آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی( اسٹاف رپورٹر) چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف ایک بار پھر’’کاغذی‘‘ ثابت ہوا۔کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی (سی سی اے سی)کے پہلے اجلاس میں ہی کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف ریکارڈ35 لاکھ23ہزار بیلز کم کر کے کاٹن ائر 19-2018 کانیا پیداواری ہدف ایک کروڑ 8لاکھ 47ہزار بیلز (170کلو گرام) مختص کر دیا گیا ،پوری کاٹن انڈسٹری میں تشویش کی لہر،ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضروریات پوری کرنے کے لئے تقریباً 40لاکھ بیلز درآمد کرنے کے امکانات ہیں ۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم نے اپنے بیان میں کہاکہ وفاقی حکومت کا ذیلی ادارہ فیڈرل کاٹن کمیٹی ہر سال ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر کپاس کا غیرحقیقت پسندانہ مجموعی ملکی پیداواری ہدف مختص کردیتی ہے جو پچھلے کئی سالوں سے حاصل نہیں کیا جا سکا۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال سندھ میں پانی کی غیر معمولی کمی کے باعث سندھ کے بیشتر کاٹن زونز میں کپاس کی کاشت میں غیر معمولی کمی واقع ہو ئی تھی لیکن اسکے باوجود ایف سی اے نے کاٹن ائر 19-2018

کے لئے کپاس کا مجموعی پیداواری ہدف ایک کروڑ 43 لاکھ37ہزار بیلز مختص کیا تھا جسے شروع میں ہی تمام اسٹیک ہولڈرز نے مسترد کر دیا تھا لیکن ایف سی اے نے اس پر نظر ثانی کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا تاہم گزشتہ روز سی سی اے سی کے اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے کے بعد کپاس کے مجموعی پیداواری ہدف میں ریکارڈ 35لاکھ 23ہزاربیلزکی کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے پوری کاٹن انڈسٹری میں تشویش دیکھی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایف اے سی ہر سال ایک کروڑ 40لاکھ بیلز کے لگ بھگ کپاس کا غیر حقیقت پسندانہ پیداواری ہدف مختص کرتی ہے لیکن عملی طور پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے ایک کروڑ 15لاکھ بیلز کے لگ بھگ کپاس پیدا ہو رہی ہے جس کے باعث ٹیکسٹائل ملز کو اپنی روئی درآمدی حکمت عملی ترتیب دینے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار میں کمی کا ایک بڑا فیکٹر محکمہ موسمیات کی غلط موسمیاتی پیش گوئیاں بھی ہیں کیونکہ پچھلے چند سالوں سے ہونے والی بڑی موسمیاتی تبدیلیاں جن میں خاس طور پر درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اور بارشیں شامل ہیں ان بارے محکمہ موسمیات پچھلے کئی سالوں سے درست پیش گوئیاں نہیں کر سکا جس سے کپاس کی فصل کو ہر سال غیر معمولی نقصان پہنچنے سے ہماری ملکی معیشت اور کسان دونوں کمزور ہو رہے ہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں