آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
نوم چومسکی نے لکھا ہے کہ میں غزہ گیا تو مجھے پورا علاقہ دنیا کی سب سے بڑی جیل لگ رہا تھا۔ ظاہر ہے وہ علاقہ جہاں ننھے منے بچوں کو شہید کیا گیا ہو۔ جو کشت و خون کی ہولی اور آگ کا دریا کربلا کے واقعات کی یاد دلا کر آنکھیں نم کردیتا ہے امریکہ جو خود کو انسانی حقوق کا علمبردار کہلاتا ہے، اس نے اسرائیل کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی مخالفت کی تھی۔ یہیں اچھے یا برے انسان اور مملکت کی پہچان ہوتی ہے۔
ہمیں اپنا بچپن یاد ہے۔ نویں، دسویں محرم کو اماں روزے رکھتی تھیں۔ غریبوں میں کھانا تقسیم کرتی تھیں اور ہم سب شیعہ اور سنی بچے بلا جانے کے ہمارے درمیان کوئی فاصلہ یا تفرقہ ہے ہم سب شربت کی سبیلیں اور ناریل کٹا ہوا دھنیہ، جلوس کے شرکاء میں تقسیم کرتے تھے۔ اب یہ ہو رہا ہے کہ شناختی کارڈ چیک کرکے، لوگوں کو بسوں میں سے اتار کر گولیاں ماری جاتی ہیں۔ زیارتوں کے لئے جانے والے لوگوں کو ہی نہیں پوری بس کو جلا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوا کہ بچوں تک کو عاشورے کے دن مار ڈالا گیا۔
نہ رہے اردشیردکاوس جی کہ جوایسے موضوعات پر قلم ایسا اٹھاتا تھا کہ حکومتوں کی سانس رک جاتی تھی۔ کاوس جی نے کراچی کے لینڈ مافیا، بلڈرز مافیا، پلاٹوں کی بندر بانٹ اور ماحول کی آلودگی پر ایسا لکھا کہ حکومت سندھ کے بھی کان کھڑے ہوئے اور جب تک

حکومت نے کوئی باقاعدہ احکامات جاری نہ کئے کاوس جی تھے کہ لکھتے ہی رہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ ایک اتوار کو میں نے سردیوں کی دوپہر کا لنچ کیا تھا اور کاوس جی صاحب ایاز امیر کے ساتھ میرے گھر میں داخل ہوئے، بہت پیار کیا۔ بولے میں اردو لکھ پڑھ نہیں سکتا مگر مجھے بتایا گیا ہے کہ تم بہت اچھا لکھتی ہو۔ اب کتنے ایسے بڑے رہ گئے ہیں کہ جن سے ایسے داد ملے اور حوصلہ افزائی ہو۔ مجھے یاد ہے ایک زمانے میں یعنی بھٹو صاحب کی حکومت کے دوران ان کو سیاحت کا چیئرمین بنایا گیا۔ جب دیکھا کہ کوئی کام ہی نہیں کرتا تو انہوں نے خود ہی یہ عہدہ چھوڑ دیا مگر وہ بھٹو صاحب کے دوست رہے وہ بھٹو صاحب کے منہ پر سچ بول دیا کرتے تھے اور بھٹو صاحب ہنس کے ٹال دیا کرتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے تمام وزیر اعظموں اور صدور کے خلاف خوب لکھا جیل کے دروازے تک بھی جانا پڑا لیکن سچ لکھنا نہ چھوڑا۔
ایسا ہی سچ شفقت تنویر مرزا صاحب بھی لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے بھی جیل کی صعوبتیں کاٹیں، پنجابی زبان کی حرمت کے لئے نہ صرف لکھا بلکہ ہر قدم پر کوششیں بھی کیں۔ یوں تو بولنے میں بہت ہی شیریں گھلا لہجہ رکھتے تھے مگر اصول پسندی پر کبھی آنچ نہ آنے دیتے تھے۔ دوست دشمن کی پہچان رکھتے تھے اور موقع پرست لوگوں سے دعا سلام بھی نہ لیتے تھے۔ ان کی بیگم تمکنت نے بھی بھٹو صاحب کی حراست کے دوران، سیاست میں دن رات ایک کر دیئے تھے۔ کئی مرتبہ جیل بھی گئیں مگر جب بھی پیپلزپارٹی کے ہاتھ سیاست آئی دور سے بھی نہ پوچھا تمکنت بی بی کیسی ہو، شفقت اپنی آخری سانس تک امروز کے ملازمین کا مقدمہ لڑتے رہے سمت ظریفی یہ ہے کہ یونین نے بھی ان کی تعزیت نہیں کی اور وہ بہادر شخص بیماری کو ٹالتا ہوا دنیا سے چلا گیا۔
اسی طرح اصغر بٹ بھی چلے گئے۔ خاموش تو وہ کئی سال پہلے ہو گئے تھے کہ فالج کا ایسا حملہ ہوا کہ ان کا بولنا بند ہو گیا۔ کمال تو ہماری دوست، نثار عزیز بٹ کا ہے کہ جو ان کی خاموشی کی زبان سمجھتی رہی۔ ان کی ہر بات مانتی رہی، خدمت کرتی رہی۔ ان کے ڈراموں کی کتاب مرتب کرتی رہی اور جب کتاب آئی تو وہ جا چکے تھے۔ اچھے لوگوں کو یاد کرنے لگی ہوں تو مجھے ایک اور شخصیت بے پناہ یاد آرہی ہے ان کی گزشتہ دنوں وفات کا دن تھا۔ ہمارا سارا میڈیا جو فلموں کے لوگوں کو تو یاد کر لیتا ہے ڈاکٹر عبدالسلام جو کہ نوبل یافتہ تھے پاکستان کا فخر ہیں۔ پنج وقتا نماز پڑھتے تھے اور چھوٹوں کی بات بھی بڑی متانت کے ساتھ سنتے تھے۔ اتنے بڑے اسکالر کا یوم وفات آیا تو کسی کو بھی وہ عظیم شخص یاد نہیں آیا جبکہ مسلمانوں سے نفرت کرنے والے شخص بال ٹھاکرے پر ہر اخبار اور چینل نے باقاعدہ پروگرام پیش کئے حتیٰ کہ دو جرنلسٹ خواتین جنہوں نے پوری ممبئی کے بند ہونے پر احتجاج کیا تھا انکو زیر حراست لے لیا گیا۔
یہ تو تھے مرنے والے جن کا یاد کرنا مجھ پر قرض تھا مگر میں ٹائپ رائٹر کا کیا کروں میں نے آج سے تیس برس پہلے جب ٹا ئپ کرنا سیکھا تھا تو میرے ہاتھ دکھ جاتے تھے اور آج جب میں نے پڑھا کہ ٹائپ رائٹر کمپنی نے کام بند کردیا ہے کہ اب ساری دنیا میں ٹائپ رائٹر کی مانگ ختم ہو چکی ہے۔
اب ہم اپنے بچوں کو کیسے بتائیں گے کہ کیسے ہم ٹائپ راٹر ربن بدل کر چلایا کرتے تھے ۔ پہلے ٹھک ٹھک کرنے والے ٹائپ رائٹر تھے بعد ازاں بجلی کے ٹائپ رائٹر آگئے مگر ہمارے سارے بڑے ادیبوں جس میں منٹو صاحب ، کرشن چندر، بیدی اور اپندر ناتھ اشک شامل ہیں۔ ٹائپ رائٹر پر بھی افسانے لکھے تھے۔ ن۔م۔راشد صاحب کا ٹائپ رائٹر تو گورنمنٹ کالج لاہور کی لائبریری میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔ میں بھی ان ساری یادوں کو اس کالم میں محفوظ کر رہی ہوں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں