فیملی ممبر کی وفات پر کسی عام مجرم کو بھی پیرول ملنے میں مشکل پیش نہیں آتی ہے۔حسن نثار کا کہنا تھا کہ قانون کلثوم نواز کے جنازے کے موقع پر نواز شریف اور مریم نواز کو جتنی چھوٹ دیتا ہے دینی چاہئے۔سلیم صافی نے کہا کہ کلثوم نواز کے جنازے میں نواز شریف اور مریم نواز کی شرکت کیلئے قانون کے مطابق ہونا چاہئے، ریاست ماں جیسی ہوتی ہے اسے ماؤں کے معاملہ میں رحم دلی دکھانی جائے۔شہزاد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو کلثوم نواز کے جنازے میں شرکت کیلئے قانون کے مطابق زیادہ سے زیادہ سہولت دی جانی چاہئے۔مظہر عباس نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو کلثوم نواز کی وفات پر پیرول مل جائے گا ،حکومت کو طے کرنا ہے کلثوم نواز کی وفات پر نواز شریف اور مریم نواز کو کتنے دن کا پیرول دیا جائے گا، پیرول پاکستان کی سیاست میں سیاست کیلئے استعمال ہوتا رہا ہے، حکومتیں بنانے کیلئے قیدیوں کو پیرول پر رہا کر کے حکومت بنوائی گئیں، سرکاری ٹی وی نے جس طرح کلثوم نواز کے انتقال کی خبر نشر کی وہ بہت اچھی روایت ہے۔تیسرے سوال کلثوم نواز کی وفات، حسن نواز اور حسین نواز کو اپنی والدہ کے جنازے میں وطن آنا چاہئے؟ کا جواب دیتے ہوئے شہزاد چوہدری نے کہا کہ حسن نواز اور حسین نواز کو اپنی والدہ کی تدفین کیلئے پاکستان آنا چاہئے لیکن نہیں آئیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں