آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍جمادی الاوّل 1440ھ 21؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے اس کالم کا محرک مملکت اردن کے شاہ عبداللہ کا یہ بیان ہے۔

’’فلسطین عربوں کا مسئلہ ہے اس لئےغیر عرب اس سے الگ ہی رہیں تو بہتر ہے۔‘‘ تو آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ عرب کون ہیں اور کیا ہیں؟

اسرائیل کے ارد گرد چار ’’اسلامی ملک ‘‘ شادباد ہیں۔ مصر ،جس کے بغیر مشرق وسطیٰ میں جنگ نہیں ہوسکتی، دوسرا شام ، جس کے بغیر مشرق وسطیٰ میں صلح نہیں ہوسکتی ۔ تیسرا ارد ن، جس کی موجودگی کی وجہ سے اسرائیل اور فلسطینیوں میں کوئی تنازع طے نہیں ہوسکتا اور چوتھا لبنان ، جس کے سیکولر ازم کی وجہ سے دوسرے عرب ممالک میں بھی سیکولر ازم کی امید کی جاسکتی ہے۔ ان چاروں ملکوں کا مجموعی رقبہ 15لاکھ مربع کلو میٹر ہے جو محض 20ہزار کلومیٹر رکھنے والی ننھی منی اسرائیلی ریاست کے سامنے بے بس اور لاچار ہیں۔ ان چار ملکوں میں بسنے والے دس کروڑ 25لاکھ مسلمان 35لاکھ یہودیوں کے سامنے یا مقابل محض گوبھی کے پھولوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یعنی ڈیڑھ ارب مسلمان اور 35لاکھ یہودی۔ ہے کوئی مقابلہ؟

سوال یہ ہے کہ یہودیوں کو تعداد میں کم ہونے کے باوجود آج دنیا میں ان مشکلات اور مصائب کا سامنا کیوں نہیں ہے جن کا مسلمانوں کو کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود سامنا ہے۔تمام اسلامی ممالک کا مجموعی جی ڈی پی 2کھرب ڈالر کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے جبکہ صرف امریکہ کا جی ڈی پی 14کھرب ڈالر ہے۔ آج ساری عرب دنیا جن میں 22ملک شامل ہیں ، میں سالانہ 330کتابیں عربی زبان میں ترجمہ کی جاتی ہیں جبکہ یورپ کے صرف ایک چھوٹے سے ملک یونان میں اس سے پانچ گنا سے بھی زیادہ کتابیں یونانی زبان میں ترجمہ کی جاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ خلیفہ مامون رشید کے عہد حکومت میں اتنی ہی کتابوں کا ترجمہ ہوا تھا جتنا کہ آج سال بھر میں اسپین میں کتابوں کا ترجمہ ہوتا ہے۔

آج بالخصوص عربوں (جن کے پاس اربوں ڈالر ہیں) اور بالعموم ملت اسلامیہ کا یہ حال ہے کہ معمولی آزمائش اور حرص و طمع بھی ہمارے قدم ڈگمگا دیتی ہے۔تمام اسلامی یا مسلم ملکوں میں بہترین قدرتی وسائل مسلمانوں کے ہاتھ میں ہیں۔ دفاعی نقطہ نظر سے اہم زمینی ، فضائی اور بحری راستے مسلم ممالک کی ملکیت ہیں، دولت وثروت میں ترقی یافتہ ممالک بھی ان کی ہمسری کرنے سے قاصر ہیں اس کے باوجود ان مسلم ممالک کی بے ضمیری ، دہشت گردی ، رشوت ، چوری ڈاکے ، قتل و غارت ، آمریت اور اظہار حق پرپابندیا ں موجود ہیں۔ خوف کا یہ عالم ہے کہ امریکہ کے مظالم پر زبان بھی کھولنے کو تیار نہیں ہیں۔ اسرائیل اور یہودی کمپنیوں ، اداروں اور ذرائع ابلاغ کا بائیکاٹ بھی نہیںکر پاتے بلکہ ایک خبر کے مطابق اب توبعض خلیجی ممالک میںآئمہ مساجد، یہود ونصاریٰ کے خلاف بددعا (کیونکہ مسلمانوں کے پاس صرف بد دعا کا ہتھیار ہی رہ گیاہے) کرتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں۔

میرے حساب سے آج اسلام کو جتنے چیلنجز کا سامنا ہے اس میں سرفہرست میڈیا کی یلغار ہے جس پر سو فیصد صہیونیت کا قبضہ ہے۔ ٹیلی وژن، ریڈیو، اخبارات اور انٹرنیٹ وغیرہ جتنے ذرائع ابلاغ ہیں عالمی سطح پر سب کے سب صہیونیت کی دسترس میں ہیں وہ جس طرح چاہتےہیں انہیں استعمال کرتے ہیں۔ یہ میڈیا کے ’’مافیا‘‘ ہیں جو یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس قسم کے میڈیا پر کون سی خبریں یا مناظر دکھائے جانے ہیں اور کن واقعات سے دنیا کو اندھیرے میں رکھنا ہے۔ اگر عالمی سطح پر الیکٹرانک میڈیا کے کاروبار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کی 99فیصد صنعت یہودیوں کے قبضہ میں ہے جبکہ فلم انڈسٹری کا 80فیصد حصہ یہودیوں کے پاس ہے۔ پرنٹ میڈیا کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ اس وقت امریکہ سے 2ہزار اخبارات شائع ہورہے ہیں،ان میں75فیصد اخبارات کے مالک یہودی ہیں۔ یہودی اشاعت کو اس قدرعزیز سمجھتے ہیں کہ ایک ایک یہودی فرم50,50اخبارات اور میگزین شائع کررہی ہے۔ ’’نیوز ہائوس‘‘ ایک اشاعتی ادارہ ہے جو بیک وقت 26روزنامے اور 24میگزین شائع کررہا ہے اس کے علاوہ نیویارک ٹائمنر ،وال اسٹریٹ جرنل، واشنگٹن پوسٹ ، دنیا کے تین بڑے اخبار ہیں۔ نیویارک ٹائمنر روزانہ 95لاکھ کی تعداد میں شائع ہوتا ہے اس کے علاوہ تین بڑی نیوز ایجنسیاں جن میں رائٹر جیسی دیو قامت ایجنسی بھی شامل ہے، یہودیوں کی ملکیت ہیں۔ اس وقت دنیا میں پانچ بڑی میڈیا فرم ہیں۔ والٹ ڈزنی ، ٹائم وارنر ، وایا کام یا وایا پیرا مائونٹ ، نیوز کارپوریشن ،اور سونی، والٹ ڈزنی دنیا کی سب سے بڑی میڈیا کمپنی ہے اس کے پاس دنیا کے تین بڑے ٹیلی وژن چینلز ہیں۔ اے بی سی نام کا دنیا کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا کیبل نیٹ ورک ہے صرف امریکہ میں اس کے ایک کروڑ 50لاکھ کنکشن ہولڈرز ہیں (ناظرین کا اندازہ آپ خود لگالیں) دو ریڈیو پروڈکشن کمپنی ، 3فلمیں بنانے والی کمپنیاں، دو آرٹ کے ٹی وی چینلز، گیارہ ریڈیو اسٹیشن اور دس ایم ایف چینلز ہیں۔ دنیا کی 225ٹیلی وژن کمپنیاں ’’والٹ ڈزنی کمپنی‘‘ سے وابستہ ہیں علاوہ ازیں یورپ کے بے شمار چینلز اور اسٹیشن اس کے قبضہ قدرت میں ہیں اس میڈیا فرم کا چیف ایگزیکٹو ایک یہودی ہے جبکہ اس کے 99فیصد ڈائریکٹر ، پروڈیوسر ، رائٹرز ، منیجرز اور جنرل منیجر سب کے سب یہودی ہیں۔

میرے اس مختصر سے جائزے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ عملاً پوری دنیا میں میڈیا پر یہو دیوں کا قبضہ ہے اور دنیا کا تمام سرچ انجن ان کے ہاتھوں میں ہے۔ دنیا کو چلانے والے ’’کی بورڈ‘‘ پر یہودی بیٹھےہوئےہیں ۔ان حالات میں مسلمانوں سے میرا مطالبہ ہے کہ حالات چھپانے سے کوئی تبدیلی نہیں آتی، حالات منظر عام پر لائےبغیر اور اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں سے آنکھیں چار کئے بغیر ہم کس طرح جان سکتے ہیں کہ ہم کہاں پیچھے رہ گئے ہیں؟ ۔

آسمانوں سے پکارے جائیںگے

ہم اسی دھوکے میں مارے جائیںگے

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں