آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہےکہ وزیراعظم کو آئی ایس آئی کے تمام شعبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، آئی ایس آئی دنیا کی پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسیوں میں شمار ہوتی ہے،وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر دورے کے بعد ہمارا اعتماد بڑھا ہے،پہلی بار سویلین حکومت اور فوج ایک صفحہ پر ہے اس موقع پر دہشتگردی کیخلاف جنگ میں شہید ہونے والے آئی ایس آئی اور دیگر ایجنسیوں کے اہلکاروں کی قربانیوں کا اعتراف بھی کیا گیا، وزیراعظم کو آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر میں بریفنگ کی دعوت دی گئی تھی، ہر نئے وزیراعظم کو آئی ایس آئی میں بریفنگ دی جاتی ہے لیکن بدھ کو بہت تفصیل سے بریفنگ دی گئی ،ان معاملات پر بھی کھل کر بات ہوئی جن پر عام طور پر سول ملٹری کو ایک صفحہ پر نہیں سمجھا جاتا ہے، فوج نے اس والے سے اپنا نکتہ نظر کھل کر سامنے رکھا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کھلے آدمی ہیں وہ دل میں بات رکھنے کے عادی نہیں ہیں، آرمی چیف نے بتایا کہ سول حکومت اور فوج کی سوچ میں اختلاف کی باتیں کیوں آتی ہیں ،پہلی بار سویلین حکومت اور فوج ایک صفحہ پر ہے، اب کسی دوسرے ملک کو یہ گلہ نہیں ہوگا کہ پاکستان کی سویلین

حکومت اور فوج مختلف بات کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکا ہو یا چین جو بھی پاکستان آرہا ہے اپنے دورے سے مطمئن ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کا جو موقف عوام میں ہوتا ہے وہی بند کمرے میں بھی ہوتا ہے، عمران خان کے دل میں جو بات ہوتی ہے وہ سامنے رکھتے ہیں، بدھ کو آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر میں بہت حساس امور پر تبادلہ خیال اور تجزیہ کیا گیا، پاکستان کا مفاد فوج اور سیاسی حکومت دونوں کو عزیز ہے، پالیسیاں آئیسولیشن میں نہیں بنتیں ان کے محرکات ہوتے ہیں، ہمارے پلان پر مکمل عملدرآمد ہوگیا تو پاکستان مضبوط اور ناقابل تسخیر قوت بن کر ابھرے گا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ریاست کی عملداری قائم ہونے میں ہمارا مفاد ہے، وزیراعظم اور فوج سوچتے ہیں کہ ملک میں مسلح جتھے اور انتہاپسند ختم ہوں، امریکا اور چین کے ساتھ اپنی اقتصادیات کو رکھ کر آگے چلنے میں ہمارا مفاد ہے، عمران خان کے بھارت سے متعلق موقف کو بھی فوج کی حمایت حاصل ہے،عمران خان اندرونی اور بیرونی معاملات پر جو بات بھی کریں گے اس میں نہ صرف اداروں کی رائے شامل ہوگی بلکہ وہ ان کی پشت پر کھڑے ہوں گے، ریاست کی پالیسی ایسی ہونی چاہئے جس میں تمام اداروں کو ساتھ لے کر چلا جاسکے، ریاست صرف وزیراعظم آفس کا نہیں تمام اداروں کے مجموعہ کا نام ہے، ادارے ہی مل کر ریاست بناتے ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ مغربی میڈیا کو سی پیک سے متعلق تحفظات ہیں ان سے جو بھی بات کی جائے وہ اسے ایسے پیش کریں گے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے، اسد عمر نے امریکی سفیر سے کہا آپ سی پیک سے نہیں گھبرائیں اپنی سرمایہ کاری لائیں،سی پیک پاکستان میں سرمایہ کاری کا بڑا ذریعہ ہے باقی ممالک کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے، افغانستان میں استحکام چاہتے ہیں تاکہ سی پیک وہاں تک بڑھایا جاسکے، امریکا اور سعودی عرب سرمایہ کاری کے منصوبے لاتے ہیں تو ویلکم کریں گے، سی پیک پر آرمی چیف نے جو بات کی وہ سول حکومت کے موقف سے مختلف نہیں ہے۔ سینئر تجزیہ کار مشرف زیدی نے کہا کہ سی پیک یا پاکستان اور چین کے تعلقات پر کبھی کوئی سوال نہیں اٹھا، سی پیک پر پہلی بار سوال اسی حکومت کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کے فائنانشل ٹائمز کو انٹرویو سے اٹھا ہے، سی پیک پر کوئی بات ہے تب ہی اتنی بات ہورہی ہے، چینی سفیر کی آرمی چیف کی میٹنگ اور بار بار وضاحت دے کر حکومت نے غیرمتنازع ایشو کو متنازع بنادیا ہے، عبدالرزاق داؤد پہلے بھی وزیر رہ چکے ہیں اگر وہ فائنانشل ٹائمز کو ایسا انٹرویو دیتے ہیں جو ملک کیلئے پرابلم بن جائے تو وہ وزیراعظم اور کابینہ کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ پچھلی حکومت جو بجٹ دے کر گئی اس میں ترمیم ضروری اقدام ہے، پچھلا بجٹ بنایا گیا تو خسارہ ساڑھے پانچ فیصد ہونے کا اندازہ تھا لیکن یہ سات فیصد کے قریب ہے، پی ایس ڈی پی میں کٹوتی اچھی بات نہیں لیکن یہ بجٹ خسارے پر قابو پانے کا آسان طریقہ ہے اس لئے حکومت ایسا کرے گی، ایف بی آر کے ریونیوز چار سو ارب روپے بڑھانا بڑا چیلنج ہوگا، پچھلی حکومت نے انکم ٹیکس میں جو کمی کی تھی اسے کم کر نا اور ریگولیٹری ڈیوٹیز بڑھانا صحیح قدم ہے۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ حکومت کو خسارے میں جانے والے اداروں کے اخراجات میں کمی پر بھی توجہ دینی چاہئے، پبلک سیکٹر کمپنیاں 750ارب روپے خسار ے جارہی ہیں اس میں کمی لانا ہوگی، یہ ادارے جب تک حکومت کی وزارتوں میں رہیں گے ان کے نقصانات کم نہیں ہوں گے، ایک ہولڈنگ کمپنی بنائی جائے جس میں بہت زیادہ خسارے میں جانے والے ادارے شامل کیے جائیں، خسارے میں جانے والے اداروں کی مینجمنٹ ٹھیک کرنا ہوگی تاکہ خسارہ کم ہوسکے۔ شوکت ترین نے کہا کہ حکومت کے پچاس لاکھ گھر بنانے کے منصوبے سے روزگار بڑھے گا، حکومت پانچ سال کے عرصہ میں ڈیڑھ دو ملین گھر بھی بنالے تو بڑی بات ہوگی اور اچھا اقدام ہے، کنسٹرکشن کے ساتھ دیگر 42صنعتیں جڑی ہوتی ہیں جس سے جی ڈی پی گروتھ بھی ہوگی، ہاؤسنگ فائنانس کیلئے ساڑھے دس فیصد انٹرسٹ پر قرضے دیئے جاسکتے ہیں، حکومت اس پر ڈیڑھ دو فیصد سبسڈی دے، حکومت کو گھر بنانے کیلئے فائنانسنگ پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے دینی چاہئے پبلک سیکٹر میں دینے سے خرابیاں پیدا ہوں گی۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ امریکا کا آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں پر اثر و رسوخ ہے وہ پاکستان کو وہاں مشکل وقت دے گا، آئی ایم ایف ایسی شرائط پیش کرے گا جو ہمارے لئے قبول کرنا مشکل ہوگا، پاکستان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، چین اور سعودی عرب کے علاوہ اپنی تجارتی توازن بھی ٹھیک کرنے کی کوشش کرے، آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے اپنی کوششیں ضرور کرنی چاہئیں، پاکستان کو دو تین سال کڑوے گھونٹ پی کر گروتھ کی طرف جانا چاہئے تاکہ گروتھ مستحکم رہے۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نےتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو وزیراعظم عمران خان اور کابینہ کے بعض اراکین نے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے آٹھ گھنٹے گزارے، اس موقع پر وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی، آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے وزیراعظم کا استقبال کیا، وزیراعظم کو اسٹریٹجک انٹیلی جنس اور نیشنل سیکیورٹی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں