آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ذرا آنکھیں کھولو کلثوم! باؤ جی‘‘

بائو جی پکارتے رہ گئے مگر کلثوم نے آنکھیں کھولنے کے بجائے ہمیشہ کے لئے موند لیں ۔بستر مرگ پر پڑی وفادار بیوی اور کیا کرتی ۔بدقسمتی سے وہ اس ملک کی خاتون اول رہیں جہاں بیماری کا یقین دلانے کے لئے مرنا پڑتا ہے۔

کلثوم نواز کے سانحہ ارتحال کی خبر ملی تو زُلیخا ابوالکلام کا خیال آیا جس نے کلثوم کی طرح اپنے شوہر کی سیاسی جدوجہد کا خراج ادا کیا ۔کس قدر کم ظرف ہوتے ہیں وہ لوگ جو سیاسی مخالفین کے اہل و عیال سے قربانیاں اور خراج وصول کرتے ہیں۔مولانا ابوالکلام آزاد کا شماربرصغیر کے ان سیاسی رہنمائوں میں ہوتا ہے جو برطانوی استعمار کے خلاف آخری وقت تک ڈٹ کر کھڑے رہے ۔30جولائی 1942ء کو کلکتہ سے گھر واپس آئے اور چند روز بعد آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے بمبئی روانہ ہونا تھا۔مگر اجلاس میں شرکت سے پہلے ہی انگریزسرکار نے تمام سرکردہ رہنمائوں کو گرفتار کرلیا۔مولانا ابوالکلام آزاد سمیت کئی رہنمائوں کو حراست میں لیکر قلعہ احمد نگر میں قید کر دیا گیا۔ اسیری کے دوران ہی ان کی اہلیہ شدید علالت کے بعد انتقال کر گئیں ۔گرفتاری سے قبل اپنی اہلیہ سے آخری ملاقات اور پھر قلعہ احمد نگر میں بیوی کی بیماری کے بعد موت کی خبر موصول ہونے کی سرگزشت مولاناابوالکلام نے ’’غبارِ خاطر‘‘ میں بیان کی ہے ۔لکھتے ہیں: ’’اس طرح کے حالات پر مجھ سے زیادہ زُلیخا کی نظر رہا کرتی تھی اور اس نے وقت کی صورتحال کا پوری طرح سے اندازہ کرلیا تھا ۔میں کام میں اس قدر مشغول رہا کہ ہمیں آپس میں بات چیت کرنے کا موقع بہت کم ملا ۔وہ میری طبیعت کی افتاد سے واقف تھی ۔وہ جانتی تھی کہ اس طرح کے حالات میں میری خاموشی بڑھ جاتی ہے اور میں پسند نہیں کرتا کہ اس خاموشی میں کوئی خلل پڑے۔ اس لئےوہ بھی خاموش تھی ،لیکن ہم دونوں کی یہ خاموشی بھی گویا ئی سے خالی نہ تھی ۔ہم دونوں خاموش رہ کر بھی ایک دوسرے کی باتیں سن رہے تھے اور ان کا مطلب اچھی طر ح سمجھ رہے تھے ۔3اگست کو جب میں بمبئی کے لئے روانہ ہونے لگا تو وہ حسب معمول دروازے تک خداحافظ کہنے کے لئے آئی ۔میں نے کہا ،اگر کوئی نیا واقعہ پیش نہیں آگیا تو 13اگست تک واپسی کا قصد ہے۔ اس نے خدا حافظ کے سوا کچھ نہیں کہا ۔لیکن اگر وہ کہنا بھی چاہتی تو اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتی تھی جو اس کے چہرہ کا اضطراب کہہ رہا تھا ۔اس کی آنکھیں خشک تھیں مگر چہرہ اشکبار تھا۔گزشتہ پچیس برس کے دوران کتنے ہی سفر پیش آئے اور کتنی ہی مرتبہ گرفتاریاں ہوئیں لیکن میں نے اس درجہ افسردہ خاطر اسے کبھی نہیں دیکھا تھا۔کیا یہ جذبات کی وقتی کمزوری تھی جو اس پر غالب آگئی تھی؟میں نے اس وقت ایسا ہی خیال کیا تھا ،لیکن اب سوچتا ہوں تو خیال ہوتا ہے کہ شاید اسے صورتحال کا ایک مجہول احساس ہونے لگا تھا ۔شاید وہ محسوس کر رہی تھی کہ اس زندگی میں یہ ہماری آخری ملاقات ہے ۔وہ خدا حافظ اس لئے نہیں کہہ رہی تھی کہ میں سفر کر رہا تھا ،وہ اس لئےکہہ رہی تھی کہ خود سفر کرنے والی تھی ۔‘‘

نوازشریف بھی جیل جانے سے پہلے آخری بار لندن گئے تو ان کی یہی خواہش تھی کہ کلثوم آنکھیں کھول کر ایک بارپھر اپنے بائوجی کو دیکھ لے ۔وہ چاہتے تھے کہ کلثوم نواز ہوش میں آئے اور ایک بار پھر اپنے شوہراور بیٹی کو ابتلا و آزمائش کے نئے سیاسی سفر پر روانہ کرے ۔کلثوم نواز تو وینٹی لیٹر پر تھیں مگر اس کے باوجود شاید انہیں ایک مجہول اور موہوم سا احساس تھا کہ سیاسی جدوجہد کا سب سے کٹھن مرحلہ آن پہنچا ہے ۔اس سے قبل جب جنرل پرویز مشرف نے جمہوریت پر شب خون مارا۔ نوازشریف اور شہبازشریف کو اٹک قلعہ میں قید کر دیا گیا تو بیگم کلثوم نواز نے ایسی لازوال اور بے مثال تحریک چلائی کہ سیاسی مخالفین کو بھی ان کی جرات و بہادری کی داد دینا پڑی۔ اٹھارہویں صدی میں آسٹریا کے مشہور موسیقار فرانز پیٹر شوبرٹ نے کہا تھا ،خوش قسمت ہے وہ شخص جسے کوئی سچا اور مخلص دوست مل جائے ۔اور اس سے کہیں زیادہ خوش قسمت ہے وہ شخص جس کی بیوی ہی اس کی سب سے مخلص اور سچی دوست ہو۔نوازشریف اس اعتبار سے قسمت کے دھنی ہیں کہ انہیں ہر دور میں گھر کی خواتین کا ساتھ حاصل رہا ۔ان کی والدہ شمیم بیگم ضعیف العمری میں بھی عزم و ہمت کا نمونہ ہیں اور اپنے بیٹے کی کمزوری کے بجائے طاقت ہیں ۔نوازشریف کی وفاشعار اہلیہ کلثوم نواز نے گھریلو خاتون ہونے کے باوجود نہ صرف مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ شوہر کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتی رہیں اور اب جب ایک بار پھر برا وقت آیا ہے تو ان کی بہادر بیٹی مریم نواز اپنے باپ کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں۔

مولانا ابوالکلام آزاد قلعہ احمد نگر میں قید تھے اور اس دوران پہلے خط اور پھر تار کے ذریعے اطلاع ملی کہ ان کی اہلیہ زُلیخا شدید علیل ہیں۔

بمبئی سرکار کی جانب سے بذریعہ جیل سپرنٹنڈنٹ یہ پیشکش کی گئی کہ اگر مولانا ابوالکلام آزاد کسی قسم کے ریلیف کی درخواست دیں تو اس پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔ان کے ساتھ قید جواہر لال نہرو نے بھی درخواست دینے پر قائل کرنے کی کوشش کی مگر مولانا سامراجی حکومت سے ہمدردی کی بھیک مانگنے کے روادار نہ تھے ۔مولانا آزاد بیان کرتے ہیںکہ11اپریل کی رات کوشش کے باوجود آنکھیں نیند سے آشنا نہیں ہوئیں اور اگلے روز جیل حکا م نے اطلاع دی کہ ان کی 36سالہ ازدواجی رفاقت اختتام پذیر ہوچکی ہے اور ان کی زُلیخا اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں کہ جیل کے احاطہ میں ایک پرانی گمنام قبر تھی جسے دیکھ کر وہ اپنی اہلیہ سے متعلق سوچتے رہے اور عربی ادب کا ایک مشہور مرثیہ بے اختیار یاد آتا رہا۔یہ مرثیہ جس کے بارے میں مولانا نے لکھا ہے کہ متمم بن نویرہ نے اپنے بھائی مالک بن نویرہ کی موت پر کہا ،اس کے اشعار کا مفہوم کچھ یوں ہے:

قبروں پر میری آنکھوں سے اشک ہائے غم کا سیلاب رواں دیکھ کر مجھے میرے رفیق نے ملامت کی اور کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ تم محض مالک کی وجہ سے ہر قبر کو دیکھ کر رونے لگتے ہو ۔تو میں نے کہا کہ درحقیقت ایک غم کا منظر دوسرے غم کا منظر تازہ کر دیتا ہے ،مجھے رونے دو کیونکہ مجھے ہر قبر مالک کی تربت محسوس ہوتی ہے۔(ترجمہ بشکریہ مفتی عدنان کاکاخیل )

ابوالکلام آزاد اور نوازشریف کا غم تو ایک جیسا ہے مگر میرے خیال میں ابوالکلام نوازشریف کے مقابلے میں کہیں زیادہ خوش قسمت تھے کہ انہوں نے سامراجی حکومت کے دورِ غلامی میں جنم لیا جہاں کسی کو بیماری کا یقین دلانے کے لئے مرنا نہیں پڑتا تھا ۔نوازشریف تو اس ملک میں سویلین بالادستی کا علم لیکر نکلا ہے جہاںجمہوریت پسندوں کی زندگیاں تو گریباں کے تار گنتے اور صلیبوں پہ جان دیتے گزر جاتی ہیں مگر پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹرز اور ان کے اہلخانہ عیش و نشاط سے جیتے پھرتے ہیں ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں