آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں
روز اِک موت نئے طرز کی ایجاد کرے
محترمہ پروین شاکر مرحومہ کے انسٹھویں یوم ولادت پر ٹیلیویژن پر ان کے بارے میں پروگرام دیکھ رہا تھا تو ان کا مندرجہ بالا شعر دوسرے اور بہت سے شعروں کے ساتھ ذہن میں آ گیا۔ 42 سال کی عمر میں اس دنیا سے چلی گئیں مگر اردو ادب کو بہت کچھ دے گئیں جو انہیں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ قاتل کی ذہانت کا شعر قارئین کے لئے اس لئے رقم کردیا کہ ہم ہر روز قاتل کی ذہانت اور اپنے دیرینہ دوست رحمن ملک کی ذہانت کا مقابلہ دیکھتے ہیں۔
ہمارا دوست کبھی موبائل فون بند کرتا ہے تو کبھی موٹر سائیکل پر ڈبل سواری مگر قاتل ہے کہ پھر بھی جل دے جاتا ہے اور ہاکی کے کھلاڑی کی طرح ”ڈی“ میں آکر مارتا ہے اور بے چارہ گولچی دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ بہر حال ایسے موقعوں پر سخت قسم کے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ امن وامان قائم رہے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت ہو سکے۔ عوام کو یہ ایک دو دن کی تکلیف خوشی سے برداشت کر لینی چاہئے کیونکہ یہ تھوڑی سی تکلیف مرنے سے بہتر ہے۔ لوگوں نے اگرچہ مذاق تو بہت اڑایا مگر خوشی سے اس تکلیف کو برداشت کیا۔بقول احمد فراز
تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی
خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے
کل صبح ہائی کورٹ میں چائے کے وقفے کے دوران ایک صاحب نے

میرے دوست سالم سلام انصاری ایڈووکیٹ کی معرفت دو صفحات پر مشتمل ایک طویل خط میرے حوالے کرتے ہوئے کہاکہ کبھی اس پر بھی کچھ لکھیں۔ یہ خط کراچی میں لوکل ٹرین اور لاہور میں زیر زمین ٹیوب ٹرین کے بارے میں تمام معلومات اور تفصیلات سے پر تھا۔ اس میں کراچی کی سرکلر ریلوے کے رفتہ رفتہ بند ہونے کا ماتم کیا گیا تھا، انہوں نے بتایا کہ کراچی سرکلر ریلوے کا پراجیکٹ ایوب خان کے دور میں جنرل اعظم خان جیسے ذہین شخص نے مکمل کروایا تھا اس کا ڈیزائن اس طرح تھا کہ یہ انڈسٹریل ورکرز کو ڈرگ کالونی، ملیر اور لانڈھی سے سائٹ کے علاقے میں لاتی تھی اور پھر وزیر مینشن پر پہنچ کر کراچی پشاور والی مین لائن میں شامل ہو جاتی تھی اس کے راستے میں شیر شاہ، لیاری، لیاقت آباد اور ناظم آباد کے اسٹیشن آتے تھے جو کہ بہت ہی خوبصورت منظر پیش کرتے تھے پھر آہستہ آہستہ ٹرانسپورٹ مافیا وجود میں آیا کراچی کی آبادی بھی مسلسل بڑھ رہی تھی ٹرین پربغیر ٹکٹ سفر کرنے کا رواج زور پکڑ گیا اور پھرآہستہ آہستہ اس ٹرین کی سروس بگڑی اور لوگوں نے بسوں میں سفر کرنا شروع کردیا اور ٹرین اپنی موت خود مر گئی۔ ایسا ہی ایک کالم جناب محمد علی صدیقی نے ایک انگریزی اخبار میں بھی لکھا میرے خیال میں مندرجہ بالا تمام معلومات صاحب خط نے وہاں سے بھی حاصل کی ہیں۔ بہر حال میں موصوف کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری توجہ اس طرح مبذول کروائی تاکہ میں روزنامہ جنگ کی وساطت سے حکام بالا کے گوش گزار کر سکوں۔
حال ہی میں میاں نواز شریف نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اگر 12/ اکتوبر 1999کو ان کی حکومت کا تختہ نہ الٹا جاتا تو وہ لاہور میں زیر زمین ٹیوب ٹرین اور کراچی میں سرکلر ٹرین کو بحال کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے اور کراچی سے پشاور تک چھ گھنٹے میں سفر طے کرنے والی بلٹ ٹرین پر بھی کام کر چکے تھے۔ اس میں حکومت کو کوئی سرمایہ کاری کی بھی ضرورت نہیں بلڈ، اوپریٹ اینڈ ٹرانسفر (BOT) کے اصول پر جاپان، چائنا اور دوسرے کئی ممالک اس منصوبے میں دلچسپی رکھتے ہیں مگر اس پر کام کرنے کے لئے حکومت کی پولیٹکل ول درکار ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جو سیاسی حکومت اس منصوبے کو مکمل کروائے گی اگلا الیکشن آسانی سے جیت جائے گی اگر پیلی ٹیکسی اسکیم اور موٹروے نواز شریف کو بار بار برسر اقتدار لا سکتے ہیں تو یہ منصوبہ تو بہت بڑا ہے اور کراچی سے پشاور تک کے عوام کو سہولت پہنچائے گا اور ملک میں پھیلنے والے تفرقات کوبھی دور کر دے گا۔ جب فاصلہ ہی چھ گھنٹے کا رہ جائے گا تو پھر دل بھی قریب آجائیں گے قربتیں اور محبتیں اور بڑھیں گی اور ملک کی معاشی ترقی ہو گی کراچی پر سے آبادی کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا کیونکہ باہر سے آئے ہوئے لوگ مستقل سکونت اختیار کرنے کی بجائے چھ گھنٹے میں اپنے گھر جانے کو ترجیح دیں گے جہاں ان کے لئے ہر قسم کی سہولیات موجود ہیں شہروں پر سے آبادی کا دباؤ کم ہوگا اور لوگ دیہاتوں میں رہ کر شہروں کے مزے لوٹ سکیں گے کیونکہ فاصلہ صرف چھ گھنٹے کا ہو گا مگر بقول فیض
کس نے وصل کا سورج دیکھا، کس پر ہجرکی رات ڈھلی
گیسوؤں والے کون تھے، کیا تھے، ان کو کیا جتلاؤ گے
میرا موجودہ حکومت کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ ابھی تو ان کے پاس کافی وقت باقی ہے۔ اگر یہ منصوبہ خلوص دل سے کسی غیر ملکی کمپنی کے ساتھ ملکر بنا لیں تو 2018 کے الیکشن سے پہلے یہ پراجیکٹ مکمل ہو جائے گا اور اس حکومت کے ایک بار پھر 2018 سے 2023 تک منتخب ہونے کے امکامات روشن ہو جائیں گے۔
ذرا سوچیں بقول مصطفی زیدی
چلے، تو کٹ ہی جائے گا سفرآہستہ آہستہ
ہم ان کے پاس جاتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ
دریچوں کو تو دیکھو، چلمنوں کے راز تو سمجھو
اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں