آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) سیری تھانے کی حدود میں نہر میں نہاتے ہوئے 8 مزدور ڈوب گئے، 6کو قریبی دیہات کے لوگوں نے بچالیا، ڈوبنے والے 2مزدوروں کی لاشیں منگل کو دوسرے روز بھی نہیں مل سکیں، ورثا نے لاشوں کی تلاش میں انتظامیہ کی جانب سے مدد نہ کرنے کے خلاف حیدرآباد ٹنڈومحمدخان روڈ پردھرنا دیکرروڈبلاک کردی ۔تفصیلات کے مطابق پیر کی شام مزدوری سے واپس آنے والے 8 مزدورتھکن دورکرنے اورتازہ دم ہونے کے لئے سیری پل کے قریب پھلیلی نہر میں نہانے کےلئے اترے تھے کہ نہاتے ہوئے پانی کابہاؤ تیز ہونے کے باعث ڈوبنے لگے، مدد کے لئے چیخ وپکار پر قرب وجوار میں موجود لوگوں نے 6 مزدوروں کو ڈوبنے سے بچاکر نہر سے نکال لیا جبکہ 2نوجوان مزدور 22سالہ گنیش میگھواڑ اور 24سالہ اتم میگھواڑ ڈوب گئے، فوری اطلاع پر سیری پولیس نے موقع پر پہنچ کر غوطہ خور طلب کرکے لاشوں کی تلاش شروع کردی تاہم لاشیں نہیں مل سکیں ۔منگل کو ڈوبنے والے مزدورں کے ورثاء نے پولیس اورانتظامیہ سے غوط خوروں کو طلب کرکے دوبارہ لاشوں کی تلاش کامطالبہ کیا لیکن غوط خورطلب نہیں کئے گئے جس پر ورثا مشتعل ہوگئے اوراحتجاج اور نعرے بازی شروع کردی، بعدازاں مظاہرین نے حیدرآباد ٹنڈومحمدخان روڈ پر احتجاجاً دھرنا دیکر روڈ بلاک کردی۔ مظاہرین کاکہنا تھا کہ گذشتہ روز غوطہ

خوروں کو لاشوں کی تلاش کے لئے جو رقم ان کے پاس تھی دیدی دوبارہ تلاش کے لئے غوطہ خوروں سے رابطہ کیا تو وہ مزید پیسے مانگ رہے تھے، ان کے پاس اب مزید رقم نہیں ہے انتظامیہ مدد کرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں