آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایوان صدر میں بھی تبدیلی آ گئی۔ ملک کے بارہویں صدر ، ممنون حسین اپنی آئینی میعاد مکمل کر کے ایوان صدر سے رخصت ہو گئے۔ ان کی جگہ اب ڈاکٹر عارف الرحمٰن علوی نے لی ہے جو4ستمبر2018ء کو 353ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے۔ ان کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمٰن کو185اور چوہدری اعتزاز احسن کو124ووٹ ملے۔ نومنتخب صدر نے کہا ہے کہ وہ ایوان صدر کی بجائے پارلیمنٹ لاجز میں رہائش رکھیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو ایوان صدر اپنے مکین سے محروم ہو جائے گا، لیکن شاید ہی اس فیصلے پر عملدرآمد کی نوبت آئے، کیونکہ ایوان صدر صرف صدر کی رہائش گاہ نہیں، مملکت کے وقار اور احترام کی علامت بھی ہے۔ یہ درست ہے کہ ایوان صدر کے سالانہ اخراجات تقریباً ایک ارب روپے کے قریب ہوتے ہیں، لیکن ان اخراجات میں کٹوتی کی جا سکتی ہے، شاہانہ شان و شوکت کی جگہ سادگی اختیار کر کے رقم بچائی جا سکتی ہے، لیکن ایوان صدر میں نہ رہنے کا فیصلہ مناسب نہیں ہے۔ صدر مملکت کا منصب ایک نمائشی یا علامتی عہدہ ہے، بہ ظاہر اس کی گنجائش یوں نظر نہیں آتی کہ پارلیمانی نظام میں وزیراعظم ہی سب کچھ ہوتا ہے اور صدر مملکت بھی اپنے اختیارات وزیراعظم کے مشورے کے مطابق ہی انجام دیتا ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ صدر کے منصب پر فائز شخص، استثنائی صورتوں کے سوا خود بھی وزیراعظم ہی کا انتخاب ہوتا ہے، لیکن یہ صورت جمہوری نظام میں نظر آتی ہے۔ اگر ملک میں آمریت ہو اور اقتدار فوج کے پاس ہو تو وزیراعظم، صدر کی مرضی سے مقرر ہوتا ہے، البتہ موجودہ جمہوری نظام میں یہ مثال موجود ہے کہ ایک منتخب سویلین صدر آصف علی زرداری نے اپنی پسند کے دو وزرائے اعظم کا تقرر کیا تھا۔ آصف علی زرداری کے فیصلے کے نتیجے میں پہلے یوسف رضا گیلانی وزیراعظم منتخب ہوئے، پھر جب ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں وہ وزیراعظم نہ رہے، تو راجا پرویز اشرف صدر آصف علی زرداری کا دوسرا انتخاب تھے۔ اس دور میں تمام انتظامی اختیارات کا مالک ہونے کے باوجود وزیراعظم، صدر مملکت کے تابع ہی تھا اور فیصلہ کن حیثیت صدر کو حاصل تھی کیونکہ صدر صدر مملکت برسراقتدار سیاسی جماعت کا سربراہ بھی تھا، لیکن جب نواز شریف برسراقتدار آئے تو صورتحال یکسر بدل گئی۔ نواز شریف نے اپنے پہلے دور حکومت میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس محمد رفیق تارڑ کو صدر مملکت کے منصب جلیلہ پر فائز کیا تھا، دوسرے دور میں سندھ کے سابق گورنر ممنون حسین ان کی نگاہ انتخاب کا مرکز بنے۔ 

نواز شریف نے محمد رفیق تارڑ اور ممنون حسین کا انتخاب ان کی کن خوبیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا تھا، یہ آج تک کوئی نہیں جان سکا، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر کا ’’انتخاب‘‘ خوبیوں پر نہیں، کچھ خامیوں اور کمزور پہلوئوں کی بنیاد پر عمل میں آتا ہے۔ مثلاً صدر کی شخصیت مرنجاں مرنج اور غیر متاثر کن ہو۔ اس میں ایسی جاذبیت اور کشش نہ ہو، جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن سکے اور وزیراعظم کے سامنے اور قومی منظرنامے میں ہر لحاظ سے دبی دبی نظر آئے۔ دبنگ اور بارعب تو بالکل ہی نہ ہو۔ قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیتوں کی گنجائش بھی نہ ہو۔ ایسی کمزور شخصیت ہو، جو ہمیشہ احسان تلے دبی رہے۔ کسی خاص وصف یا امتیاز کی مالک نہ ہو۔ زائدالعمر ہو تو زیادہ بہتر ہے کہ اس عمر میں انسان جاہ طلبی، نام و نمود اور اس نوع کی دیگر خواہشات سے دور ہو جاتا ہے، البتہ اس میں وفاداری کا جذبہ ہونا چاہئے تاکہ وزیراعظم کے لیے کسی صورت خطرہ نہ بن سکے۔ اس ’’حسن انتخاب‘‘ کو مدنظر رکھنے کی ابتدا1973ء کے آئین کے خالق، ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے ہوئی تھی۔ وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر فضل الٰہی چوہدری کو صدر پاکستان بنایا، وہ ایک پرانے سیاسی کارکن ضرور تھے، لیکن اس بھاری بھرکم عہدے کے لیے ان کی شخصیت قطعاً مناسب نہ تھی، قائدانہ صلاحیتیں نہ ہونے کے سبب وہ ضیاء الحق کے نافذ کردہ مارشل لاء کے خلاف ذرا بھی مزاحمت نہ کر سکے۔ جسٹس (ر) رفیق تارڑ کا بھی یہی حال رہا۔ جنرل پرویز مشرف کے غیراعلانیہ مارشل لاء کو برداشت کرتے رہے اور عوامی سطح پر کوئی کردار ادا کیے بغیر ایوان صدر سے رخصت ہو گئے، البتہ ان کے حصے میں یہ عزت ضرور آئی کہ جنرل پرویز مشرف نے وقت رخصت ان کی کار کا دروازہ خود کھولا، پیچھے ہٹے اور ایڑیاں بجا کر انہیں بھرپور سیلوٹ کیا۔

غلام اسحاق خان، جنرل ضیاء الحق کے انتقال کے بعد قائم مقام صدر بنے تھے، لہٰذان ان کا ردعمل فوجی صدر جیسا تھا اور وہ کسی وزیراعظم کی چوائس بھی نہ تھے، ضیاء الحق کے جاں نشین کی حیثیت اور آئین کی دفعہ58(2)B (اب مرحوم و مغفور) سے لیس ہونے کے ناتے جس نے کئی اسمبلیوں اور حکومتوں کا خاتمہ کیا۔ ذہنی طور پر وہ خود کو فوجی حکمراں سمجھتے تھے اور وزیراعظم کو اپنا ماتحت۔ یہ ذہنیت صدر اور وزیراعظم کے مابین ٹکرائو کا سبب بنی۔ پیپلزپارٹی کے ووٹوں سے صدر منتخب ہونے کے باوجود ان کا رویہ نہیں بدلا، وہ بینظیر بھٹو کا بطور وزیراعظم احترام کرنے سے گریزاں ہی رہے۔ شخصیتوں کا یہ تصادم بالآخر منتخب اسمبلیوں اور حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔ صرف بیس ماہ بعد ہی غلام اسحاق خان نے غلام محمد، اسکندر مرزا اور ضیاء الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے منتخب جمہوری حکومت ختم کر دی۔ غلام اسحاق خان نے یہی طرزعمل بینظیر بھٹو کے بعد منتخب ہونے والے وزیراعظم کے ساتھ اختیار کیا۔ وہ وزیراعظم کو ایک ایسا ’’گڈا‘‘ سمجھتے تھے، جسے انہوں نے آئی ایس آئی کی مدد سے تشکیل شدہ اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعے تخلیق کیا اور اقتدار میں لانے کی راہ ہموار کی، لیکن وزیراعظم نے صدر کی ڈکٹیشن پر چلنے سے انکار کر دیا۔ اس زمانے میں ملک کا انتظامی ڈھانچہ صدر اور وزیراعظم کے کیمپوں میں منقسم تھا۔ 

ایوان صدر کی بیوروکریسی کی جانب سے وزیراعظم کو روزانہ خطوط لکھنے کا سلسلہ جاری تھا۔ اس محاذ آرائی میں صدر کا پلہ بھاری ثابت ہوا اور غلام اسحاق خان نے وزیراعظم نوازشریف کی حکومت اور اسمبلیاں توڑ دیں۔ صدر مملکت کا یہ عمل سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا، تقریباً تین ماہ کی آئینی کشمکش کے بعد سپریم کورٹ نے صدر کا اقدام غیرآئینی قرار دے کر نواز شریف کی حکومت اور اسمبلیاں بحال کر دیں، مگر صدر اور وزیراعظم کے درمیان محاذ آرائی ختم نہ ہوئی۔ نتیجتاً فوج نے درپردہ مداخلت کی اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کے تجویز کردہ مفاہمتی فارمولے کے تحت صدر اور وزیراعظم دونوں ہی اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔ اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا، تو بینظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم منتخب ہو گئیں۔ ماضی کے تجربات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے پیپلزپارٹی کے دیرینہ، وفادار رہنما، فاروق احمد خان لغاری کو صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا اور وہ صدر بھی منتخب ہو گئے۔ اب صورت کچھ اس قسم کی بن گئی کہ وزیراعظم بینظیر بھٹو، صدر پاکستان کے رتبے اور پروٹوکول کو خاطر میں لائے بغیر دوران گفتگو انہیں ’’فاروق بھائی‘‘ کہہ کر مخاطب کرتی تھیں۔ کچھ قریبی افراد نے اپنی یادداشتوں کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ اس پر صدر پاکستان فاروق احمد لغاری کسمسا کر رہ جاتے، یہ طرز تخاطب انہیں اپنے منصب کے منافی محسوس ہوتا۔ رفتہ رفتہ ایوان صدر، بیوروکریسی اور فوج کے زیراثر آتا چلا گیا۔ صدر مملکت نے اپنے اختیارات کو بھرپور طور پر استعمال کیا، یہ وہی اختیارات تھے، جو جنرل ضیاء الحق نے اپنے دوراقتدار میں آئینی ترامیم کے ذریعے1973ء کے آئین میں شامل کروا کے صدر کے منصب کو طاقتور ترین اور وزیراعظم کے عہدے کو کمزور بنا دیا تھا۔ غلام اسحاق خان کے دور کی طرح ایوان صدر سے وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ہدایتی اور تنبیہی خطوط بھیجنے کی روایت حسب سابق جاری تھی۔ وزیراعظم بینظیر کا خیال تھا کہ انہوں نے فاروق احمد خان لغاری کو صدر پاکستان بنا کر ان پر احسان کیا ہے، لہٰذا وہ کوئی سخت قدم نہیں اٹھائیں گے، مگر یہ خوش فہمی تادیر قائم نہ رہ سکی۔ پیپلزپارٹی کے سابق جنرل سیکرٹری نے صدر پاکستان کی حیثیت سے اپنی ہی سیاسی جماعت کی حکومت اور اسمبلیاں ختم کر دیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ صدر کے اس عمل کو اقتدار کے اصل مرکز کی حمایت حاصل تھی۔

ملک میں ایک مرتبہ پھر انتخابات کا ڈول ڈالا گیا، پیپلزپارٹی کو اکثریت نہ ملی اور مسلم لیگ (نون) کو دوبارہ حکومت بنانے کا موقع مل گیا، ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے دوبارہ وزیراعظم منتخب ہونے والے نواز شریف نے اپنا ’’ہیوی مینڈیٹ‘‘ استعمال کیا، صدر پاکستان فاروق احمد خان لغاری اپنی آئینی میعاد پوری کیے بغیر اسی طرح ایوان صدر سے رخصت کر دیئے گئے جس طرح غلام اسحاق خان اسمبلیاں اور حکومت ختم کرنے کے بعد خود بھی ایوان صدر میں نہیں رہ سکے تھے۔ قدرت نے نواز شریف کو موقع فراہم کیا تھا، ذوالفقار علی بھٹو کے بعد وہ ملک کے دوسرے طاقتور وزیراعظم بن چکے تھے، ملک کو جسٹس رفیق تارڑ کی صورت میں چوہدری فضل الٰہی جیسا بے ضرر اور آئین کا پابند صدر نصیب ہوا۔ انہوں نے اپنی آئینی ذمہ داریاں بھرپور طریق پر نبھائیں۔ ان کا طرزعمل اپنے پیشرو سویلین صدور غلام اسحاق خان اور فاروق احمد لغاری سے بالکل مختلف تھا۔ آئین کے مطابق چلے، حکومت کے ناصح بنے اور نہ ہی وفاقی حکومت کو ہدایت نامے جاری کیے۔ وہ تمام ’’خوبیوں‘‘ پر پورے اترتے تھے، جن کا تعین ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بصیرت کے بل بوتے پر کیا تھا۔ خاموش طبع، وفادار، احسان مند، ذاتی اغراض و مقاصد سے لاتعلق، عمر رسیدہ، البتہ ان کے انتخاب سے ایک آئینی روایت کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔ صدر اور وزیراعظم کا تعلق اب ایک ہی صوبے سے تھا۔ نواز شریف نے ان کے معاملے میں انتہائی رازداری کا ثبوت دیا تھا۔ آخر وقت تک کسی کو پتا ہی نہیں تھا کہ وہ کس کو صدر بنانا چاہ رہے ہیں۔ جب ان کے نام کا اعلان ہوا، تو یہ سب کے لیے غیرمتوقع تھا، خود رفیق تارڑ کے لیےبھی، وہ اپنی پنشن لینے بینک گئے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں موبائل فون کی سہولت اتنی عام نہ تھی، رفیق تارڑ کے پاس موبائل فون نہیں تھا، گھر پر وزیراعظم ہائوس سے مسلسل فون پہ فون آ رہے تھے، جب وہ واپس گھر پہنچے، تو انہیں پتا چلا کہ نواز شریف نے انہیں صدر پاکستان بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کے والد میاں محمدشریف نے ان کا نام تجویز کیا تھا۔

صدر پاکستان کے طور پر نواز شریف کا دوسرا انتخاب ممنون حسین تھے۔ ان کے نام کی سفارش کسی نے نہیں کی تھی۔ ان کی نامزدگی سب ہی کے لیے حیران کن اور غیرمتوقع تھی۔ آصف علی زرداری جیسی سیاسی شخصیت کے صدر پاکستان کے آئینی منصب پر فائز رہنے کے سبب، گزشتہ پانچ سال کے دوران صدر مملکت کا عہدہ نمائشی یا علامتی نہیں رہا تھا بلکہ پورا سیاسی اور جمہوری نظام اسی کے گرد گھوم رہا تھا۔ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی حیثیت ثانوی تھی۔ اس نظام میں آصف علی زرداری کو وہی حیثیت حاصل تھی جو قیام پاکستان کے پہلے سال بابائے قوم محمدعلی جناح کی تھی، مرکزی کابینہ اور وزیراعظم ان کو جوابدہ تھے، بابائے قوم گورنر جنرل کی حیثیت سے تمام اہم فیصلے خود کرتے تھے۔ آصف علی زرداری جیسا فعال صدر رخصت ہوا اور اس کی جگہ ممنون حسین جیسی سادہ شخصیت اس منصب پر فائز ہو جائے، یہ سب کے لیے دھچکے سے کم نہ تھا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ صدارت کے لیے ممنون حسین کا انتخاب کر کے نواز شریف نے نہایت دوراندیشی، بصیرت، معاملہ فہمی اور تدبر کا ثبوت دیا تھا۔ صدر ممنون حسین نے اپنے پورے عہد صدارت کے دوران آئین کی مکمل طور پر پاسداری کی، آئین میں صدر کا جو کردار متعین کیا گیا ہے، اس سے سرمو انحراف نہیں کیا، حالانکہ ان کے اس عمل کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا گیا، کچھ حلقوں کی خواہش تھی کہ صدر مملکت اہم معاملات پر لب کشائی کرتے ہوئے قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں لیکن یہ خواہش صدر کے آئینی کردار سے متصادم تھی۔ بعض مواقع پر اس خواہش نے طنز، تضحیک اور تمسخر کی صورت بھی اختیار کی، سوشل میڈیا پر جملے کسے گئے، نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے پر کچھ حلقوں کی توقع تھی کہ صدر مملکت کا کوئی ردعمل سامنے آئے گا اور وہ نواز شریف کے احسانات کا بدلہ چکائیں گے، لیکن آئین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ممنون حسین اپنے آئینی کردار پر ڈٹے رہے، نہ ایک قدم آگے، نہ ایک قدم پیچھے۔ 

تمام تجزیہ نگار اور قانون دان اس امر پر متفق ہیں کہ انہوں نے بڑی غیرجانبداری سے اپنے آئینی فرائض انجام دیئے۔ ایوان صدر سیاسی اکھاڑا بنا، نہ ہی سازشوں کا مرکز۔ وفاقی حکومت کے معاملات میں رخنہ اندازی کی گئی، نہ ہی بے جا رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ صدر کے منصب کے تمام آئینی تقاضے، ہر اعتبار سے پورے کیے گئے۔ اب اس منصب پر ڈاکٹر عارف علوی براجمان ہیں، وہ یقیناً اپنے پیشرو کے نقش قدم پر چلنا چاہیں گے، جس طرح ممنون حسین نے اپنے انتخاب کو اپنے طرزعمل سے درست اور بہترین ثابت کیا اور انتخاب کرنے والی شخصیت کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائی، ثابت قدم اور وفادار رہے۔ یہی سب کچھ صدر عارف علوی بھی کریں گے اور آئندہ پانچ سال تک اپنا آئینی کردار خوش اسلوبی کے ساتھ نبھائیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں