آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے قتل کےالزام میں 14 سال سے قید بھگتنے والے ملزم سبط رسول کو مقدمے سے بری کردیا۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔دورانِ سماعت یہ بات سامنے آئی ملزم سبط رسول پر محمد امتیاز نامی شخص کو ڈنڈوں کے وار سے قتل کرنے کا الزام تھا۔مذکورہ قتل کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) 2004 میں تھانہ گوجر خان میں درج ہوئی تھی جس پر راولپنڈی کی سیشن عدالت نے سبط رسول سمیت چار ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی۔بعد ازاں سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی جس کی سماعت میں وکیل سبط رسول صدیق بلوچ نے موقف اختیار کیا کہ شریک ملزمان کو ہائی کورٹ نے بری کر دیا ہے۔وکیل کا کہنا تھا کہ فرانزک رپورٹ میں یہ بات درج نہیں کہ ڈنڈے کا وار کس نے کیا تھا جس سے مقتول کی ہلاکت ہوئی۔ بعد ازاں دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے 14 سال بعد ملزم کی رہائی کے احکامات دے دیئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں