آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ14؍رجب المرجب 1440 ھ22؍ مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارے رو کے رکا ہے سویرا

چور، رات کو چوری کرتا ہے، ڈاکو رات کو ڈاکہ ڈالتا ہے، مگر جب سے وطن عزیز میں دن کو بھی رات بنا دیا گیا ہے، ساری وارداتیں بلاتمیز روز و شب دن دہاڑے بھی ہوتی ہیں، اس لئے کہ چوروں، ڈاکوئوں کے پاس وقت کم اور مقابلہ سخت ہے اب یہ کہنا بھی عبث ’’کہ کس کے روکے رکا ہے سویرا‘‘، ہاں ایک سویرا ایسا بھی ہوتا ہے جو کوشش کرنے سے لایا جا سکتا ہے، اس کی روشنی میں چور ڈاکو اندھے ہو جاتے ہیں شاید ہمیں اب بھی ایسے ہی سویرے کا انتظار ہے، اب زیادہ دیر نہیں اور مزید اندھیر نہیں دعویداروں کے دعوے سچے یا جھوٹے ثابت ہو جائیں گے، کیونکہ اس ملک میں سارا کیس ہی حقوق العباد پر ڈاکہ ڈالنے کا ہے، اور اس کی سزا کا عمل اس دنیا میں شروع ہو جاتا ہے، ہمیں آئیڈیلزم اور شخصیت پرستی نے مارا ہے، ذوق غلامی میں ایسی لذت محسوس کرتے ہیں، کہ آئیڈیل کو سنگ و آہن کے بت میں ڈھال کر اس کی فکر، تعلیمات اور طرز عمل کی الگ ایک قبر بنا کر اس کی بھی پوجا شروع کر دیتے ہیں، ہم جاگے بھی تو خواب میں اس لئے 71سال رہے عذاب میں، اور ابھی اس کا تسلسل قائم ہے اس لئے کہ نقارئہ عمل پر ہنوز چوٹ نہیں پڑی، بہرحال یہ خواب بھی غنیمت کہ ڈیپریشن سے تو بچا لیتا ہے، وہ سویرا جس کا ہمیں انتظار ہے شاید تاحال نیت سے خارج ہے اس لئے وہ شب کی سیاہی روپوش ہے جونہی اسے طلب صادق کا یقین آ جائے گا طلوع ہونے میں دیر نہیں لگائے گا۔ حق کے غلبے کو ایمان درکار ہے، ایمان حاکم کے پاس ہے نہ محکوم کے پاس، اس لئے حاکم، خادم نہیں بنتا اور محکوم آزاد نہیں ہوتا، ہم خوش فہمیوں کے حصار میں حکمران خوش فعلیوں کے دیار میں، کیا سویرا یونہی ہمارے روکے رکا رہے گا، سویرا طلوع آفتاب کا نام نہیں، طلب صادق ہے، شوق تغیر ہے، جس کے لئے من حیث القوم نا اہل رہے، اگر یہی ڈھب رہا تو سورج کے مغرب سے طلوع ہونے تک خوشحالی و ترقی اور امن و فلاح کی صبح کے لئے ترستے رہیں اب اس غلط فہمی سے بھی نکل جانا چاہئے ’’کہ کس کے روکے رکا ہے سویرا‘‘۔

٭٭٭٭

مٹ جائیں گے کشمیری تو انصاف کرو گے

چوتھی دہائی شروع ہے، وادی میں آگ لگی ہوئی ہے، پھول جیسے کشمیریوں کو جڑ سے اکھاڑا جا رہا ہے، حل اقوام متحدہ نے نامعلوم مدت کے لئے محفوظ کر رکھا ہے، کوئی کسی کا حق کب تک چھین سکتا ہے بشرطیکہ حق دینے والا، حق دینے پر آمادہ ہو، اسے کس نے روک رکھا ہے، فیصلے کے کاغذوں پر دستخط بھی ہو گئے تھے۔ حق خود ارادیت بھی تسلیم کر لیا گیا تھا پھر استصواب کیوں نہیں ہوتا، کیا کسی کے سُپر ہونے کا یہ مطلب ہے کہ وہ اس دھرتی کا خدا بن گیا ہے، کہ ہر بار ویٹو کا وٹہ آبگینہ حریت پر مار کر اسے توڑ دینا ہے، اسے پھر اپنے خون سے اہل کشمیر کے حریت پسند ڈھال لیتے ہیں، یوم عاشور پر بھی بھارتی یزیدیت کے تیرِ ستم نہ تھمے، سرزمین کشمیر تو کہہ چکی ہے کہ اسے اور خون نہیں چاہئے پھر کیوں کشمیر آزاد نہیں ہوتا، ایک بہن کے سامنے جب جواں سال بھائی کا لاشہ دسویں محرم کو گرا تو وہ صدمے کی تاب نہ لا کر بھائی کی ہم سفر بن گئی۔ کیا بھارتی غاصبوں کو اس پر بھی خیال نہ آیا کہ یہ خونِ ناحق پورے بھارت کو سرخ کر سکتا ہے بھارت کیوں کسی کا وطن چھین کر بغل میں اپنی تباہی اٹھانے پر بضد ہے۔ وادی میں 70سال سے بہتا خون ناحق اب ڈھلوان کی طرف بہہ رہا ہے، ہم بھارت سے مخاطب ہیں، اقوام متحدہ سے مخاطب ہیں، سپر پاور سے مخاطب ہیں کہ کیا اس خون ناحق کی قیمت چکا سکو گے؟ کیونکہ آخر کو وہ خدا جس کے بندوں سے حقِ ملکیت، حق آزادی چھینا گیا ہے ڈور کھینچے گا تب کیا ہو گا اس بارے بھی سوچ لینا چاہئے، دہشت گردی کے خلاف واویلا کرنے والے پون صدی سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی بات کیوں نہیں کرتے اسے کیوں نہیں روکتے، کیا اقوام متحدہ بھی کشمیر کی طرح مقبوضہ ہے؟ ہمیں یوں لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل نہ کر کے بھارت اپنی تباہی کا سامان کر رہا ہے۔ یہ آزادی کی جنگ بموں، گولوں، گولیوں، فوجوں سے کب تک روکی جائے گی، تاریخ انسانی بتاتی ہے کہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

٭٭٭٭

پیار بڑھائو ملک بچائو

قرض اتارو ملک سنوارو، ڈیم بنائو ملک بچائو یہ دونوں مشن نہایت مفید اور مبارک ہیں۔ مگر ہم میں پیار محبت اتحاد و امن پسندی نہ ہو تو ہر مشن بیکار، ہر نعرہ بے اثر اور ہر پاکستانی بیقرار رہے گا، آئیں یہ مشن بھی چلائیں کہ پیار بڑھائو ملک بچائو، نفرتوں، ذاتی مخالفتوں، فرقہ واریتوں نے ہمیں بربادی و تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا، سید الکونین ﷺ نے فرمایا یہ نہ دیکھو کہ کوئی واقف ہے یا نہیں بس آپس میں سلام پھیلائو، لوگوں سے پیار سے بات کرو، وہ کسی بھی رنگ نسل، مذہب، دین سے تعلق رکھتے ہوں ان سے میٹھا بول بولو کہ میٹھے بول میں برکت ہے، اور برکت آکسیجن کی مانند ہے، موجود ہے نظر نہیں آتی، اگر کوئی برا بولے تو جواباً اچھا بولو اس کے اندر کی شرمندگی اسے خوش گفتار بنا دے گی۔ یہ تحریر ہم برائے تحریر سپرد قلم نہیں کر رہے ،چاہتے ہیں کہ یہ پیار بڑھائو مشن بھی باقاعدہ پھیلایا جائے، اس پر کوئی خرچ نہیں اٹھتا نہ ہی کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے، آج ہمیں جس قدر اپنی معیشت تگڑی کرنے کی ضرورت ہے اتنی ہی پیار کی ضرورت ہے ہر شخص اگر پیار دے گا تو اسے خود بخود پیار مل جائے گا۔ یہ پیار تعمیر وطن کے لئے وہ مصالحہ ہے جو اینٹ کو اینٹ سے جوڑتا اور عمارات کھڑی کرتا ہے، ہمارے پاس سب کچھ ہو آپس میں پیار نہ ہو تو ہمارے دونوں ہاتھ خالی ہیں، بڑی سنجیدگی کے ساتھ پاکستانی جہاں بھی ہے پیار بڑھائو ملک بچائو کو تحریک کی طرح چلا کر اس میں اپنا حصہ ڈالے، پیار ہی تو مانگا کچھ اور نہیں مانگا، اور پیار ہمارے اندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے ہم اسے باہر نکلنے کا موقع نہیں دیتے، نفرت پھیلانے والی باتوں سے باز نہیں آتے، نفرت کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ پیار بھرے ایک بول سے ڈھیر ہو جاتی ہے۔ آئو سب مل کر ایک دوسرے سے پیار کریں، اگر پاکستان کی حد تک ہم اس مشن میں کامیاب ہو گئے تو ہم اسے پوری دنیا میں پھیلائیں گے کیونکہ پیار سے خالی زندگی مرگِ مسلسل ہے۔

٭٭٭٭

شیطان بھی حیران

....Oکسی نے کہا انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان ہے۔

ہم نے عرض کیا انسان کا سب سے بڑا دشمن انسان ہے جس پر شیطان بھی حیران ہے۔

....Oمحکمہ اینٹی کرپشن نے مصطفیٰ کمال کو 4ارب کرپشن پر طلب کر لیا۔

غضب ہو گیا، اس مملکت خدا داد میں کرپشن سے کوئی بچا بھی ہے۔

....O نواز شریف:کوئی غلط کام نہیں کیا اللہ حق اور انصاف کا ساتھ دیتا ہے۔

اس میں کیا شک ہے؟

....Oشہباز شریف کا سزا کی معطلی پر ٹویٹ:حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔

یوں کریں کہ ن لیگ کا نام حق لیگ رکھ دیں، یہ ٹویٹ وائرل ہو جائے گا۔ 

....Oنواز شریف آج ہفتہ کے روز سے سیاسی سرگرمیاں شروع کر رہے ہیں۔

اچھا ہے گھر بیٹھے بیٹھے بھی بندہ بور ہو جاتا ہے۔

....O پرویز الٰہی:آج میڈیا آزاد، صحافی بہادر اور محب وطن ہیں۔

بہادر اور محب وطن تو ہیں مگر آزاد کیسے بات یہ ذرا وضاحت طلب ہے۔

....Oفضل الرحمان:ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔

اور پھر ہر آسانی کے بعد تنگی تاکہ ایک اور آسانی آ سکے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں