• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی سے خبر ہے کہ ایک حکومتی عہدیدارنے پانی کے بحران کا جرات، نظم وضبط اور صبرسے سامنا کرنے پرشہر کے باسیوں کی تعریف کی ہے۔16ستمبرکے اخبارات کیلئے جاری ہونے والے اس بیان میںان افرادپر تنقیدبھی کی گئی جو پانی کا مین پائپ پھٹنے سے پیدا ہونے والے بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مہنگے داموں پانی بیچتے رہے۔پانی کے پائپ کے ڈالے جانے کے صرف دس ہی سال بعد پھٹنے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ایسا پھر بھی ہوسکتا ہے ۔اسی لیے تجویز کیا گیا کہ کراچی کو پانی فراہمی کے منصوبہ کے پہلے اور دوسرے مرحلہ میں مضبوط پائپ ڈالے جائیں تاکہ کراچی پھر سے پانی کے بحران کا شکار نہ ہو۔پانچ روز بعد یعنی 21 ستمبر کے اخبارات میں بحران میں کمی کا عندیہ ملا مگر یہ بتاتے ہوئے کہ بعض علاقوں سے اب بھی پانی کی کمی اور کم دباو کی شکایات مل رہی ہیں،خاص طورپر فیڈرل بی ایریا اور پی ای ایس ایچ سوسائٹی سے جہاں پانی کی فراہمیپہلے بھی اطمینان بخش نہیں تھی۔

آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ تومعمول کی بات ہے۔مانا، مگرمعززقارئین یہ خبریں پچاس سال پہلے کی ہیں جو ایک معاصرکے انتخاب کی بدولت ہم تک پہنچیں۔ نصف صدی بعد حالات بہتر تو کیا ہوتے اور بگڑ گئے۔ پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں مجموعی قومی آمدنی کا سب سے کم حصہ، صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کیلئے خرچ کیا جاتا ہے۔ درماندگی اور بے بسی ایسی کہ سمندرکنارے آباد شہر کی آدھی آبادی اکثر پیاسی رہتی ہے۔کراچی کو پانی کینجھر جھیل اور حب ڈیم کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے مگر وہ بھی پورا پہنچے تو مسئلہ ایسا شدید نہ ہو جیسا کہ ہے۔کھارے پانی کو میٹھا بنانے کا کوئی منصوبہ نہ بنائے جانے کی وجہ سے پانی کی شدید قلت ہے ، غیرمنصفانہ تقسیم اور یومیہ 4سے 5کروڑگیلن پانی کی چوری اس پر مستزاد۔ چوری شدہ پانی مہنگے داموں بکتا ہے۔کراچی کو ملنے والے تقریباً 70 فیصد پانی میں مائیکرو بائیالوجیکل آلودگی کا تو ذکر ہی کیا۔دوسری جانب شہر میں سیوریج کا نظام درہم برہم ہے۔کہا جاتا ہے کہ کبھی کراچی کی سڑکیں رات کو دھلا کرتی تھیں اور اب یہ حال ہے کہ بعض اوقات لاش کو غسل دینے کیلئے فوری پانی دستیاب نہیں ہوتا۔غریب علاقوں میں مرد ملازمت پر نکل جاتے ہیں۔ پانی بھرنے کی زیادہ تر ذمہ داری خواتین اور بچوں پر عائد ہوتی ہے جنہیںگھر کے دیگر معاملات کے ساتھ پانی کے ایک ایک گلاس کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ مگر ایسا کراچی تک محدود نہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق پاکستان کی صرف 15 فی صد آبادی کو پینے کا صاف پانی ملتا ہے۔ ترقی معکوس اسی کو توکہتے ہیں۔پانی کا ذکر شایدطویل ہوگیا ہو مگر ایسا ہونا ناگزیر تھا۔اس اہم ترین وسیلہ کی فراہمی ہی سے ترقی کا اشارہ ملتا ہے۔تہذیب کو چہرہ بھی اسی سے میسر آتا ہے۔آئیے منظر وسیع کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقی (یو این ڈی پی) کے تازہ اشاریہ میں، 189 ممالک میں سے، جن میں انسانی ترقی کا جائزہ لیا گیا،پاکستان 150 ویں مقام پرہے،یعنی جنوبی ایشیا میں صرف افغانستان ہی سے آگے۔اقوام متحدہ کی یہ سالانہ رپورٹ انسانی ترقی کے اشاریوں کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے۔ طویل اور صحت مند زندگی، تعلیم تک رسائی اور اچھا معیار زندگی کسی بھی ملک میں بنیادی انسانی ترقی کے شعبہ میں کامیابیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ’انسانی ترقی کا اشاریہ اس بات پر زور دینے کیلئے تیار کیا گیا ہے کہ کسی ملک کی ترقی کی آخری کسوٹی اس کے لوگ اور ان کی صلاحیتوں کو ہونا چاہیے، نہ کہ اسے صرف اقتصادی ترقی سے ناپا جائے۔وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں ہوتا مگر اس کے اس میں رہنے والوں کے جسم اور روح سے عبارت ہونے کے کچھ لوازمات ہیں۔ انسانی ترقی کے شعبے میں پس ماندگی ہماری شرح نمو اور آمدنی کے معیار پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ہم نے کبھی اپنے لوگوں پر زیادہ خرچ نہیں کیا۔سری لنکا اپنے شہریوں پر خرچ کرنیوالے ملک کی بہترین مثال ہے جو اب کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی خانہ جنگی سے نمٹنے کے بعد اس سرمایہ کاری کے ثمرات سے مستفید ہو رہا ہے۔ سری لنکا میں اوسط عمر، وہاں فی ہزار نومولود بچوں میں شرح اموات، زچہ کی اموات کی شرح، مجموعی شرح خواندگی ، نوجوانوں میں شرح تعلیم جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کیلئے قابل تقلیدہے۔ اس ملک میںزیادہ تر آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہے۔ کسی ملک کی پالیسیوں کی کامیابی کا اندازہ اس کے شہریوں کی اچھی زندگی ہی سے ہوتا ہے۔ لوگ تعلیم یافتہ اور صحت مند ہیں اور ان کا معیار زندگی بھی معقول ہے تو ان کا ملک، ان کی ریاست کام یاب ہے۔انسانی ترقی کے بغیر بلند شرح نمو بھی برقرار رہنا ممکن نہیں ہوتا۔افراد ہی کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیرہوتی ہے۔افراد اپنے جسم وجاں کا رشتہ ا چھے طور پر قائم رکھ سکیں، اسی میں ملک کا، وطن کا بھلا ہے۔

مدر تھریسا کا قول ہے کہ’ گزشتہ کل گزرچکا۔ آئندہ کل ابھی نہیں آیا۔ ہمارے پاس صرف آج ہے۔ آئیے آج سے شروع ہوجائیں۔ اس سے پہلے کہ آج سے پچاس سال بعد بھی آج کے اخبارات ایسی خبریں ہمارا منھ چڑا رہی ہوں۔

تازہ ترین