آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان برٹش پاکستانی سمیعہ شاہد قتل کیس کی منصفانہ تفتیش کیلئے مداخلت کریں، ناز شاہ

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) بریڈ فورڈ ویسٹ سے لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے وزیراعظم عمران خان پر زور دیا ہے کہ وہ برٹش پاکستانی سمیعہ شاہد کی اپنے والدین اور سابق شوہر کے ہاتھوں مبینہ قتل کی منصفانہ تفتیش اور ملزمان کو قرار واقعی سزا کو یقینی بنانے کیلئے مداخلت کریں۔ سمیعہ شاہد کو2016 میں ایک شخص سید مختار کاظم سے شادی کرنے کیلئے اپنے پہلے شوہر چوہدری شکیل سے، جو اس کا کزن تھا، خلع لینے پر قتل کردیا گیا تھا، مقدمے میں پیش رفت نہ ہونے اور قتل کی اس واردات میں شریک نہ ہونے کے بیان پر چوہدری شکیل کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے، اب ناز شاہ چاہتی ہیں کہ عمران خان اس معاملے میں مداخلت کر کے اس بات کو یقینی بنائیں کہ حکومت اس معاملے پر پیش رفت کرے اور اس معاملے کی حقیقی معنوں میں نگرانی کرے۔ انھوں نے کہا کہ مقتولہ کے سابق شوہر کی ضمانت پر رہائی پر مجھے تشویش ہے، مجھے اس مقدمے کی صورت حال پر تشویش ہے۔ عمران خان کے نام خط میں انھوں نے لکھا ہے کہ سمیعہ شاہد کو بہلا پھسلا کر پنجاب کے

گائوں پنڈوری میں دوسال قبل عزت کے نام پر قتل کیا گیا۔ ناز شاہ اس سے قبل بھی سمیعہ شاہد اور برٹش پاکستان بیرسٹر فہد ملک کے قتل پر تشویش کا اظہار کرچکی ہیں، جنھیں دو سال قبل قتل کردیا گیا اور جن کا مقدمہ پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ پہلی نظر میں اس کی موت پراسرار نہیں تھی لیکن اس کی جلد بازی میں تدفین سے اس حوالے سے سنگین الزامات سامنے آئے اور بین الاقوامی سطح پر اس حوالے سے آواز اٹھائے جانے کے سبب حقیقت سامنے آئی کہ اس کی موت دم گھٹنے سے واقع ہوئی، جس پر اس کے پہلے شوہر اور والد کو چارج کیا گیا، اس دوران اس کے والد کا انتقال ہوگیا، اس ہفتے مجھے معلوم ہوا ہے کہ واضح شواہد کی بنیاد پر قتل کا الزام ہونے کے باوجود ملزم کو دوسال زیر حراست رکھے جانےکے بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔ مجھے اس پر گہری تشویش ہے اور میں یہ سمجھنے کی کوشش کررہی ہوں کہ حکومت نے اس مقدمے میں انصاف کیلئے مداخلت کیوں نہیں کی اور آخر مقتولہ کی فیملی انصاف حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے اور تفتیشی ٹیم کو ادائیگی کرنے پر کیوں مجبور ہے۔ انھوں نے وزیراعظم کو لکھا ہے کہ انھیں خدشہ ہے کہ یہ مقدمہ بھی فراموش کردیا جائے گا اور اس میں مزید تاخیر سے یہ خدشہ ہے کہ سمیعہ اور اس کی فیملی کو انصاف نہیں مل سکے گا۔ آپ کی جانب سے اس یقین دہانی پر کہ ایسی صورت حال نہیں ہے اور اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تو مجھے خوشی ہوگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں