آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کوالالمپور (رائٹرز) حزب اختلاف کی قیادت میں ملائیشیا کی سینٹ نے بدھ کے روز وزیر اعظم مہاتیر محمد کی نئی حکومت کو پہلا چیلنج دیتے ہوئے جھوٹی خبروں کے خلاف قانون کی منسوخی کا راستہ روک دیا۔ 93سالہ مہاتیر محمد نے مئی میں ہونے والے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کر کے ایک دہائی پر محیط نجیب رزاق کے دور کا خاتمہ کردیا تھا اور چھ دہائیوں میں پہلی بار ملائیشیا کی حکومت کی تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ تاہم ایوان بالا یا سینیٹ میں تاحال انتخابات میں شکست خوردہ باریسن ناسیونال کی زیر قیادت حزب اختلاف کے اتحاد کو اکثریت حاصل ہے جو نہ صرف قانونی بل کا راستہ روک سکتے ہیں بلکہ حکومتی اقدامات کو تاخیرکا شکار بھی کرسکتے ہیں۔ علاقے میں ملائیشیا ان چند ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے پہلے پہل جھوٹی خبروں کے خلاف قانون متعارف کرایاجبکہ سنگاپور اور فلپائن کا کہنا ہے کہ وہ جھوٹی خبروں سے نمٹنے کیلئے اقدامات پر غور کررہے ہیں۔ ناقدین نے نجب رزاق پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اس قانون کو استعمال کرتے ہوئے انتخابات سے قبل آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائی۔ ان دنوں نجیب رزاق کی حکومت کرپشن اور بد انتظامی سے متعلق تنقید سے نمٹنے میں کوشاں تھی۔ اگست میں ایوان زیریں نے جھوٹی خبروں سے متعلق بل 2018منظور کیا جس کی رو سے مکمل یا جزوی

جھوٹی خبر دینے پر 5لاکھ رنگٹ (ایک لاکھ تئیس ہزار ڈالر) جرمانہ اور چھ سال قید کی سزا مقرر کی گئی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں