آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کم سن موٹر سائیکل سواروں اور کار ڈرائیوروں کی سڑکوں پر ہوشربا تعداد اور آئے روز رونما ہونے والے حادثات کے پیش نظر لاہور ہائی کورٹ نے مروجہ قانون پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا جو حکم دیا ہے یہ وقت کی ضرورت اور دوسرے صوبوں کیلئے قابل تقلید ہے ۔حکم نامے کے تحت جہاں بھی کم عمر بچے ڈرائیونگ کرتے پائے جائیں گے ان کے سرپرست سے پہلے مرحلے میں بیان حلفی لیا جائے گا اور دوسرے مرحلے میں بیان حلفی کی خلاف ورزی کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہ ایک نہایت موثر حکمت عملی ہے بشرطیکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کار اس پر سختی سے عمل کرائیں۔ مزید برآں سڑکوں پر ہونے والے موٹر سائیکلوں کے حادثات میں زیادہ تعداد ہیلمٹ نہ پہننے والوں کی ہوتی ہے عدالت عالیہ کے جسٹس علی اکبر قریشی پر مشتمل فاضل بینچ نے ہیلمٹ پہننے کی پابندی پر عمل درآمد کرانے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ بنگلہ دیش میں ہیلمٹ استعمال نہ کرنے والے کو پیٹرول نہیں دیا جاتا۔ کم عمر بچوں کا موٹر سائیکل چلانا والدین کی حوصلہ افزائی کے بغیر ممکن نہیں اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر بچے ون ویلنگ کی طرف راغب ہوتے ہیں یہ ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے جس کے سبب اب تک بے شمار قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے علاوہ ازیں اس رجحان سے شاہرات پر ٹریفک رواں دواں رکھنے میں خلل پڑتا ہے۔ ٹریفک اشارے توڑنا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کا حرکت میں آنا نہایت ضروری ہے مزید برآں موٹر سائیکل رکشوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ساتھ اس میں بھی نو عمر بچوں کا ڈرائیونگ کرنا ٹریفک اہلکاروں کی چشم پوشی کی وجہ سے ہے شہر ہویا گائوں لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں یہ لوگ بھی قانون سے با لاتر نہیں ۔ٹریفک رواں دواں رکھنے، حادثات کی روک تھام اور بالخصوص چائلڈ لیبر کا یہ نیا رجحان فوری طورپر روکنا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں