آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍صفر المظفّر 1440ھ 21؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) محرم الحرام میں بھی شہر کے مختلف علاقوں میں گیس اور پانی کی قلت‘ متعدد علاقوں میں شہری کھانا اور پینے کا پانی بازار سے خریدنے پر مجبور ہیں‘ شہر میں گذشتہ کئی ماہ سے واسا کی نااہلی کے باعث پینے کے پانی کی قلت اب بحران کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے‘ سائٹ‘ پھلیلی‘ بلدیہ‘ لطیف آباد نمبر 7,8,12 ‘ حسین آباد‘ بھٹائی نگر‘ فراز ولاز سمیت ایک درجن سے زائد علاقوں میں گذشتہ چار روز سے پینے کے پانی کی قلت یا فراہمی مکمل طور پر بند ہے جس کی وجہ سے شہری ہزاروں روپے خرچ کرکے بازار سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ واسا کو حکومت سندھ کی جانب سے کئی ماہ قبل 37 کروڑ روپے سے زائد کا بیل آؤٹ پیکیج اور واٹر چارجز کی مد میں کروڑوں روپے وصول ہوئے ہیں اس کے علاوہ ذرائع کے مطابق واسا کی ماہانہ ریکوری 4 سے 5 کروڑ روپے ہے جو افسران کی جانب سے کھولے گئے مختلف اکاؤنٹس میں جمع ہوتی ہے۔ واسا کے کروڑوں روپے آمدنی کے باوجود ملازمین تنخواہوں اور شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ حیدرآباد میں پانی کی طلب تقریباً 6 کروڑ گیلن اور رسد 4 سے ساڑھے چار کروڑ گیلن روزانہ ہے لیکن واسا افسران مذکورہ پانی کا ایک حصہ بڑے کارخانوں‘ فیکٹریوں اور کمرشل اداروں کو مبینہ طور پر فروخت کردیتے ہیں جس کی وجہ سے عام شہری کئی سال سے

صاف پانی سے محروم ہیں۔ محرم الحرام کا عشرہ شروع ہونے اور شہر بھر میں ایک ہزار سے زائد مقامات پر نیاز کی تیاری کے باوجود واسا پینے کا صاف پانی فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں