آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد(محمد صالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار)تین مرتبہ ملک کی خاتون اول رہنے والی منکسر المزاج خاتون بیگم کلثوم نواز شریف نے جن کربناک حالات میں داعی اجل کو لبیک کہا ہے اس سے سانحہ کے المناک ہونے کی شدت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ خبر پر پورا ملک سوگ میں ڈوب کر رہ گیا۔ یہاں تک کہ مخالفین بھی آنسو بہا رہے ہیں۔ سیاسی معاملات اور مخاصمانہ رویوں کے سامنے ڈٹ جانے کے بارے میں ان کے عزم میں کبھی کوئی کمزوری نظر نہیں آئی تھی وہ سیاست سے لاتعلق تھیں نوازشریف ان کی پوری کائنات تھے کچھ یہی کیفیت نوازشریف کی تھی۔ پاکستان میں ان کی ہم عصر اور ہم عمر شاید ہی کوئی دوسری خاتون ہوگی جسے قومی اور بین الاقوامی سیاست اور سیاسی رجحانات کا اس قدر شعور ہو۔ ان کے انتقال کو پاکستان میں نہیں عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی اپنی خبروں میں نمایاں جگہ دی ہے وہ خالص گھریلو خاتون تھیں انہیں لکھنے سے زیادہ پڑھنے کا شوق تھا وہ اردو زبان اور اس کے بیان پر قابل تعریف قدرت رکھتی تھیں اچھی تحریر پر داد دینے میں بخل سے کام نہیں لیتی تھیں۔ وہ عندالضرورت سیاسی میدان میں اتریں اور کام مکمل ہوتے ہی واپسی میں انہوں نے تاخیر سے کام نہیں لیا۔ سیاسی میدان میں سرگرم رہنے کا دورانیہ زیادہ طویل نہیں تھا تاہم یہ آشوب اورطوفانوں کا زمانہ تھا وہ تیس سال

سے نوازشریف کی شریک حیات تھیں اور کسی کو ان کے بارے میں آگاہی حاصل نہیں تھی۔ وہ 1999 میں اس وقت بڑے طمطراق سے منظر عام پر آئیں جب ان کے شوہر کو پابند سلاسل کردیا گیا ان کی حکومت گرادی گئی ان کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ نون میں توڑ پھوڑ کےلئے وسیع پیمانے پر ریشہ دوانیاں جاری تھیں نوازشریف کے خیرخواہوں پر قافیہ حیات تنگ کر دیا گیا تھا ان میں سے بعض منظر سے غائب ہوگئے تھے اور کچھ فرار اختیار کرنے کی تیاری کررہے تھے ایسے میں وہ شمشیر برہنہ بن کر میدان میں اتریں اور آمریت کے خلاف سینہ سپر ہو گئیں انہوں نے نہ صرف پاکستان مسلم لیگ نون کو مکمل شکست وریخت سے بچایا بلکہ فوجی آمریت کے خلاف تحریک منظم کر کے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ مخالفین بیگم کلثوم نوازشریف کی شخصیت کی تحلیل نفیسی کرنے میں ناکام رہے وہ ان کی استعداد، صلاحیتوں اورعزائم کے بارے میں کوئی تخمینہ لگانے میں کامیابی حاصل نہ کرسکے موصوفہ نے اس دوران زبردست تنظیمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور اپنی قیادت کے ذریعے حکومت کو مفاہمت پر مجبور کر دیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں