آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار یکم ربیع الثانی 1440ھ9؍ دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن (مرتضیٰ علی شاہ) برطانوی سیاست میں میرٹ کی بنیاد پر عروج حاصل کرنے پر گزشتہ دنوں برٹش ایشیائی باشندوں نے وزیر داخلہ ساجد جاوید کے ساتھ جشن کا اہتمام کیا، جس میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے کنزرویٹو پارٹی کے دوستوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جشن کا اہتمام سینٹرل لندن کے شیراٹن گرانڈ ہوٹل میں کیا گیا تھا، تقریب میں شریک بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے کم وبیش350 جنوبی ایشیائی باشندوں نے گانے گا کر اور تالیاں بجا کر یک زبان ہو کر ساجد جاوید کو مبارکباد دی۔ ساجد جاوید نے اپنی برطانوی نژاد اہلیہ، اپنی والدہ اور بچوں کے ہمراہ اس تقریب میں شرکت کی۔ کنزرویٹو پارٹی کے چیئرمین برینڈن لیوس، سر مک ڈیوس، لارڈ ہوورڈلیف، لارڈ دلجیت رانا، کنزرویٹو پارٹی کی نائب سربراہ ہیلن گرانٹ، بزنس ڈپارٹمنٹ کے وزیر رچرڈ ہیرنگٹن، رکن پارلیمنٹ نصرت غنی، ایلن میک، این مین، وینڈی مورٹن، رکن یورپی پارلیمنٹ ڈاکٹر سجاد حیدر اور مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی دیگر اہم شخصیات نے تقریب میں شرکت کی، کنزرویٹو فرینڈز آف پاکستان اور بیسٹ وے گروپ کے چیئرمین ضمیر چوہدری نے ساجد جاوید کی فیملی کو خراج تحسین پیش کیا اور اس اہم ترین کامیابی پر انھیں مبارکباد دیتے ہوئے ایشیائی کمیونٹی کیلئے

کنزرویٹو پارٹی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کا عہدہ برطانیہ کے تین اہم عہدوں میں سے ایک ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ ساجد جاوید کو میرٹ کی بنیاد پر اس عہدے پر فائز کیا گیا۔ ضمیر چوہدری نے کہا کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں اور ایشیائی باشندوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ساجد جاوید نے انتہائی سخت محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر یہ عہدہ حاصل کیا، کنزرویٹو فرینڈز آف انڈیا کے شریک چیئرمین ڈاکٹر رامی رینجر نے کہا کہ انھیں اس بات پر خوشی ہے کہ ایک ایشیائی سیاستداں کی کامیابی کی خوشی منانے کیلئے جنوبی ایشیائی عوام ایک جگہ جمع ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ساجد جاوید کا تقرر برطانیہ میں موجود تنوع کی پالیسی کی کامیابی کا ثبوت ہے، جہاں اس کو قبول کیا جاتا ہے، اس کا احترام کیا جاتا ہے اور قانون کے تحت اس کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ انھوں نے ایشیائی باشندوں پر زور دیا کہ وہ کنزرویٹو پارٹی میں شمولیت اختیار کریں کیونکہ ایشیائی باشندوں اور کنزرویٹو پارٹی کی اقدار یکساں ہیں۔ کنزرویٹو فرینڈز آف بنگلہ دیش کے وائس چیئرمین بجلور راشد ایم بی ای نے ایشیائی کمیونٹی اور تنوع اور برطانیہ کے ساتھ ہم آہنگی کی کامیابی پر زور دیا۔ کنزرویٹو فرینڈز آف پاکستان کی احمرین رضا نے کہا کہ ساجد جاوید کا تقرر اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانیہ میں میرٹ اور صلاحیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ساجد جاوید کا تعلق ایک پسماندہ پس منظر سے ہے، وہ اس پس منظر سے تعلق رکھنے والے ایک معمولی بس ڈرائیور کے بیٹے ہیں، جنھوں نے اس ملک میں موجود ایشیائی باشنے کے طور پر محنت کی اور اس حوالے سے اپنا کردار ادا کیا۔ انھوں نے حکومت میں اپنے سابقہ عہدوں اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور قیادت کی اس سطح تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، ہم سب ان کے اس عروج اور ترقی پر شاداں ہیں۔ وزیر داخلہ ساجد جاوید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ کی ایشیائی کمیونٹیز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے بچوں کی کامیابی کیلئے ان کے والدین اور سرپرستوں کی جانب سے کی جانے والی محنت اور تگ ودو کی تعریف کی۔ انھوں نے بتایا کہ میرے والدین1961 کی ایک سرد اندھیری رات کو ہیتھرو ایئرپورٹ پر اترے تھے تو ان کے پاس صرف ایک پونڈ اور ان کے دل میں خود اپنے اور مستقبل کی نسل کو ترقی دلانے اور ایک بہتر زندگی سے ہمکنار کرنے کا عزم موجود تھا۔ ساجد جاوید نے کہا کہ میرے والد نے روچڈیل میں تانبے کے ایک کارخانے میں ملازمت سے یہاں اپنی زندگی کا آغاز کیا اور اس کے بعد مانچسٹر میں بس ڈرائیور کی حیثیت سے ملازمت کی، وہ مسٹر نائٹ اور ڈے کے نام سے مشہور تھے، کیونکہ وہ شب و روز کام کرتے رہتے تھے، انھوں نے کچھ سرمایہ جمع کیا اوراپنا ایک سٹور کھول کر کپڑے فروخت کرنا شروع کردیئے، جو میری والدہ کچن کی ٹیبل پر تیار کرتی تھیں، جب میں4 سال کا ہوا تو میری فیملی کی قسمت میں کچھ تبدیلی آنا شروع ہوئی، ہم برسٹل میں سٹیپ لیٹن روڈ پر منتقل ہوگئے، جسے ڈیلی مرر نے برطانیہ کی انتہائی خطرناک سڑک قرار دیا تھا، یہاں میرے والد نے قیصر فیشنز کے نام سے اپنی پہلی دکان کھولی اور کسی رشوت یا کرپشن کے ذریعے نہیں بلکہ ان کی محنت کے طفیل میں اور میرے تمام بھائی اپنی پسند کا کیریئر اختیار کرنے کے قابل ہوگئے۔ انھوں نے کہا کہ اوائل عمری ہی میں مجھے یہ ذہن نشین کرا دیا گیا تھا کہ ایشیائی اپنی اگلی نسل کو دولت نہیں بلکہ اپنی اقدار منتقل کرنے میں ہی یقین رکھتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں