آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے یکم ستمبر 2014؁ء کو دیئے گئے اشتہار کی روشنی میں پانچ سیٹیلائٹ ٹیلی ویژن براڈکاسٹ اسٹیشن لائسنسز کے اجراء کیلئے کامیاب بولی کا انعقاد کیا جن کیٹیگریزکے سیٹیلائٹ ٹی وی لائسنسز کے اجراء کیلئے منگل کو پیمرا ہیڈکوارٹرز میں بولی کا انعقاد کیا گیا ان میں خبریں وحالاتِ حاضرہ، تفریح ، کھیلوں، زراعت، صحت اور تعلیم شامل ہیں، اتھارٹی نے پیمرا آرڈیننس 2002ء کی سیکشن 19کے تحت بولی کے ذریعے سیٹیلائٹ ٹی وی لائسنسزاجراء کیلئے اہل کمپنیوں سے یکم ستمبر 2014؁ء کو دیئے گئے اشتہار کے تحت درخواستیں طلب کی تھیں جوقانونی چارہ جوئی کی وجہ سے تاخیر کا شکار تھیں تاہم عدالت نے فیصلہ پیمرا کے حق میں دے دیا جن کمپنیوں نے بولی میں حصہ لیا ان میں میسرز بول انٹرپرائزز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کراچی، میسرز گلیکسی براڈکاسٹنگ نیٹ ورک (پرائیویٹ) لمیٹڈ لاہور، میسرز حمزہ صادق نیوز نیٹ ورک (پرائیویٹ) لمیٹڈلاہور، میسرز گلام نیٹ ورک (پرائیویٹ) لمیٹڈاسلام آباد، میسرز وینس انٹرٹینمنٹ کمپنی(ایس ایم سی پرائیویٹ) لمیٹڈکراچی، میسرز رینائسینس(پرائیویٹ) لمیٹڈکراچی اور میسرز میڈیا روٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ اسلام آباد شامل ہیں، ہر کیٹیگری کے کامیاب بولی دہندگان میں میسرز

گلیکسی براڈکاسٹنگ نیٹ ورک (پرائیویٹ) لمیٹڈ لاہور نے نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز کیٹیگری کیلئے 63.5ملین روپے، میسرز بول انٹرپرائزز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کراچی نے انٹرٹینمنٹ کیٹیگری کیلئے 48.5ملین روپے ، میسرز میڈیا روٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ اسلام آبادنے ایگریکلچرکیٹیگری کیلئے 10.5ملین روپے ، میسرز گلام نیٹ ورک (پرائیویٹ) لمیٹڈاسلام آباد نے ہیلتھ کیٹیگری کیلئے 10ملین روپے اور میسرز رینائسینس(پرائیویٹ) لمیٹڈکراچی نے ایجوکیشن کیٹیگری کیلئے 10.5ملین روپے کی کامیاب بولیاں دیں،کامیاب بولی دہندگان کو 15دن کے اندر زرِبیعانہ جمع کرانا ہو گا۔پیمرا پاکستان ڈی ٹی ایچ لائسنس آئندہ ماہ جاری کرنے کی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہے، تین ڈی ٹی ایچ لائسنس جاری کئے جائیں گے، ڈی ٹی ایچ (DIRECT TO HOME) لائسنس کیلئے اوپن آکشن اکتوبر 2016 میں ہوئی تھی اس وقت سے یہ اہم معاملہ تاخیر کا شکار چلا آرہا تھا، پیمرا کے نئے چیئرمین نے عہدہ سنبھالتے ہی ملک وقوم کے بہترین مفاد اور پاکستان پر غیر قانونی انڈین ڈی ٹی ایچ کی اجارہ داری کے خاتمے کیلئے تیز رفتاری سے اقدامات کئے، انڈیا کا غیر قانونی ڈی ٹی ایچ پاکستان سے اربوں روپے کا زرمبادلہ لے جارہا تھا اور اب بھی لے جارہا ہے جو قومی خزانے کا بہت بڑا نقصان ہے ،علاوہ ازیں غیر قانونی انڈین ڈی ٹی ایچ پر ٹیلی کاسٹ نشر ہونے والے ٹی وی چینل اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اساس اسلام کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے اسلامی کلچر سماجی و اخلاقی اقدار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے ،پاکستان میں غیر قانونی انڈین ڈی ٹی ایچ جن کی تعداد 7سے زیادہ ہے براہ راست انڈیا سے سری لنکا سے اور یو اے ای سے ٹیلی کاسٹ کر رہا ہے، غیر قانونی انڈین ڈی ٹی ایچ کے پاکستان میں موجود ایجنٹ 5سے 7ہزار روپے کا ریسور (RECEIVER) اور (SET OF BOX) سیٹ آف باکس فراہم کرکے ماہانہ1500سے 2ہزار روپے سروس چارجز کی مد میں لے رہے ہیں ،پاکستان میں غیر قانونی انڈین ڈی ٹی ایچ کے ریسور/ سیٹ آف باکس 50لاکھ سے زیادہ ہوگئے ہیں اور یہ تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے۔ پیمرا نے ایف آئی اے، کسٹم حکام، انٹیلی جنس ایجنسیوں سے اس نیک کام میں معاونت حاصل کی اس کے نتیجے میں بہت تعداد میں غیر قانونی انڈین ڈی ٹی ایچ کے ریسورز/سیٹ آف باکس اور ڈش انٹیناز چھاپے مار کر قبضے میں لے لئے مگر ان میں سے بہت سارے ملزموں کو قرار واقعی سزا آج تک کسی پاکستانی ادارے نے بوجوہ نہیں دی اس وجہ سے غیر ملک دشمن کاروبار پاکستان میں فروغ پاتا رہا۔ انڈین ڈی ٹی ایچ کے اثرونفوذ کو ختم کرنے کیلئے پاکستان کے تین ڈی ٹی ایچ جلد سے جلد فعال کئے جارہے ہیں ، پیمرا قانون کے مطابق ڈی ٹی ایچ کے تینوں لائسنس کے دیئے جانے کے ایک سال کے اندر لائسنس یافتگان کو ڈی ٹی ایچ فعال بنانا ہوں گے، یہ لائسنس 11اکتوبر 2018تک پیمرا سے جاری کر دیئے جائیں گے، یہ لائسنس نومبر 2016میں ہونے والی نیلامی کے دوران اسٹار ٹائمز کمیونی کیشن، میگ انٹرٹینمنٹ اور شہزاد اسکائی نے سب سے زیادہ بولی دے کر حاصل کئے۔ پاکستان ڈی ٹی ایچ کا ایک لائسنس پانچ ارب 24 کروڑ روپے تک کا نیلام ہوا اس رقم کی ادائیگی آئندہ دس سے پندرہ سالوں میں ہوگی ،اس کا آغاز لائسنس کے اجراء سے ہوگا پہلی قسط لائسنس لیتے ہی ادا کرنا ہوگی۔پیمرا لائسنس والے 130 پاکستانی ٹی وی چینل پاکستانی ڈی ٹی ایچ پر دیکھے جاسکیں گے جن کی کوالٹی غیرقانونی ہندوستانی ڈی ٹی ایچ سے بہتر ہوگی اور پاکستانی قوم کو صحتمندانہ تفریحی پروگرام بشمول نیوز، اسپورٹس وغیرہ دیکھنے کو ملیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں