آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دورکنی بینچ کو سیکریٹری ایگری کلچر نے آگاہ کیاہےکہ کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص ،شہیدبے نظیرآباد،لاڑکانہ اورسکھر میں 6 کنزیومرکورٹس کے قیام کےلیے سمری وزیراعلیٰ سندھ کو بھیج دی گئی ہےجبکہ ڈائریکٹربیورو آف سپلائی اینڈ پرائسز کو سندھ پروٹیکشن ایکٹ 2014 کے تحت اتھارٹی بنادیاہے،دیگر23 اضلاع کےلیے مجسٹریٹس کو اضافی چارج دینے کےلیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے درخواست کی جائے گی،ڈپٹی کمشنرز ،سیکریٹری سوشل ویلفئرڈیپارٹمنٹ اورچیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریزکو بھی کہاگیاہےکہ وہ ڈسٹرکٹ کنزیومرپروٹیکشن کونسل کےلیے اپنے نمائندے نامزد کردیں۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو تحریریطورپر آگاہ کیا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے31 اگست 2018 کوچیف سیکریٹری سندھ کی صدارت میں سیکریٹری فنانس سندھ،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ،سیکریٹری قانون سندھ کی موجودگی میں اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹربیورو آف سپلائی اینڈ پرائسز اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری ہوگیاہے، اتھارٹی سندھ پروٹیکشن ایکٹ 2014کے تحت اتھارٹی کا وجود عمل میں لایا گیاہے،6کنزیومرکورٹس کےلیے ڈرائنگ ڈس پرسنگآفیسرز کی تقرری کردی ہے،رجسٹرارسندھ ہائی

کورٹ کو درخواست دی گئی ہےکہ وہ متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کو ہدایات جاری کریں کہ کنزیومرکورٹس کےلیے لیے اپنی حدود میں جگہ فراہم کریں اور اگر ایسا نہ ہوا توپھر کنزیومرکورٹس کےلیے ضلعی عدالتوں کے قریب کسی مقام پر کورٹس کرائے کی عمارت میں قائم کردی جائیں گی۔عدالت عالیہ کو بتایاگیاہےکہ کنزیومرکورٹس کے قیام اور فعال کرنے میں 8 سے 10 ماہ درکارہونگے اوراس سلسلے میں اجلاس کا دوسرا سیشن بھی طلب کیا جائے گا،عدالت عالیہ نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے دوسرے اجلاس کے منٹس بھی طلب کرلیے ہیں۔عدالت عالیہ میں درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ پیش ہوئے اوراپناموقف پیش کرتےہوئے عدالت عالیہ کو بتایاکہ سندھ اسمبلی نے2015میں سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2015 منظورکیا تاہم طویل مدت گزرنے کے باوجود تاحال حکومت سندھ نے کسی ضلع کے لیے کنزیومر کورٹ قائم نہیں کی ،کنزیومرکورٹس کاقیام عمل میں نہ لانا آئین و قانون کی خلاف ورزری ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں