آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن (مرتضیٰ علی شاہ/جنگ نیوز) بیگم کلثوم نواز شریف کی میت لاہور میں تدفین کیلئے ہیتھرو ایئرپورٹ سے پاکستان روانگی سے قبل ریجنٹس پارک مسجد (اسلامک کلچر سینٹر) پر نماز جنازہ کیلئے لائی گئی۔ تقریباً ایک ہزار افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ ان میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہاز شریف، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار، سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار، کلثوم نواز کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، سابق وفاقی وزیر چوہدری برجیس طاہر، سابق وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری عبدالمجید، پی ٹی آئی لندن کے صدر بیرسٹر وحید میاں اور مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کلثوم نواز کا لندن میں تقریباً ایک سال سے کینسر کا علاج ہو رہا تھا، بہترین طبی سہولتوں کے باوجود وہ بیماری کے خلاف اپنی جنگ ہار گئیں۔ ان کی عمر68 سال تھی۔ تین مرتبہ خاتون اول رہنے والی کلثوم نواز کی اگست2017 میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور عید الفطر سے دو روز قبل14 جون کو ان پر دل کا دورہ پڑا تھا۔ جس وقت ان کی میت نماز جنازہ

کیلئے مسجد کے مرکزی ہال میں لائی گئی تو بڑے جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، شہباز شریف اور کلثوم نواز کے بیٹے اس موقع پر بلند آواز میں رونے لگے۔ چوہدری نثار، جو کہ گزشتہ دو ہفتوں سے لندن میں موجود ہیں، وہ اسحاق ڈار اور شہباز شریف کے ہمراہ مسجد آئے اور نماز کے اختتام تک وہاں موجود رہے۔ سابق وزیراعظم کے بیٹے حسن اور حسین والدہ کی تدفین کیلئے میت کے ہمراہ پاکستان نہیں آئے، کیونکہ ان کے خلاف کیسز درج ہیں۔ نماز کے اوقات کے بارے میں کنفیوژن کے باوجود مسجد کا مرکزی ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ نماز جنازہ ظہر سے قبل ادا کر کے فوری بعد میت ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچا دی گئی۔ جہاں سے مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے میت کو قومی ایئرلائن کے ذریعے لاہور روانہ کیا گیا، میت کے ہمراہ میاں شہباز شریف پاکستان آئے ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد نماز جنازہ میں شرکت سے رہ گئی، جو یہ سمجھ رہے تھے کہ نماز جنازہ ظہر کے بعد ہوگی۔ مسجد کے باہر ٹریفک جام ہو گیا تھا، کیونکہ کارکن ایمبولینس کے ساتھ چل رہے تھے۔ اس موقع پر نعرے لگائے جا رہے تھے کہ ’’مادر جمہوریت الوداع‘‘۔ ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں