آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ولادیوستوک، ٹوکیو (رائٹرز، جنگ نیوز) روسی صدر ولادیمر پیوٹن روس اور جاپان کے درمیان دوسری جنگ عظیم میں پیدا ہونے والی دشمنی کے خاتمے کے لئے معاہدے کی تجویز دے دی، بدھ کے روز روس کے شہر ولادیوستوک میں معاشی سمٹ کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک دوسری جنگ عظیم کی دشمنی کو ختم کرنے کے لئے رواں برس ایک معاہدے پر دستخط کریں، ولادیوستوک میں ہونے والی معاشی کانفرنس میں جاپانی وزیراعظم شنزو آبے اور چینی صدر شی چن پنگ نے بھی شرکت کی، اس موقع پر پیوٹن کا کہنا تھا کہ ہم گزشتہ 70 برس سے علاقائی تنازع کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہم 70 برس سے مذاکرات کررہے ہیں، اس موقع پر شنزو آبے کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے طریقہ کار کو بدلنا ہوگا، جاپانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آنے والی نسلوں کے لئے کام کریں، شنزو آبے کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے ابھی ایسا نہ کیا تو پھر کب کریں گے، اور اگر یہ ہم نے نہ کیا تو پھر کون کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق روس اور جاپان کے درمیان علاقائی تنازع کے باعث کئی دہائیوں سے ڈیڈ لاک برقرار ہے جس کے خاتمے کے لئے روسی صدر نے امن معاہدے کی تجویز دی ہے، روس اور جاپان کے درمیان تنازع کا مرکز چار جزیرے ہیں جو اسٹریٹجک اہمیت کے حامل کورلی میں واقع ہیں جس پر سویت یونین نے

1945 میں جنگ کے اختتام پر قبضہ کرلیا تھا تاہم جاپان اس علاقے پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے، اس تنازع کے باعث دونوں ممالک نے تاحال کسی امن معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں