• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کہنے کو تو ہمارا بچپن ساہیوال میں گزرا مگر حقیقتاً ساہیوال سے مراد وہ ننھا منا سا شہر ہے جوہمارے سکول سینٹ میریز کانوینٹ اوراس سے ملحقہ بورڈنگ ہاؤس تک محدود تھا۔ جی ہاں اس کانوینٹ کے درودیوارہماری کتاب زیست کے چندابتدائی اور بیحد دلچسپ ابواب کے امین ہیں۔
بعض دقیانوسی بزرگوں اور چند سڑیل رشتہ داروں نے ہمارے بچپن بارے بہت سی اوٹ پٹانگ باتیں مشہور کررکھی ہیں مثلاً یہ کہ ہم انتہا درجے کے شرارتی، پھڈے باز اور گستاخ بچے واقع ہوئے تھے۔ کچھ عزیز و اقارب ایسے بھی ہیں جوپرسنل ہونے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ شایدیہی وجہ ہے کہ پورے خاندان میں ان کی یاوہ گوئی کوسنجیدگی سے نہیں لیاجاتا۔ اس لئے آپ بھی ان کی بیوقوفانہ باتوں پردھیان نہ ہی دیں توبہترہے۔بہرحال ان کی رائے میں ہم پرلے درجے کے بدتمیز، ڈھیٹ اورخطرناک ہوا کرتے تھے ہمارے ایک دور کے بزرگ ہمیں دیکھ کر اکثر ڈر جایاکرتے۔ اس ڈر کا تعلق ہماری شکل سے نہیں بلکہ خصائل سے بتایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ہم خاصے جرائم پیشہ ٹائپ بھی تھے۔ یہ حضرت اس قدرفارغ البال تھے کہ صبح سے شام تک صرف ہماری ”وارداتیں“ ہی گنتے رہتے ہیں اور حسب توفیق ہماری چغل خوری بھی کرتے، ہماری والدہ محترمہ چونکہ اس قسم کے بے سرو پا پراپیگنڈہ کا اثرضرورت سے کچھ زیادہ ہی قبول کرتیں اس لئے ہمیں اکثر جسمانی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس عمل کو عرف ِ عام میں لتریشن کہاجاتا ہے اوریہ ہمیں بہت بعد میں معلوم ہوا۔
خیر، پونے چارسال کی عمر میں ہمیں سزا کے طور پر اوکاڑہ سے شہر بدرکرکے کانونیٹ کے بورڈنگ ہاؤس بھیج دیا گیا۔ بورڈنگ ہاؤس تقریباً چالیس پچاس لڑکوں اور اس سے کچھ کم لڑکیوں پرمشتمل تھا۔ لڑکوں کی انچارج سسٹر پیرینا اور لڑکیوں کی افسراعلیٰ سسٹر ریٹا تھیں، سسٹر پیرینا نہایت واجبی سی شکل وشباہت کی مالک قدرے ڈھیلی ڈھالی سی خاتون تھیں جبکہ لڑکیوں کی وارڈن سسٹر ریٹا اپنے محکمے کے عین شایان شان، خاصی خوش شکل اور خوش گفتارواقع ہوئی تھیں۔ اردو یا پنجابی بولنے پرسزا ملتی۔ درختوں کی شان میں گستاخی یعنی پتے غیرہ توڑنے پر مزیدسخت سزا ملتی، اپنا بستر خود بنانا پڑتا جبکہ نیند سے جگانے کے لئے سسٹر پیرینااپنے نہایت مردانہ ہاتھوں کے ساتھ انتہائی عبرتناک انداز میں تالی بجایاکرتیں۔ اس تالی کی مہیب آوازسے سوئے ہوئے تو درکنار مرے ہوئے طلبابھی اٹھ بیٹھتے۔ اس تالی کی آواز کافی فاصلے پرموجود ڈائننگ ہال تک بھی سنی جاتی تھی۔ بعض لوگوں کاکہنا ہے کہ ڈائننگ ہال تو کیا تین کلومیٹر دورواقع ٹاؤن ہال تک بھی سنی جاسکتی تھی۔ ہمارے دوست مبالغہ نویس صاحب تو یہ بھی کہتے ہیں کہ سسٹر پیرینا کی تالی سن کر تو دورافتادہ ڈی سی ہاؤس میں گہری نیند سوئے ڈپٹی کمشنرصاحب بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے تھے۔ اس زمانے میں معروف شاعر سید مصطفی زیدی# ڈی سی منٹگمری ہوا کرتے تھے کہ ساہیوال کا پرانا نام یہی تھا۔
بورڈنگ ہاؤس کی عقبی جانب ایک بیہودہ سی دیوارہواکرتی تھی جس کا نہ آغاز تھا اور نہ ہی انجام۔ یوں لگتاتھا جیسے کسی نے بنی بنائی عمارت میں سے ایک ثابت دیوار اکھاڑ کر چندگز کے فاصلے پر رکھ دی ہو اور بعد میں بھول گیاہو کہ اس واہیاتی سے وہ ثابت کیا کرناچاہتاتھا۔ بہرحال، بورڈنگ ہاؤس کے نوآموز رہائشی اس دیوارکے سائے میں بیٹھ کر اپنے گھر کو یادکرتے اور حسب ِ توفیق روتے دھوتے۔ سینئر طلبا شرارتاً اس بے مقصد دیوار کو دیوارِ گریہ کے نام سے یادکرتے۔ سینئر طلبامیں دو خوش شکل سے ڈے سکالربھائی جان ہواکرتے تھے جنہیں ہم اس لئے بے حد پسند کرتے کہ وہ اکثر ہمیں اونچا اٹھاکر چھٹی کی گھنٹی بجانے میں ہماری مدد کیا کرتے۔ گرجاگھروں کی بیشترگھنٹیوں کی طرح یہ گھنٹی بھی زنجیر کھینچے سے بجتی تھی۔ ان سینئر طلبا میں سے ایک کا نام پرویز تھا جو غالباًوکیل ہیں اورساہیوال میں ہی پریکٹس کرتے ہیں۔ ایک کا نام ظہیر تھا جو بیس بال بھی کھیلتے تھے مگر اب نجانے کدھر ہیں۔دیگر گمشدگان میں دوبھائی عارف اورہارون تھے جن کے والد پولیس افسر تھے۔ ایک صاحب کمال نامی تھے جن کا تعلق غالباً بورے والا یا قبولے سے تھا جن کے بہت بڑے زرعی فارم پر ہمارا پورا ہاسٹل پکنگ کے لئے بھی گیا تھا۔ کمالیہ سے تین بھائی غلام، عابداور زاہد تھے۔ سنا ہے عابداب اللہ کو پیارا ہوچکا ہے۔ شہناز اور گلشن باجی کا تعلق بھی اسی خاندان سے تھا۔ پھر کراچی کی قریشی فیملی سے تعلق رکھنے والے ندیم، علی، مہناز اور نوشین کو بھی لاپتہ ہوئے تقریباً چالیس سال ہوچکے ہیں۔
یہ ساری رام کتھا آپ کو اس لئے جھیلنا پڑی ہے کہ گزشتہ ہفتے ہم چالیس برس بعداپنے سکول یعنی سینٹ میریز کانوینٹ جا دھمکے۔ ماسوائے سسٹر ریٹا اور سسٹر لوسی کے تمام سسٹرز ریٹائر ہو کر اپنے اپنے آبائی دیس واپس جاچکی تھیں۔ زیادہ تر کا تعلق چونکہ اٹلی سے تھا اس لئے وہ روم اور میلان واپس جابسی تھیں۔ کانوینٹ کی روح رواں سسٹر اولو اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ سسٹر ریٹا ملتان کانوینٹ کی انچارج ہیں جبکہ سسٹر لوسی آج بھی اسی کانوینٹ میں پائی جاتی ہیں۔ سکول کی پرنسپل صاحبہ اورسسٹر لوسی نے نہایت پرتپاک استقبال کیا اور سکول کے مختلف مقامات کی سیر کرائی۔ ہر ہر موڑ پرہمیں کوئی نہ کوئی قصہ کوئی نہ کوئی کہانی یاد آتی رہی۔ دیوار ِگریہ سے کچھ فاصلے پر واقعہ گراؤنڈ میں ہم نے زندگی کی پہلی ”سیک ریس“یعنی بوری ریس دوڑی ۔ اسی ریس میں ہم پہلی مرتبہ ہی فرسٹ آئے اور عین فنشنگ لائن عبور کرتے ہوئے ہم پہلی مرتبہ ہی دھڑام سے گرے اور زندگی میں پہلی مرتبہ ہمارا بازو بھی اسی مقام پر ٹوٹا۔دوسری مرتبہ ہمارا بازو پتنگ اڑاتے ہوئے چھت سے گرنے پرٹوٹا۔ چنانچہ ایک طویل عرصہ تک ہمارے بچپن کی تمام ”وارداتوں“کازمانہ متعین کرتے ہوئے والدہ محترمہ ہمیشہ ہمارے پہلی اوردوسری مرتبہ ٹوٹنے والے بازوؤں کا حوالہ ضرور دیاکرتیں۔
مگر دومرتبہ بازو ٹوٹنا کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ ہمارے کزن حامد محمود آف حامی کا بازو ہر سال تقریباً ڈیڑھ دو مرتبہ ضرورٹوٹتاہے۔ اس کی ہڈیوں میں اب تک لوہے، سیمنٹ اورغالباً بجری وغیرہ کی آمیزش اس قدر زیادہ ہوچکی ہے کہ آپ ان میں سے اچھا خاصا بلڈنگ میٹریل نکال کر کسی بہتر مصرف کے لئے وقف کرسکتے ہیں۔ ہمارے دوست مبالغہ نویس صاحب اکثر کہاکرتے ہیں کہ فلاں بات اس سن کی ہے جس میں حامی# کابازو فقط ایک بارٹوٹا تھا!!
ساہیوال یاترا ابھی جاری ہے اور ہمارا اگلا پڑاؤ ہڑپہ کے آثار ِ قدیمہ ہوں گے جن پرہم چند اہم باتیں وزیراعلیٰ پنجاب کے گوش گزار بھی کرنا چاہیں گے۔ پھر اس مختصر سفرنامے کے آخر میں ہم تیسری قسط ضلع ساہیوال کی انتظامی اور سیاسی صورتحال میں رونما ہونے والی چند خوشگوار تبدیلیوں کی نذر بھی کریں گے، خدا ہمیں جلد توفیق بخشے،آمین۔
تازہ ترین