آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ4؍ربیع الثانی 1440ھ 12؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امام عالی مقام کی لازوال قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلیے ملک بھر میں یوم عاشور کے جلوس نکالے گئے ۔ کراچی میں مرکزی جلوس ایم اے جناح روڈ سے حسینہ ایرانیان کی طرف گامزن ہوا ۔جبکہ لاہور میں نثار حویلی سے برآمد ہونے والا شبیہہ ذوالجناح کا مرکزی جلوس کربلا گامے شاہ پہنچ گیا ۔

روہڑی میں پانچ سو سال پرانی ضریح نو ڈھال کا جلوس ختم ہوگیا ۔ ملتان میں استاد شاگرد کے قدیمی تعزیوں کا جلوس نکالا گیا ۔ چنیوٹ کے سنہری تعزیوں کا جلوس بھی اختتام پذیر ہوگیا۔کراچی میں عاشورہ محرم کا مرکزی جلوس نشرپارک سے برآمد ہوا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان کھارادر پر اختتام پزیر ہوا۔

سیکیورٹی کیلیے شہر میں موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل اور موٹر سائیکل ڈبل سواری پر پابندی عائد تھی۔ شہر میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نمائش چورنگی سے برآمد ہوا، اس سے قبل یوم شہادت حسین پر مجلس نشتر پارک میں بپا کی گئی ، مجلس سے علامہ شہنشاہ نقوی نے خطاب کیا۔ اورامام حسین ؓ کی تعلیمات اور کربلا کے میدان میں حق و باطل کے معرکے پر روشنی ڈالی ۔

جلوس کے شرکاء نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کرتے ہوئے ،مقررہ راستوں پر سیکیورٹی کے سخت حصار میں تبت سینٹر پہچے جہاں نماز ظہرین ادا کی گئی۔وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید ،صوبائی وزراء اور سینئر پولیس افسران نے جلوس کی گزرگاہ کا معائنہ کیا اور سیکوریٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

جلوس کی سیکیورٹی کے لیے ایم اے جناح روڈ کے اطراف کی تمام گلیوں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ۔ راستے میں آنے والی تمام دکانیں اور کاروباری مراکز سیل کئے گئے ۔پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی۔ بلند عمارتوں پر ماہر نشانہ باز بھی موجودتھے۔ہیلی کاپٹر سے جلوس کی سیکیورٹی کے لئے فضائی نگرانی بھی جاری رہی۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا حسینہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پزیر ہوا۔

راولپنڈی میں 10ویں محرم الحرام کا مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین تیلی محلہ اور امام بارگاہ مقبول حسین سے بر آمد ہو کر اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا اپنی منزل کے قریب ہے۔ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، بہاولپور، سرگودھا کے علاوہ، حیدرآباد ، سکھر، لاڑکانہ، نوابشاہ، ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ غازی خان، پاراچنار، ہنگو، ٹانک ،اور حب ، نصیرآباد ، خضدار ، مظفرآباد ، گلگت ، استور اور اسکردومیں بھی عاشورے کے جلوس نکالے گئے۔

ملتان میں مختلف امام بارگاہوں سےیوم عاشور کے موقع پر نکلنے والے علم ، ذوالجناح اور تعزیوں کے ماتمی جلوس اور استاد شاگرد کے قدیمی تعزیے کے جلوس شام کے وقت اختتام پذیر ہوگئے۔فیصل آباد میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ عزا خانہ شبیر دھوبی گھاٹ سے نکالا گیا ۔مشروبات سے عزاداروں کی پیاس بجھائی گئی۔ نذر و نیاز کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، بہاولپور، سرگودھا کے علاوہ، حیدرآباد ، سکھر، لاڑکانہ، نوابشاہ، ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ غازی خان، پاراچنار، ہنگو، ٹانک ،اور حب ، نصیرآباد ، خضدار ، مظفرآباد ، گلگت ، استور اور اسکردومیں بھی عاشورے کے جلوس نکالے گئے۔

چنیوٹ میں سو من وزنی سو سالہ قدیم تعزیوں کے آٹھ جلوس چوک میدان ترکھاناں میں ختم ہوئے ۔رجوعہ سادات میں 72 تابوتوں کا جلوس شبیہ میدان کربلا میں جبکہ قصرزین العابدین سے روانہ ہونے والا مرکزی جلوس امام بارگاہ ٹھٹھی شرقی میں اختتام پذیر ہوا۔گوجرانوالہ ،بہاول پور، ڈیرہ غازی خان ، مظفر گڑھ ،جھنگ ، سرگودھا، سیالکوٹ، جہلم سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں نکالے گئے یوم عاشور کے جلوس بھی اختتام پذیر ہوگئے۔

حیدرآبادمیں یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ قدم گاہ مولا علی سے برآمدہوا ۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا شام میں امام بارگاہ کربلا دادن شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہو گیا ۔روہڑی میں پانچ سو سالہ نو ڈھالہ کا جلوس میدان کربلا سے برآمد ہوکرشہدا قبرستان پہنچ کر ختم ہوگیا۔سکھرمیں یوم عاشور کا جلوس مرکزی امام بارگاہ غریب آباد سے نکالا گیا۔جلوس کے روایتی راستوں پر عزاداران نوحہ خوانی کرتے رہے۔

میرپورخاص میں اسٹیشن چوک سے نکالا گیا مرکزی ماتمی جلوس امام بارگاہ مکھن پہنچ کر ختم ہوا۔ لاڑکانہ ، نوابشاہ، خیرپور،دادو،سانگھڑ،بدین ،جیکب آباد،میرپورخاص سمیت چھوٹے بڑےشہروں میں عاشورہ کے جلوس نکالے گئے۔ڈیرہ اسماعیل خان میں دسویں محرم کے تمام ماتمی جلوس کوٹلی امام حسین پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئے۔پاراچنار ،ہنگو، ٹانک ،کوہاٹ اور لکی مروت سمیت خیبر پختون خوا کے دیگر شہروں میں بھی میں یوم عاشور جلوس نکالے گئے۔حب میں اکرم کالونی امام بارگاہ سے برآمد ہونے والا یوم عاشور کا جلوس جام کالونی امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوگیا۔نصیرآباد ،خضدارڈیرہ مرادجمالی ،ڈیرہ بگٹی میں بھی ماتمی جلوس نکالے گئے۔چمن سمیت بلوچستان بھرمیں یوم عاشور پرسخت حفاظتی انتظامات کئے گئے۔

مظفرآباد میں مرکزی جلوس عید گاہ پیر علم شا بخاری سےجبکہ میرپورآزادکشمیر میں مرکزی جلوس امام بارگاہ بیت العزن سے برآمد ہوکر شام کے وقت اپنی منزل پر ختم ہوئے۔

کوٹلی، باغ اور بھمبر سمیت آزاد کشمیر کے دیگر شہروں میں بھی یوم عاشور کے جلوس نکالے گئے۔گلگت شہر اور اس کے گردونواح میں عاشورہ محرم کے 29 چھوٹے بڑے ماتمی جلوس برآمد ہوئے۔مرکزی جلوس روایتی راستوں سے ہوتا ہوا مرکزی امامیہ جامع مسجد پہنچ کر اختتام پذیر ہوگیا۔ استور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس جامعہ امامیہ سے برآمد ہو کر مرکزی امام بارگاہ عیدگاہ میں اختتام پزیر ہوا۔ اسکردو،ہنزہ ، دیامراور غذر میںمیں جلوسوں کےلئےسخت سیکورٹی انتظامات کئےگئے۔

ملک کے دیگر حصوں کی طرح کوئٹہ میں بھی عاشورہ محرم مذہبی عقیدت واحترام سے منایا گیا ،کوئٹہ میں تیس ماتمی دستوں پر مشتمل یوم عاشور کا جلوس رحمت اللہ چوک سے صبح تقریباساڑھے آٹھ بجے برآمد ہوا، جلوس کےشرکاشہر کےوسطی علاقے باچاخان چوک پہنچےجہاں نماز جمعہ ادا کی گئی ۔ علما ءنے واقعہ کربلا پر روشنی ڈالی۔پشاور میں یوم عاشورعقیدت واحترام کے ساتھ منایاگیا۔ شہر میں شبہیہ علم اور ذوالجناح کے بارہ جلوس برآمد ہوئے۔ اس موقع پر سیکورٹی کےفول پروف انتظامات کیے گئے۔

پشاور میں یوم عاشور کا پہلاماتمی جلوس دن گیارہ بجے امام بارگاہ آغہ سید علی شاہ رضوی محلہ چڑوی کوبان سے برآمد ہوا۔ دوسرا جلوس دن ڈیڑھ بجے امام بارگاہ علمدار کربلا کوچہ رسالدار قصہ خوانی بازار سے برآمد ہوا۔ چرچ روڈ ، محلہ مروی ہا، ہشت نگری ، کوچی بازار ، جہانگیر پورہ اور محلہ خداد داد کی امام بارگاہوں سے بھی شبہیہ علم اور ذوالجناح کے جلوس برآمد ہوئے۔ اس موقع پر اندرون شہر سیل رہا۔ جلوس کے راستوں پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔جلوسوں کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات رہے ۔ شہر میں موبائل فون سروس معطل رہی اور موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی تھی۔ دن بھر جلوسو ں کی فضائی نگرانی کی جاتی رہی ۔ مجموعی طور پر یوم عاشور کے بارہ جلوس برآمد ہوئے۔ جو بعداز نماز مغرب اختتام پذیر ہوئےاور مجالس شام غریباں منعقد کی گئیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں