آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد (پ ر ) دی نیوز میں 11؍ ستمبر 2018ء کو شائع ہونے والی خبر کے حوالے سے نیشنل ہیومن رائتس کمیشن نے اپنے بیان میں ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ جاری کردہ بیان میں کمیشن نے کہا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ خبر کا مقصد کمیشن کو ایک ایسے موقع پر بدنام کرنا ہے جب ادارہ کمیشن اور اپنے ارکان کی مشترکہ کوششوں کی بدولت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ہیومن رائٹس کیسز بڑی تعداد میں نمٹائے جا رہے ہیں جن کا تعلق گھریلو تشدد، ماحولیات، پانی، تعلیم اور دیگر حقوق انسانی سے ہے۔ ان میں کاروبار اور ہیومن رائٹس کے کیس بھی شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کہی سنی باتوں پر شائع کی گئی خبر پر دھیان نہیں دینا چاہئے کیونکہ کمیشن کی زبردست کارکردگی کی تعریف نہ صرف پاکستان بلکہ معروف بین الاقوامی فورمز جیسا کہ اقوام متحدہ، ایشیا پیسفک فورم، سول سوسائٹی اور دیگر مقامات پر بھی کی جا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ معمولی معلومات کی بنیاد پر ایسے ادارے اور اس کے ارکان کی توہین ادارے کی بے توقیری پر منتج ہوگی۔ ادارے کو محب وطن پاکستانیوں کی حمایت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ادارہ سب کا ہے اور تمام پاکستانیوں کے حقوق کا محافظ ہے۔ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ایکٹ کے تحت یہ ادارہ ایک آزاد ادارہ ہے لیکن

اس طرح کی سازشیں کمیشن کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہیں تا کہ وہ اپنے عظیم مینڈیٹ کے مطابق کام نہ کر سکے۔ اس حوالے سے عثمان منظور کا کہنا ہے کہ دی نیوز کی نظر میں نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کا احترام قائم ہے اور خبر شائع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ادارہ پہلے سے زیادہ بہتر انداز سے کام کرے۔ یہ امر قابل ستائش ہے کہ کمیشن نے از خود اپنے ارکان کیخلاف کارروائی شروع کی تاکہ کارکردگی مزید بہتر کی جا سکے۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ نہیں کہ گیا کہ ادارے کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے رکن کیخلاف ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔ دی نیوز کی خبر کمیشن کی جانب سے جمع کی گئی دستاویزات پر مبنی تھی۔ اخبار اپنی خبر پر قائم ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں