آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں چار طرح کی ریاستیں ہیں۔ طاقتور، امیر، کمزور اور ضرورتمند۔ نہ ہر طاقتور امیر ہے نہ ہر ضرورت مند غریب، امریکہ واحد ریاست تھی جو بیک وقت طاقتور تھی اور امیر بھی۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک امیر ہونے کے باوجود کمزور تھے اور انہیں اپنی حفاظت کیلئے کسی طاقتور کی سرپرستی درکار تھی۔ جب پاکستان وجود میں آیا تو یورپ کا سورج غروب ہو چکا تھا۔ امریکہ دور دراز اور سمندروں میں گھرا ہونے کی وجہ سے اپنی وسعت اور قدرتی ذرائع کے ساتھ دونوں جنگوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صنعت و حرفت کے علاوہ جنگی سامان پیدا کرتے ہوئے تیزی سے ترقی کرتا ہوا بیک وقت طاقتور اور امیر ہو گیا اور دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر وہ ایٹمی قوت بھی بن چکا تھا چنانچہ ناقابل تسخیر قرار پایا۔ اس کے پہلو بہ پہلو روس انگڑائی لے کر اٹھا، اس نے عالمی افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایٹم بم بنا کر امریکہ کی اجارہ داری ختم کردی لیکن اس کی دفاعی صنعت امریکہ کے مقابلے میں کمتر تھی۔ دولت و امارت میں وہ امریکہ کے پاسنگ نہ تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ہماری قیادت نے امریکہ کی چھتری تلے پناہ تلاش کی۔ اس لئے کہ نوزائیدہ پاکستان کو ایک دن کا وقفہ دیئے بغیر بھارت نے اس کے خلاف اقتصادی اور فوجی جارحیت کا آغاز کر دیا تھا چنانچہ امریکہ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا فیصلہ مجبوری یا ضرورت کے ساتھ بالکل درست اور صائب تھا۔ برطانیہ کی کالونی ہوتے ہوئے ہمارے ملک کی تعمیر، ذہنی ساخت اور انتظامی نوعیت ایسی تھی کہ امریکہ کے ساتھ ہماری قیادت زیادہ اطمینان محسوس کرتی۔ امریکہ دولت مند تھا اس کی صنعت ترقی یافتہ اور اسلحہ قابل اعتماد، اس کے خزانے بھرپور، چنانچہ وہ ہماری اقتصادی اور فوجی ضروریات کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتا تھا۔

اس کے برعکس روس ہمارا قریب کا ہمسایہ ہونے کے باوجود دولت و ثروت میں ایسا نہ تھا کہ ہماری اقتصادی مدد کرسکتا۔ اس کا اسلحہ امریکہ اور یورپ کے اسلحے کے مقابلے میں کم تر تھا چنانچہ ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹا ملک ہونے کی وجہ سے ہمیں بہتر اور کارگر ہتھیاروں کی ضرورت تھی۔ روس کا ایک منفی پہلو یہ تھا کہ اس کے اسلحہ کے ساتھ اس کا کمیونزم نظریہ کی شکل میں چھائونیوں کے اندر پہلے داخل ہو جاتا تھا۔ وہ دوستی کا پاس کئے بغیر دوست ریاست کو کمیونسٹ بنانے میں جارحانہ پیشرفت کرتا۔ وہ پہلے ہی ایک درجن مسلم ریاستوں کو ہڑپ کرچکا تھا۔ اس کی نظریں ایران اور افغانستان پر بھی لگی ہوئی تھیں چنانچہ پاکستان کیلئے ایک حد تک واحد ترجیح امریکہ کا تعاون حاصل کرنا ہی باقی رہ گیا۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ ہم بھی انڈیا کی طرح غیر جانبدار رہ سکتے تھے لیکن ہماری فوری ضرورتیں، کمزوریاں اور انڈیا کی جارحیت ہمیں غیر جانبدار رہنے کا موقع دینے کو تیار نہیں تھیں۔ بعد کے واقعات نے بانیان پاکستان کے فیصلے کو درست ثابت کردیا۔ جب روس وسط ایشیائی ریاستوں پر اپنا غلبہ مکمل کرنے کے بعد 1979ء میں افغانستان پر قابض ہونے کیلئے اپنے بے پناہ افواج کیساتھ چڑھ دوڑا۔

آج زمینی حقائق پوری طرح تبدیل ہوچکے ہیں بلکہ یہ حقائق بیس برس پہلے بدل چکے تھے مگر ہماری فوجی اور سیاسی قیادت اس کا ادراک نہیں کرسکی اور بلا ضرورت امریکی کھونٹے سے بندھی رہ گئی۔

ضیاء الحق آخری آدمی تھے جب امریکہ ہماری اور ہم امریکی ضرورتیں پوری کرچکے۔ دونوں اب آزاد تھے لیکن بینظیر، نواز شریف، مشرف، زرداری اور نواز شریف اس کا ادراک نہ کرسکے کہ وہ امریکی کھونٹے سے بندھے ہوئے نہیں، لہٰذا وہ اپنی راہ لینے میں کامیاب نہ ہوئے۔ آج پاکستان کی قیادت سیاسی ہے یا عسکری اس نے امریکی کھونٹے سے آزادی کا فیصلہ کرلیا ہے تو عالمی حالات، واقعات اور حقائق بھی بڑی حد تک تبدیل ہوچکے ہیں۔

طاقتور، دولت مند، فیاض امریکہ اپنی حیثیت کھو چکا ہے۔ اب وہ طاقتور ہے، فیاض نہ دولت مند بلکہ بچی کھچی طاقت کے ساتھ غنڈہ گردی پر اتر آیا ہے۔ اب وہ حفاظت کرنے اور فائدہ پہنچانے والے کردار کو چھوڑ کر لوٹ لینے اور نقصان پہنچانے کے کردار کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔ وہ اسی کردار کے ساتھ اگلے چند برس عالمی منظر پر نظر آتا رہے گا جس کے اسلحہ خانوں میں ابھی تک ہلاکت خیز ہتھیار رکھے ہیں۔ جس کی طاقتور اور بڑی خفیہ ایجنسی ’’سی آئی اے‘‘ دنیا کے اکثر دارالحکومتوں میں موثر اور تربیت یافتہ خفیہ ایجنٹ رکھتی ہے جو بعض حکومتوں کے تختے الٹ سکتے ہیں اور ریاستوں میں دہشت گردی کے ساتھ افراتفری پھیلا سکتے ہیں یا اپنی کارندہ ریاستوں کی مدد سے (اسرائیل، انڈیا وغیرہ) نقصان پہنچانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ وہی امریکہ جو غریب ملکوں کی مدد کرتا اور کمزوروں کا سہارا ہوا کرتا تھا، جس کی افواجِ بے پناہ کے سامنے ہر ایک کا پِتّہ پانی تھا، ویت نام میں عبرتناک شکست کے بعد اب افغانستان سے بھاگ نکلنے کیلئے راہ کی تلاش میں ہے۔ جسے اپنی ریاست کو چلانے کیلئے خرچ کئے جانے والے ہر ڈالر میں آدھا ڈالر چین کی طرف سے ملنے والے ادھار کا ہے جس کا صدر اپنے سابقوں کے دبدبے کا نقاب اوڑھے اپنے ملک میں صنعت کا پہیہ چلانے اور بیروزگاروں کو روزگار دینے کیلئے سعودی عرب اور قطر کے دارالحکومتوں میں اپنی بندوقیں اور کارتوس بیچتا نظر آتا ہے۔ اس وسعت میں بھی اس کی عیاری کا یہ عالم ہے کہ سعودی اور قطری ڈالروں کے عوض وہ تیسری قسم کا ناکارہ اسلحہ اپنے گاہکوں کو فراہم کر کے انہی کی بخشی ہوئی دولت کے منافع سے بنائے گئے بہترین ہتھیار اپنے غنڈوں کو مفت فراہم کرے گاجو ان سونے کی مرغیوں کو ڈربے میں بند رکھنے کیلئے اس کی مدد کریں گی۔

حقائق تبدیل ہو گئے۔ امریکہ نے پہلوان کی جگہ غنڈے کا روپ دھار لیا۔ ملکوں کی مدد کرنے کے بجائے عراق، لیبیا اور شام میں مال غنیمت کی تلاش کیلئے سرگرداں ہے۔ پاکستان کبھی کمزور تھا اب اسے اپنے دشمن ہندوستان کی کوئی پروا نہیں۔ فوجی ضروریات میں خود کفالت حاصل کررہا ہے جس سے امریکہ نے ہمیشہ اسے محروم رکھا اور اپنا دست نگر بنائے رکھنے کی کوشش کی۔ پاکستان ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہے، چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری نے اسے اپنے دشمنوں پر برتری دلا کر ہر قسم کی جارحیت کے خطرے سے بے نیاز کر دیا ہے۔ امریکہ کے بڑے گاہکوں (کلائنٹ) پر اس کی طاقت و امارت کا بھرم کھل چکا ہے وہ اس کی سازش و عیاری کو سمجھنے لگے ہیں کہ کس طرح اس نے ہر علاقے میں غنڈوں کا جتھہ بنا رکھا ہے جس کی مدد سے وہ اپنے دوستوں پر مستقل دھونس جمائے رکھتا ہے۔ آج ہر ایک کے پاس چین اور روس ایک قابل اعتماد متبادل کے طور پر موجود ہیں۔ آج روسی اسلحہ شاندار اور سستا ہے اس کی جارحانہ کمیونزم ختم ہوچکی ہے۔ روس نے جیو اور جینے دو کی حکمت عملی اختیار کرنا شروع کردی ہے۔ چین دوستوں کو دست نگر رکھنے کے بجائے ان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے خود کفیل بنانے کی راہ پر ہے۔

پاکستان کیلئے امریکہ پہلی، دوسری ترجیح کے طور پر باقی نہیں ہے۔ ہمیں اس کے ساتھ ہوشیاری سے بنائے رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔ اس کی دوستی کے فریب میں آکر غافل ہونے کا نتیجہ ضیاء الحق کے انجام کا سا ہے۔ اب ہمارے اور امریکہ کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ امریکہ کے بزرگ اور زیرک سفارتکار فلسفی ’’ہنری کسنجر‘‘ کی یہ بات سوبار درست ثابت ہو چکی کہ امریکہ کی دشمنی اتنی خطرناک نہیں جتنی کہ اس کی دوستی ہلاکت خیز ہے۔

ہمیں اپنے گرد دوستوں کا حصار بنانا ہے، دشمنوں سے چوکس اور امریکہ کی دوستی پر شک کی نظر رکھنا ہوگی۔ یہی رویہ ہماری قومی سلامتی کا ضامن بنے گا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں