آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کے سب اعلی حکمران بھی عالم دین سنز اینڈ گرینڈ سنز جیسے ہی ثابت ہوئے ہیں۔ عالم دین کمال کے درزی بھی تھے اور پیشہ ور مراثیوں سے زیادہ بذلہ سنج بھی۔ ان کا مزاح گفتگو کے علاوہ عملاً بھی پھل جھڑیاں چھوڑتا رہتا۔ ایک مرتبہ گاوٴں کے نمبردار صاحب نے فرمائش کی کہ ایسا کرتا سینا جیسا کہ کبھی کسی کے لئے نہ سیا ہوا۔ جب نمبردارصاحب سلا ہوا کرتا لینے آئے تو اس کی جیبیں پشت پر اور بازو اندر کی طرف لگے ہوئے تھے۔ عالم دین کی مونچھوں کے نیچے چھپے ہونٹوں سے بڑی سنجیدگی سے صرف اتنا نکلا لیجئے ایسا کرتا کبھی نہ سیاگیا اور نہ کوئی سئیے گا۔ اور تو اور نمبردار صاحب اتنی زور سے ہنسے کہ ان کو پیٹ کے بل نکلوانے کے لئے ہسپتال جانا پڑا۔
ماسٹر عالم دین کو گاوٴں کے مڈل اسکول کے ہیڈ ماسٹر عبداللہ عیدوی سے سخت چڑ تھی۔ ماسٹر عبداللہ صاحب بھی صاحب کمال تھے ۔ ان کے مولا بخش (موٹا ڈنڈا) کے کثرت استعمال کی وجہ سے سارے علاقے کے پندرہ سال سے کم عمر کے لڑکے ان کے مرنے کی دعائیں مانگتے اور اس سے بڑی عمر کے سب لوگ ان سے فیضیاب ہونے کے سبب ان کی پوجا کرتے ۔ ماسٹر عبداللہ اپنے استعمال کی چیزیں اتنی احتیاط سے استعمال کرتے کہ ان کی لالٹین کا شیشہ پچیس سال سے نہیں بدلا گیا تھا۔ ان کے کپڑے سالوں بلکہ بقول عالم دین، صدیوں تک چلتے تھے۔ گہری دوستی

کے باوجود عالم دین کو اسی وجہ سے ماسٹر صاحب سے پرخاش تھی اور بیٹھے بیٹھے ان کے کپڑے پھاڑنے یا پھڑوانے کے منصوبے بناتے رہتے تھے۔
ماسٹرصاحب سائیکل چلاتے وقت اپنی شلوار کے پائنچوں کے اوپر گول چھلا یا ہُک لگا لیا کرتے تھے اور اسی سے وہ عالم دین درزی کی سازش کاشکار ہو گئے۔ ایک دن جب ماسٹر صاحب کو ٹیچروں کی تنخواہ لینے شہر جانا تھا تو عالم دین نے عین اس وقت ماسٹر صاحب کے سب سے چھوٹے چھ سالہ بچے کو چونی رشوت دے کر ہُک غائب کروادی ۔ ماسٹر صاحب کو اتنی جلدی تھی کہ وہ پائنچوں پر رسی بھی نہ باندھ سکے اور جب گھر لوٹے تو چین شلوار میں پھنس پھنس کراس طرح حالت نزاع میں آچکی تھی کہ اب اسے کسی درزی کا آئی سی یو سسٹم بھی زندہ نہیں رکھ سکتا تھا۔ ظاہر بات ہے ماسٹر صاحب کو عالم دین کو بلوانا پڑا جو کہ اس قدر تیز بھاگ کر ان کے پاس پہنچے کہ ان کی اوپر اور نیچے کی سانس کا رشتہ ٹوٹتے ٹوٹتے بچا۔ اصل میں عالم دین کوخوف تھا کہ ماسٹر صاحب روشن دان بنی شلوار کو مرمت کرنے کا کوئی طریقہ نہ نکال لیں۔
عالم دین درزی تو یہ سب کچھ تفنن طبع کے لئے کرتا تھا اور اسی لئے بعض اوقات ماسٹر صاحب سے سلائی کے پیسے لینے سے انکار کر دیتا تھا۔ لیکن عالم دین کے گزر جانے کے بعد اس کے بیٹوں نے تو کاروبار کے نام پر اندھیر نگری بنادی۔انہوں نے کچھ کارندے ڈھونڈے جن کو انہی کے پیسوں سے سلائی مشینیں خرید کر دی گئیں اور مشین کمپنی سے لمبا چوڑا کمیشن کھایا ۔ اپنے سب کارکنوں کو خفیہ تربیت دی (جس کا ہمیں علم نہیں ہو سکا)کہ کس طرح سفید پوشوں کے کپڑے پھاڑ کر یا نئے نئے ڈیزائن دکھا کر کاروبار چلانا ہے۔ ۔لگتا ہے حکومت پاکستان پر علم دین درزی کے بیٹوں کا راج ہے جو مختلف شعبوں میں خود ہی خرابی پیدا کرواتے ہیں اور پھر اس کو مرمت کرنے کے لئے یا نئے ماڈل سے بدلنے کے لئے لمبے چوڑے کمیشن کھاتے ہیں۔
پاکستان کے خاص و عام کے لئے لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو ہی لیجئے کیونکہ یہ نہ صرف موسموں کو انسانی جسموں سے کھلواڑ کا بھرپور موقع فراہم کرتا ہے بلکہ صنعت اور پیداواری عمل کو گناہ کبیرہ بنا کر بیچاری خالی مخلوق کو پیٹ پر پتھر باندھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ پاکستان میں منگلا اور تربیلا ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی اور اس کی تقسیم ماسٹر صاحب کی شلوار کی ہُک کی طرح تھی یعنی محفوظ ، دیرپا اور سستی۔ سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے (وہی اس کے بڑے صارف تھے) اس کے خلاف پہلی سازش تو یہ کی گئی کہ اس کی قیمت اتنی کم (تقریباً ایک سینٹ) رکھی گئی کہ اس سے اتنا سرمایہ ہی جمع نہ ہونے پائے کہ بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پوراکرنے کے لئے نئے پلانٹ لگائے جا سکیں۔ اگر ان دو بڑے منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت چند سینٹ اوپر کردی جاتی تو پاکستان کے پاس کئی منگلا ڈیم بنانے کے لئے سرمایہ موجود ہوتا۔ لیکن پاکستان کا ہر آنے والا حکمران بجلی کی تقسیم کے نظام کو لسی سمجھتا رہا جس کو مرضی کے مطابق بڑھانے کے لئے صرف پانی درکار ہے۔ لیکن بجلی لسی تو تھی نہیں اس لئے جوں جوں کھمبے بڑھتے گئے بجلی کے منتظر پیاسوں کی قطاریں لمبی ہوتی گئیں۔
چلئے یہاں تک معاملے کو کم فہمی اور عالم دین جیسی معصوم حرکت بھی سمجھا جا سکتا ہے جس کا مقصد صنعت کاری کو بڑھانا اور لوگوں کو سہولت فراہم کرنا تھا ۔ لیکن اس کے بعد تو یہ عالم دین سنز والا کاروبار بن گیا۔ پہلے تو بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بجلی پیدا کرنے والے بہت سے پلانٹ خریدے گئے جن سے کافی مہنگی بجلی پیدا ہونے لگی اور کہا جاتا ہے کہ ہر پلانٹ پر خریدنے کیلئے کمیشن لیا گیا اور عالم دین سنز ہر مہینے آمدن میں سے حصہ وصول کرنے لگے۔ بلکہ بسا اوقات تو یہ بھی ہوا کہ بجلی پیدا ہی نہیں ہوئی اور ہر ایک کو اس کا حصہ مل گیا۔
یہ سلسلہ جاری ہی تھا کہ عالم دین سنز کے ایک سپتر جنرل بن کر ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے اور ان کے جرنیلی معیشت دانوں نے بینکوں اور کچھ صنعتوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے اسٹیٹ بینک سے دن رات نوٹ چھاپنے شروع کر دئیے۔ بینکوں سے کہا گیا کہ کار یا گھریلو مشینیں (ریفریجریٹر، ایرکنڈیشنر وغیرہ) خریدنے کے لئے قرضہ مانگنے والوں کو مایوس کرنے پر حدود آرڈیننس تو نہیں لگے گا لیکن سزا اس کے برابر ہی ہو گی۔ چنانچہ سات آٹھ سالوں میں ہر گھر میں اتنی مشینیں آئیں کہ دیہات کی خواتین لکڑی کی مدھانی چھوڑ کر مشینی مدھانی استعمال کرنے لگیں۔ (کاروں کی تعداد اتنی بڑھی کہ شہروں کے شہر پارکنگ لاٹس میں تبدیل ہو گئے۔ )اب یہ ساری مشینیں ہوا یا پانی کی بجائے بجلی پر چلنی تھیں جو دن بدن کم پڑتی جا رہی تھی کیونکہ اسے لسی کی طرح بڑھایا نہیں جا سکتا تھا لہذا لوڈ شیڈنگ کا آغاز ہو گیا۔ لیکن غضب تو اس وقت ٹوٹا جب عالم دین سنز کے سیاست دان پوتوں نے جمہوریت کا جھنڈا لے کر ملک کی باگ ڈور سنبھال لی۔
عالم دین کے پوتے اپنے والدین سے بھی چار ہاتھ آگے نکلے۔ انہوں نے خفیہ خاندانی گر استعمال کرتے ہوئے مہنگے پلاٹوں سے بجلی کی پیداوار بھی کم کردی۔ وہ چال جس سے عالم دین ماسٹر صاحب سے دل لگی کے لئے شلوار کے پہنچے پھڑواتے تھے ان کے پوتوں نے پوری کی پوری شلواریں پھڑوانے یا اتروانے کے منصوبوں پر عمل شروع کروادیا۔ چند سال پہلے کی لوڈ شیڈنگ اتنی بڑھا دی گئی کہ اب لوگ بجلی کے جانے کی بجائے اس کے آنے کے اوقات کو ترسنے لگے۔ جب ہر طرف ہاہاکار مچتی تو لوڈ شیڈنگ بند ہو جاتی جس کا مطلب ہے مسئلہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا نہیں تھا۔لیکن سرکاری پراپیگنڈا یہ کیا گیا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ضرورت سے کہیں کم ہے۔
چنانچہ اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کرائے پر پلانٹ لائے گئے۔ پلانٹوں کے کرایے میں زیادہ حصہ بطور کمیشن علم دین خاندان کی جیبوں میں چلا گیا بلکہ اس کی ماہانہ وصولی کا بندوبست بھی ہو گیا۔ کہانی طویل اور پر پیچ ہے لیکن ہوا یہ کہ نئے پلانٹ چلے نہیں اور پرانے بیکار ہونا شروع ہو گئے۔ پھر اسٹیٹ بینک کی نوٹ چھاپنے کی مشینیں بھی کم پڑنے لگیں اور لوڈ شیڈنگ اور بڑھ گئی۔ اب اس مسئلے کا جو حل نکالا جا رہا ہے یا بہتری آنے کی توقع ہے وہ ایک دوسری کہانی ہے جس پر پھر کبھی بات کریں گے ۔
لیکن یہ ہے پاکستان کی المیہ داستان۔ ہم نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ تو صرف ایک مثال کے طور پر بیان کی ہے وگرنہ ریلوے، پی آئی اے سے لیکر اسٹیل مل تک کی داستان علم دین اینڈ سنز کے گرد ہی گھومتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں