آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تنقید قبل از فیصلہ مفید

درست کہ حکومت نے ابھی افغان اور بنگالی مہاجرین کو شہریت دینے کا فیصلہ نہیں کیا صرف تجاویز مانگی ہیں، اس پر جو تنقید ہے وہ بھی مفید تجاویز ہیں، اور کون نہیں جانتا کہ افغان مہاجرین کے باعث ہمارے کئی مسائل پیدا ہوئے اور مزید ہوں گے، اس لئے پنجابی کی اس کہاوت کا حکومت مصداق نہ ہے ’’آپ نہ کسے جوگی تے گوانڈ بلاوے‘‘ میڈیا پر اس حوالے سے جو بحث آئی وہ حکمران غور سے سنیں غلط نہیں ہے، بلکہ اس میں تجویزیں بھی ہیں ترکیبیں بھی ناقدین کو اور بالخصوص میڈیا کو حکومت اپنی بی ٹیم سمجھے دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے صحافت، حکومت کا تھنک ٹینک ہوتی ہے، اور پالیسیاں وضع کرنے میں ان کا عمل دخل ہوتا ہے، مہاجرین کو بخیر و خوبی اب رخصت کرنا چاہئے ہمارا ان کو مستقل رکھنے کا کوئی معاہدہ نہیں 100دن کی مہلت سر آنکھوں پر لیکن اگر سارے نقصان کا باعث فیصلے 100دن ہی میں ہو گئے تو کھیت چگنے کے بعد چڑیاں اڑانے سے کیا حاصل اور تنقید کا کیا فائدہ، حکومت میڈیا کو اعتماد میں گاہے گاہے لے لیا کرے، میڈیا میں حکومت کے خلاف کوئی مہم نہیں چل رہی، بلکہ بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ ابھی ابھی تو آئی ہے، مگر ابھی ابھی درپیش فوری نوعیت کے مسائل پر میڈیا کی خاموشی مجرمانہ غفلت ہو گی، یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ پریس کو حکومت ہی اپنے رویئے سے ممد و معاون بناتی ہے، تنقید برائے اصلاح کوئی افلاطونی فلسفہ نہیں کہ سمجھ میں نہ آ سکے، یہ بات فطری ہے کہ بظاہر تنقید کسی کو اچھی نہیں لگتی، اور بے جا تنقید سے حکومت اپنا مزاج خراب نہ کرے، مگر جائز تنقید تو بہترین مشاورت فراہم کرتی ہے، افغان مہاجرین جہاں جہاں بھی آباد ہیں پاکستان میں ان مقامات کے لوگوں کے تاثرات معلوم کئے جائیں تو معلوم ہو جائے گا کہ مہاجرین ان کے شب و روز اور کاروبار پر کس بری طرح اثر انداز ہوئے ہیں، اگرچہ بات تلخ ہے مگر سچ ہے کہ ہم نے افغان مہاجرین کی بستیاں بسا کر افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے لئے رین بسیرا فراہم کر دیا ہے، افغان مہاجرین مخصوص حالات میں اکاموڈیٹ کئے گئے تھے اب سیناریو بدل چکا ہے، ویسے بھی ہم جب اپنے شہریوں کی ضروریات پورا نہیں کر سکتے تو لاکھوں مہاجرین کو کیونکر رکھ سکتے ہیں، افغان کا تعلق افغانستان سے ہے پشتون کا تعلق پاکستان سے ہے، افغان حکومت سے اس سلسلے میں نتیجہ خیز مذاکرات کرنا چاہئیں اور کسی افغان مہاجر کو شناختی کارڈ ، پاکستانی پاسپورٹ مہیا نہ کیا جائے بلکہ جو جاری ہو چکے ہیں وہ بھی ضبط کر لئے جائیں۔

٭٭٭٭

مُنی کا بجٹ اور غریب عوام

کاش عوام فقط عوام ہوتے غریب نہ ہوتے، اور اگر غریب ہیں تو یہ تازہ وارد منی بجٹ عجیب ہے، حکومت کہتی ہے اس سے بہتر بجٹ نہیں لا سکتے، غریب عوام کہتے ہیںاس سے بدتر منی بجٹ نہیں آ سکتا، حکومت کہتی ہے ہم مخلص ہیں بجٹ بھی خالص ہے، غریب عوام کہتے ہیں ہم مفلس ہیں بجٹ میں بہت ملاوٹ ہے، شاید حکومتی باورچی نے چینی کی جگہ نمک ڈال دیا، اور مُنی بدنام ہوئی غریب عوام کے لئے، منی بجٹ بے وزن غزل ہے کسی استاد سے اصلاح ہی لے لی ہوتی، حق خوش رکھے مفتاح اسماعیل جاتے جاتے ٹیکس ریلیف دے گئے، اسد عمر آتے ہی سارا ریلیف لے گئے، ٹیکسوں کی بھرمار کے ساتھ ہی وزیروں مشیروں کی یلغار کیا قافیہ ہے زور دار، شاید سابق وزیر خزانہ کے مطابق ایک اور منی بجٹ بھی آئے گا۔ ہماری گزارش ہے کہ اگر نظرثانی بجٹ آئے اور غرباء و مساکین کے لئے اچھی خبر لائے تو داڑھ گیلی ہو جائے، جب تنگی داماں کی شکایت تھی تو مختصر ٹیم رکھنے کی حکایت بھی ہوتی، سمت تو ٹھیک ہے مگر جو آثار نظر آ رہے ہیں آثار قیامت لگتے ہیں، مسائل بلاشبہ پہلے سے زیادہ ہیں، کیونکہ پہلے دو بلڈوزر چلتے رہے ہیں، نہ جانے انہوں نے ملبہ کہاں جا پھینکا ہے۔ ہمیں وہ ملبہ ہی مل جائے تو شاید ہمارے منہ کھلے زخم سِل جائیں، گورنر ہائوسز کو کمرشلائز کیا جاتا سڑک کی جانب مارکیٹیں بنائی جاتیں دکانیں بیچی جاتیں ان ہائوسز کو کس اعتبار سے تاریخی کہا جا رہا ہے، یہ تو استعماری تاریخ کی نشانیاں ہیں، ان کو دیکھ کر دور غلامی یاد آتا ہے، سگریٹ پینے والوں پر براستہ سگریٹس ٹیکس لگانا اچھی بات مگر دیگر پینے والی نقصان دہ اشیاء پینے والوں کا سراغ لگا کر ان پر بھی ٹیکس لگا دیا جاتا یا ان کی درآمد ہی بند کر دی جاتی، اگرچہ بظاہر وہ ممنوع ہیں تاہم آ رہی ہیں پینے والے پی رہے ہیں، موت کے زیر سایہ جی رہے ہیں، مزدوروں سے پوچھا کیا حال ہے کہنے لگے مزدوروں کے ہوٹل والوں نے روٹی سالن مہنگا کر دیا ہے، قبلہ اسد عمر صاحب! آپ نے غریبوں کی تپتی ہوئی پیشانی پر منی بجٹ کیا رکھا کہ پیٹ تک آ گئی تاثیر مچلتی ہوئی بھوک کی۔ بجلی گیس کے بل تو ’’کڑاکے‘‘ نکال دیں گے، اور براہ کرم؎

جن جن پر ہے یہ نیب کا آسیب، نکال دیں

یا نیب ہی زور سے ہوا میں اچھال دیں

نہ رہے نیب نہ ملے کسی وزیر و مشیر میں کوئی عیب، بہرحال منی بجٹ پر ایک دفعہ ہمدردانہ نظرثانی کر دیں اللہ بھلا کرے۔

٭٭٭٭

خوش آئند؟

....Oنوازشریف:کل تک کلثوم نواز کی صحت کے لئے دعا کر رہے تھے آج اُن کی مغفرت کے لئے۔

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم

تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے؟

اب صبر و شکر کے سوا کیا باقی ہے، حق مغفرت فرمائے۔

....Oوزیر اعظم نے زلفی بخاری کو معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز مقرر کر دیا۔

آئے تو سہی برسرِ الزام ہی آئے۔

....O نقیب قتل کیس:رائو انوار کا محرم کے بعد اہم پریس کانفرنس کرنے کا عندیہ۔

گویا صفر کا چاند وہ چڑھائیں گے۔

....Oفواد چوہدری:دھاندلی کمیشن، 90ءکے الیکشن سے آغاز کرے سب جیل میں ہوں گے۔

تب آپ کہاں تھے؟ کیا آپ نے استثناء حاصل کر لیا۔

....Oبلاول بھٹو:حکومت کا دھاندلی کے خلاف پارلیمانی کمیشن بنانا خوش آئند ہے۔

آپ کا بیان بھی خوش آئند ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید