آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ4؍ربیع الثانی 1440ھ 12؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پرائیویٹ اسپتالوں میں مہنگے علاج، پارکنگ کی عدم دستیابی اور غیرقانونی اسپتالوں کی تعمیر پر چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کسی کو مادر پدر آزادی نہیں دے سکتے، ڈاکٹر لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے تو اسپتال بند کردیں۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں نجی اسپتالوں میں مہنگے علاج سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی بھی پرائیویٹ اسپتال خلاف قانون بنا ہے توکارروائی کی جائے، مریضوں سے روز کا ایک لاکھ روپے وصول کرتے ہیں، جبکہ دل کے اسٹنٹ ڈالنے کے ایک لاکھ وصول کر نے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے دوران سماعت استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود اضافی پیسے کیسے وصول کرسکتے ہیں؟ پی ایم ڈی سی نے جو طے کیا اس سے زیادہ کوئی وصول نہیں کرے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نجی اسپتالوں میں ایک مریض کا 30 دن کا بل آپ 40 لاکھ روپے بنا دیتے ہیں ، انہوں نے ڈاکٹرز اور اسپتال انتظامیہ کو اخراجات پر نظرثانی کرنے کا حکم جاری کیا۔

اس موقع پر ڈی جی ایل ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹرز اسپتال نے تجاوزات قائم کر رکھی ہیں، ایک کنال کے رہائشی پلاٹ پر تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جواسپتال قانون کے خلاف بنے وہ گرا دیئے جائیں، انہوں نے سوال کیا کہ کیا نجی اسپتال صرف امیروں کےلیے بنائے جاتے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اسپتالوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفع کمانا نہیں ہونا چاہیے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جن کے پاس طاقت اورپیسہ آتا ہے وہ خود کوقانون سے بالا سمجھتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں